Tuesday, October 25, 2011

”خواب اور تجربے“ ۔۔ از شاہد حمید

معاملہ ہے جو درپیش‘ہے وہ پیشِ نظر
کوئی مثال نہیں دوسری مگر ہے بھی


یہ وہ زمانہ ہے کہ اپنے احوالِ ناگفتہ بہ پر شکوہ سنج زمانہ بھر ہے۔ زمانہ معاشرے یا معاشروں کے اجتماعی وجودوں سے متشکل ہوتا ہے۔ آسانی سے یہ بات اِس طرح بھی قابلِ فہم کہی جا سکتی ہے کہ گویا ہر معاشرے کا ہر فرد شکوہ سنجی کی تصویرِ فردِ عمل بنا ہُوا ہے۔ یہ زمانہ کس کا ہے، یہ ہمارا زمانہ ہے یعنی گذشتہ زمانوں کا جدید تر زمانہ موجودہ زمانہ۔ موجودہ زمانہ منافقانہ روش کا زمانہ ہے، بے حسی کا زمانہ ہے، ابن الوقتی کا زمانہ ہے، جدید تر سائنسی ایجادات و اختراعات کی بے کراں اور بے کنار فرادانی کے باوجود اور تسخیرِ کائنات کی زمینی و آسمانی صداقتوں کی کُھلی نشانیوں کے باوجود بد حالی، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی بد اعمالیوں کی یلغار کا زمانہ ہے، بے چہرگی کا زمانہ ہے۔ زمانہ ہم سے ہے اور ہم زمانے سے ہیں تو پھر اپنے حال پر صرف اور صرف شکوہ سنجی اور نوحہ گری کا جواز کیا معنی رکھتا ہے۔ بہ ہر صورت شکوہ سنجی اور نوحہ گری اگر کوئی ہمارے لئے زینتِ خاص کا درجہ رکھتی ہے تو اِس زینتِ خاص کی زیبائی کے لئے گردن و دوش کسی جہانِ دگر کی مخلوقِ نامانوس و ناشنا سا کے نام کرنا عقلی، منطقی اور حقیقی فعل کے مترادف کہلایا جا سکتا ہے، ہر گز نہیں۔ قریباً سارے غیر تخلیقی وجود (عامتہ الناس) اپنی اپنی سطح پر ناآسودہ حالی، بے یقینی اور بے اعتباری کا نوحہ پڑھ رہے ہیں اور قریباً تمام تخلیقی و غیر معمولی وجود خلاقانہ جوہرِ بے اختیار و اختیار کی رو میں اپنے اپنے علم، خیال، مشاہدہ اور تجربے سے گزرتے ہو۔ خانماں برباد احوالِ زندگی کی اپنی اپنی اظہاری مثالیہ میں زندہ ہیں۔ زندہ ہیں بھی کہ نہیں، یہ قضیہ الگ ہے۔ ہمارا زمانہ تیز رفتار و بے لحاظ چال کا زمانہ ہے، ٹھہر کر سوچنے اور غور کرنے کی فرصت کسے میسر ہے یا کون تفکر و ارتکاز کی عرق ریز اور جان لیوا تنہائی کو پیہم اپنے وجود پر اُتارنے کے گناہِ بے لذّت مثال تجربے سے گزر رہا ہے۔ انسانی تاریخ کے سر سری مطالعے سے یہ نکتہ پوری صراحت سے نہ سہی، فکری تاثر سے بھی قابلِ فہم ہے کہ بامعنی زندگی نظم و ترتیب کے حُسن کار اساسی نظری رویّوں سے ظہور کرتی ہے اور اس کے لئے عام فرد کا کردار عمومی ہونے کے باوجود بہ لحاظ معاشرتی فرد اہم کڑی متصور کیا جاتا ہے، کجا کہ تخلیقی و غیر معمولی افراد کی اہمیت و افادیت، غیر اہمیت و غیر افادیت سے مس ہو جائے تو خلاءکی ہیبت ناکیوں کے حشر ساماں احساس سے بڑا المیہ روئے زمین پر اور کیا برپا ہو گا۔ سو ہم ابھی مکمل طور پر پاؤں اکھڑنے والی حالت کو نہیں پہنچے، ہماری تباہی آدھے راستے پر ہے، زمین پر ابھی ہمارا دم پوری طرح نہیں ٹوٹا۔ چاروں طرف گرد ہی گرد ہے مگر یہ گرد ہماری ہی عجیب ہمہ ہمی کی ہے، خوشی کی نہیں باطنی غم و غصّہ لہر کی ہے، اِس لہر کے دوش پر بہنے کی ہے، خارجی منظروں کو مصنوعی خوب صورتیاں دینے کی ہے، عالمِ روح کو برباد کرنے کی ہے، فطری مناظر سے گریز پائی کی ہے، فطری جذبوں، محسوسات اور جذبات کے تہذیبی اظہار سے خوف زدگی کی ہے۔ سطحی اور اُتھلی خواہشات کی تکمیل کے لئے ایک دوسرے کو پاو ¿ں تلے کچل کے گزر جانے کی ہے، فردیت کے بے سمت جنون کی ہے، انفرادیت کی بے مہار بالا دستی کی ہے، حاکمیت کے خوابِ بے جا کی ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں کا یہی حال ہے۔ تصورِ خیرِ اعلیٰ کے بغیر زندگی کرنا یا زندگی بسر کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے اندھیرے میں روشنی سے جُدا ہو کر سفر طے کیا جائے۔ پابرہنہ خیال و خوابِ اصل کی مسافت اور قیام کے عذاب اِس سے ماسوا ہیں۔

اِس عہدِ نا پُرسان و کم اعتبار کے ایک جدید فکری، نظری و تخلیقی میلانات و رجحانات کے نمائندہ شاعرِ معتبر اور مثالیہ تخلیقی تنقید نگار جاذب قریشی صاحب کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”خواب اور تجربے“ میرے پیشِ نظر ہے۔ جاذب صاحب کی دو برسوں میں مسلسل یہ تیسری کتاب ہے۔ مجموعی طور پر اِن کی تنقیدی کتابوں کی کل تعداد آٹھ بنتی ہے۔

آدمی جتنی بڑی سطح کی شخصی آزادی اور تشخصِ ذات کا حق چاہتا ہے اُتنی ہی بڑی سطح کی سماجی و معاشرتی، قومی و عالمی آداب و اخلاق و فرائض کی پابندیاں اختیار کرنے کے بعد ہی شخصی آزادی و تشخصِ ذات کی بڑی اور نمایاں سطح کے خواب کی تعبیر و حقیقت قابلِ تقلید و رشک آمیز حیثیت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ انسانی زندگی اپنی تاریخ میں ایسی روشن مثالوں سے خالی نہیں۔

جاذب صاحب کے نام اور کام سے آگاہی کا زمانہ میرے لئے ۷۳ برسوں پر محیط ہے۔ اِدھر گیارہ برس ہمارے درمیان شعر و ادب اور سلسلہ ¿ مطبوعات کی بنیاد پر مختلف النوع تجربات سے آراستہ گزرے ہیں۔ دیرینہ وابستگانِ ادب جاذب صاحب کو ۱۹۵۳ءسے شاعرانہ احوال میں دیکھتے آ رہے ہیں اور ۱۹۸۰ءکی دھائی کے اوّلین برسوں میں جاذب صاحب تخلیقی تنقید نگار کی حیثیت سے متعارف ہونے والے جاذب صاحب کی کی جدید تنقید و شاعری کی مطبوعہ کتب کا سلسلہ پھر ایک سیلِ نور کی طرح اپنے اعتبار، نفاذ و حصار کے دوش پر قومی و عالمی سرحدوں کو چُھوتا ہُوا اِس لمحے تک آگیا ہے۔

حقیقی اور سچّی گواہی، حقیقی اور سچّی آگاہی سے پیدا ہوتی ہے۔ غالب جیسے نابغہ روز گار و عظیم المرتبت جدید شاعر کی فکری و نظری بے کنار معنوی وسعتوں کے گہرے اثرات اور دیگر اردو زبان کے اہم نمائندہ شعراءو ادبا کے قدر بار تخلیقی کاموں کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہد کے خواص و عوام پر اپنی موجودی کا احساس اُجاگر کرنے میں جاذب صاحب کی زندگی بے رائیگاں جہد و عمل سے عبارت نظر آتی ہے۔ جاذب صاحب کی زندگی ایسی طویل ریاضتی داستان ہے کہ جس کا کوئی گوشہ صاحبانِ چشم و بصیرت سے کبھی مخفی نہیں رہا۔ جاذب صاحب پر گذشتہ و حال کے نہایت قابلِ ذکر نا قدین و مشاہیرِ ادب کی گراں مایہ زبانی و تحریری آراءصفحاتِ مطبوعات پر اور تقریباتی فضاو ¿ں میں یاد گار ہو گئی ہیں اور ابھی سیلِ نور کی طرح یہ سلسلہ تھما نہیں کہ زندہ تخلیقی وجود کا ہر لمحہ نقشِ امکانِ تازہ سے پیوستہ گزرتا ہے، جس کی مثال ”خواب اور تجربے“ کی یہ نئی کتابی شکل ہے۔

”خواب اور تجربے“ جاذب صاحب کی تخلیقی شخصیت کے مختلف الجہات معنوی تاثیر انگیز تفہیمی استعارے ہی نہیں بلکہ اُن کی عملی زندگی کے وہ حقیقی کلیے ہیں کہ جو جاذب صاحب کو بہ ذاتِ خود بے انت راہ و سفرِ تخلیق پر تازہ دم رکھتے ہیں۔

”خواب اور تجربے“ کے تین ابواب ہیں۔ ”سیّارے“، ”عکس“ اور ”شعاعیں“۔ تادیر اِن عنوانات میں پنہاں اختصاصی اور شناخت کے بے عیب دائروں کے رنگوں، منظروں اور احوال کو تجزیاتی لَو کی روشنی میں محسوس کرتا رہا کہ سچائی‘ تہذیب سے آمیز ہو کر فرد کی خلّاقانہ اظہاری انفرادیت کو کس نزاکت، کس احتیاط اور کس سلیقے سے پیش کرتی ہے۔

”خواب اور تجربے“ کے ابتدائی باب ”سیّارے“ کے اوّلین تین مضامین کے نقشِ تحریر بننے کے دوران جاذب صاحب سے کئی بار نشستیں ہوئیں‘ سماعتی دھیان کی یک سوئی بھی اہم تھی کہ اب کے تجرباتی تنقید نگاری کے حوالے سے جو مرحلہ جاذب صاحب کو درپیش رہا‘ وہ خالصتاً ادبی دیانت اور تقاضا ہائے استحقاق کی رُوحِ اعتبار کی اعلیٰ تر مثالوں میں رکھنے والا قابلِ ذکر وقوع پزیر مرحلہ تھا۔ میرے خیال میں جاذب صاحب کے بیشتر تنقیدی مضامین کسی نہ کسی ناگزیر صورتِ حال سے نتھی ہو کر یا مَس ہو کر معرضِ وجود میں آئے ہیں۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ اہم اور صاحبانِ استحقاق و توجہ طلب شعراءو ادباءپر اپنی حقیقی رائے اور تاثّری وفور کو بِلا اشاعتی مجبوری‘ بِلا تقریباتی کشش اور بِلا غرض و شہرت طلبی تحریری پیراہن عطا کیا جائے۔ اِس کتاب میں شامل کچھ مضامینِ ناقدانہ شاذ و نادر وقوع پزیر قابلِ تقلید اصل تخلیقی رویے کے ہی آئینہ دار ہیں۔

جاذب صاحب کا ابتدائی زمانہ ¿ تنقید نگاری نمایاں اور اہم تخلیق پیش قدم حلقہء قدر شناس کی ہمرہی سے منور تھا کہ جب جاذب صاحب نے اپنے اندرون کے تحرّکِ بے اختیار و بے ساختہ کی رَو میں خیال و تحریر اپنے نئے اظہاری ڈھب پر سمت آشنا کیا۔ معروضی و سماجی اعتبار سے پھر اُس کے بعد ایک اور نوع کا خلاءاِن کا رہ گزار بنا‘ اِس خلائے بے اعتبار میں مسلسل اور متواتر اَنتھک تنقیدی نگاری کی مسافرانہ ہوائے خیالِ نو کی رواں خوش قدم رفتار‘ حیات و کائنات کی ہر وادی ہر گھاٹی کے ظاہر و پوشیدہ منظروں کو جاذب صاحب کے علم و مشاہدہ و تجربہ و تخلیق کا حصّہ بناتی چلی گئی۔ جاذب صاحب کا خلّاقانہ جوہر تنقید کے ساتھ شاعری میں بھی ماضی و حال و مستقبل کے نقشِ تابندہ بناتا رہا ہے۔ سو مقدار و معیار کا یہ پیکرِ خوش نظر تخلیقی وجود پچاس سال سے زائد ادبی قد و قامت کی بلندی و برتری کو تقدیر کرتا ہوا ہمارے درمیان اب بھی نئے نئے طرز راستوں کی خواب و صورت گری کے مثالیہ کی طرح موجود ہے۔

مَیں اِس لمحے دانستہ اپنے معیارات و میلانات سے گندھے نظریات و افکار کے اظہار سے گریز برت رہا ہوں‘ ایسا نہیں ہے بلکہ جاذب صاحب کی شخصیت اور اِن کی اِس نئی کتابِ تنقید ”خواب اور تجربے“ کے حصار سے باہر قدم رکھنا ابن الوقت رویّہ تو ہو سکتا ہے‘ ادبی دیانت پر منتج نہیں کیا جا سکتا۔ سو اِس عمل کو حدِّ ادب و اختیارِ اصل کی نسبت سے دیکھنا اور محسوس کرنا نہ صرف میری ذمّہ داری ہے بلکہ فریضہ بھی کہ ”خواب اور تجربے“ کو مَیں اِس عہد کے حقیقی تخلیق کار کا نمائندہ تخلیقی تنقیدی کام سمجھتا ہوں۔

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
مُنہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
(میر)

بہ قول ساقی فاروقی ”جاذب! تم نے شاعری اور تنقید دونوں میں زبان و بیان کے کلیشے ہی کو نہیں توڑا بلکہ خیال و تجربے کے کلیشے کو بھی توڑا ہے۔“ اب اِس مرحلے پر میرے خیال میں ایک اضافت کے ساتھ یہ کہنا زیادہ موزوں رہے گا کہ ”خواب“ کے روایتی اظہاری کلیشے پر بھی جاذب صاحب نے کاری ضرب لگا کر اپنے سفرِ تخلیق میں خواب کی ایک اور نئی سمت کے تفہیمی امکانات کا دریچہ ہم پروا کر دیا ہے۔ مَیں اکثر جاذب صاحب  کے ساتھ مکالماتی فضا میں رہتا ہوں‘ مکالماتی دورانیہء وقت کبھی کبھی طوالت پر آیا ہے‘ قدم بہ قدم مسافتِ ہم رہی جاری رہنے اور میسّر خالص احوال سے دل کو تسلی رہتی ہے کہ جو بات آج مکمل نہیں ہوئی‘ اُس کے لئے اگلا امکانی لمحہ نتیجہ خیزی ضرور عطا کرے گا۔ ایک بات جو مَیں اِن سے بارہا کہہ چکا ہوں‘ اُسے یہاں تحریر کرنے کا حقیقی جواز بھی ”خواب اور تجربے“ کی کلیدِ تفہیم کی رَو سے اب زیادہ با معنی ہو گیا ہے یعنی جاذب قریشی کی تخلیقی تنقید نگاری اور ان کی جدید و منفرد شاعری کی لفظیاتِ خاص اور اظہاری پرتوں سے گرہ کشائی کا وہ کون سا وقت ہو گا اور وہ کون لوگ ہوں گے جو”پہان“، ”عکسِ شکستہ“، ”اُجلی آوازیں“، شیشے کا درخت“، ”نیند کا ریشم“، ”آشوبِ جاں“، ”شناسائی“، ”جھرنے“، ”آنکھ اور چراغ“، ”دوسرے کنارے تک“، ”میں نے یہ جانا“، ”شاعری اور تہذیب“، ”تخلیقی آواز“، اور اب ”خواب اور تجربے“ کے تخلیقی اظہاری رویّوں کو بے عیب اور بے داغ خیال کی روشنی میں دیکھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ یوں تو ایک گہری اور بڑی سطح سے آمیز بنیادی مرحلہ ءاعتراف و سپاس و خراج و تحسین کی کتابی صورت ”گواہی میرے عہد کی“ میں طے ہو چکا ہے۔ اصل اور مسلسل اعتراف کے حقیقی مرحلے کئی دائرے بناتے ہوئے ابھی اور گزریں گے۔ جاذب قریشی صاحب کی تخلیقی سچّائی سے معمور ”خواب اور تجربے“ میں اظہارِ ذات کی راہ ہم سب پر کُھلی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ کتاب رہ روانِ سخنِ عصر کا ہاتھ تھام کر منزل آشنا راہِ مسافتِ خیال کے معجز نُما موسمِ تازہ کی نیرنگیوں تک لے جانے کی بھر پور قوت و صلاحیت رکھتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

بلاگ اسپاٹ پر فی الحال اردو کلیدی تختے کی تنصیب ممکن نہیں آپ سے التماس ہے کہ اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں بہت شکریہ، اظہاریہ نویس ۔