Tuesday, December 13, 2011

خلجان سپردِ قرطاس ------ میری ڈائری کا ایک ورق

:کتھارسس:
آج نہ میں آیا ہوں نہ میرا بھوت نہ میرا ہمزاد۔۔۔ ۔

میں ایک خالی آدمی ہوں خالی گھر کی طرح جو ۔۔سائیں سائیں کرتا ہے۔۔

جو، رو نہیں سکتا۔۔ جس کا سینہ چھلنی بھی ہوجائے
 تو سانس کی دھونکنی چلتی رہتی ہے۔۔۔ 
میں ان لوگوں میں سے ہوں جو شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں ۔۔
جو ہزاروں الفاظ کے مرقع سے اپنے لیے صرف دکھ کشید کرتے ہیں۔۔
میں وہ ہوں جو سینے کے جہنم کو بجھنے اس لیے نہیں دیتا
کہ اس آگ کی لذّت ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔۔
میں کسی کو بھی ناخن برابر دکھ نہیں دے سکتا مگر دکھ کا اظہار بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔ 
کہ میرے اظہار سے میرا داخلی وجود کھوکھلا نہ ہوجائے ۔۔۔ 
میں معاشرت کے قابل کبھی نہ رہا تھا نہ اس منصب کا اہل ہوسکتا ہوں۔۔
مجھ ایسے کے لیے باہر کا شور اندر کے شور سے ملنا بھی کفر ہے۔۔
میں اسے شرکِ کیفیّت سمجھتا ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔۔
میرے نزدیک کشیدہ خاطر ہونا اور کبیدہ خاطر ہونا ایک ہی بات ہے ۔۔
میں اپنے ہمزاد سے گھبرا جاتا ہوں اس کا سینہ بھی میری طرح چھلنی ہے۔۔۔ 
میں اپنے ہونے کے جواز سے یکلخت محروم بھی ہوں۔۔۔ 
اور اسی جواز کے سائے میں جینا بھی چاہتا ہوں۔۔۔ 
میں دکھوں کو پھول سے عبارت کرتا ہوں اور خوشی کو کانٹوں سے۔۔۔ 
میں ایک شاعر ہوں تیسرے درجے کا سہی مگر
 میں سمجھتا تھا کہ لفظ کیفیات کے آئنہ دار ہوتے ہیں۔۔
میں آج اپنے جہل کا اعتراف کرتا ہوں کہ لفظ محض فضلہ ہوتے ہیں ۔ ۔۔
ان کی کوئی حقیقت کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔۔۔ 
میں خود کو بہت مضبوط خیال کرتا تھا۔۔۔ 
مگر یہ میری خام خیالی ہی تھی ۔۔۔ 
میں بھی ٹوٹ جاتا ہوں ۔۔
میں بھی چٹخ جاتا ہوں۔
میں بھی درک جاتا ہوں۔۔۔ 



میں اس شعر کی طرح ہوں:


باہر سے جا ملا مرے اندر کا انتشار !!

اپنے خلاف میں نے بھی پتھر اٹھا لی
(شاعر کا نام ذہن سے محو ہے)

مورخہ: 13 دسمبر 2011 سہ پہر

2 comments:

  1. بڑے لوگو
    امید ہے آپ چڑھتے سورج کے پجاریوں کی طرح فدوی کو نہیں بھولے ہو گے

    http://jogidadera.blogspot.com/

    آپ کا چھوٹا

    ReplyDelete
  2. پیارے شہزادے میں جس سے بھی ایک بار ملتا ہوں اسے نہیں بھولتا تم تو میرے اپنے ہو میرے چھوٹے ۔۔

    ReplyDelete