Sunday, January 6, 2013

دندان ساز

دندان ساز

میں خواہشوں کو کسک کی طرح
ہلکی آنچ پر سلگنے کی کیفیت سمجھتا تھا۔۔
قدرت کے مسلط کردہ رشتے ۔۔۔
چھوت کا مریض سمجھ کر دُور رہنے لگے
نفسیات دان میری بات سمجھنے سے قاصر تھے۔۔
طبیب نسخوں میں اپنے خالی ذہنوں کی طرح

 خالی کاغذ ہی پیش کرپاتے تھے۔۔
دسمبر کی خنک راتیں جذبات میں سردلُو لگنے سے گھبرا کر
کھڑکی سے آتش بازی کا نظارہ کرتے ہوئے
سینے میں برانڈی کی کمی کا احساس جاگنے ہی نہیں دیتی تھیں
امیدوں کا سورج آج چھ دنوں میں ہی سال خوردہ بوڑھے کی طرح
دوہری ہوتی ہوئی کمر پر دلاسے کی گٹھری لادے
بوجھ سے اکتا کر ہانپتا کانپتا دورکسی گاؤں کی طرف
 پیروں میں روز و شب کچلتا ہواچلا رہا ہے۔۔
تعلق کے بے انت سمندر میں اپنا وجود
لمس کی شعلگی کو دان کرنے کی خواہش نے 
نئے سورج کو خوش آمدید کہامگر۔۔۔
نئے سال کی کروٹیں حجلۂ محرومی میں۔۔۔
تعلق کے بستر پر شکنیں گننے میں

 مصروفیت کا رونا رونے لگی تھیں۔۔۔
اعصاب چٹخا دینے والی بلغم آلود کھانسی
رگوں سے خون کا دورانیہ کم کرتے ہوئے
رتجگے میں فرنگی زبان میں

 نظم لکھنے کا شرف حاصل ہواتو
روح کے طبیب نے نظم سن کر

 کمال ہنرمندی سے کہا۔۔پاگل ۔۔
’’خواہشیں دانت کے درد کی طرح ہوتی ہیں ‘‘
  جب دانت میں درد ہوتا ہے ناں

 تو زندگی عذاب ہوجاتی ہے
 حل صرف یہی ہے کہ

 خراب دانت کو نکال دیا جائے۔۔
اب میں اپنے ماہردندان ساز سے کیسے کہوں کہ
خواہشوں کا دانت اور آنت سے دور کا علاقہ نہیں۔۔
یہ رگوں میں سرطان کی طرح ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔۔
اور سرطان تو سرطان ہی ہوتا ہے۔۔

م۔م۔مغل  ؔ۔
6/1/13

1 comment:

  1. دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
    میں نے یہ جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

    اس سے زیادہ کچھ کہہ نہیں سکتا

    ReplyDelete