Saturday, April 16, 2011

بازار کی گرمی کو حّدت نہیں گردانا ----- محسن اسرار

غزل

بازار کی گرمی کو حّدت نہیں گردانا
قیمت کو کسی شے کی قیمت نہیں گردانا

اعصاب سوالوں میں مصروف ہی ایسے تھے
فرصت کو کبھی ہم نے فرصت نہیں گردانا

نیلام کیا ہم نے حسّاس طبیعت کو 
جب دل نے تمنا کو حسرت نہیں گردانا

دکھ ہجر کے کھولے ہیں بستر کی اذیّت نے
تکیے کو سرہانے کی خدمت نہیں گردانا

تاخیر زدہ رکھّا معلوم کے خطروں کو
اِدراک کی سُرعت کو سُرعت نہیں گردانا

مُٹھّی میں رکھا ہم نے اُڑتے ہوئے بالوں کو
وحشت کو کبھی ہم نے وحشت نہیں گردانا

بدنام ہوئی میری شمشیر کی عریانی
دشمن نے مروّت کو مہلت نہیں گردانا

تبدیل کیا گویا ترتیبِ عناصر کو
جانے کو ترے ہم نے ہجرت نہیں گردانا

کچھ اُس کے تقرّب کی تسکین ہی ایسی تھی
جذبات کی شدّت کو شدّت نہیں گردانا

جب زہر دیا اُس نے ہم جاں سے نہیں گزرے
حیرانی کے عالم کو حیرت نہیں گردانا

کچھ دل ہی ملوث تھا خدشوں کی ترقی میں
اک رنج کو بھی غم کی صورت نہیں گردانا

حیرت کے تناظر میں دھوکا دیا آنکھوں نے
سُرخی کو ترے لب کی سُرخی نہیں گردانا

بیٹھا تھا سرِ محفل ہوکر میں دھواں لیکن
یاروں نے مجھے حسبِ  حالت نہیں گردانا

میں نے تو اسے محسن سو رُوپ دیے پھر بھی
اُس نے مری صورت کو صورت نہیں گردانا

محسن اسرار, کراچی
محسن اسرار کا شعری مجموعہ ’’تاثیر‘‘ ۔
معتبر لہجے کے معروف شاعر محسن اسرا ر کا مجموعہ ِ غزلیات ’’تاثیر‘‘ منصہ شہود پر آچکا ہے، خوبصورت اور معیاری کتابوں کی اشاعت کے ادارے سرزمین پبلیکیشنز کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتاب کا سرورق معروف مصور قمر حبیب نے بنایا ہے ، تزئین و آرائش اسامہ شاہد ،کتاب میں پروفیسر سحر انصاری کا تحریر کردہ دیباچہ اور محسن اسرار کی تحریر’’روبہ رو‘‘ اوراس کے علاوہ فلیپ پر معروف شاعر شاہد حمید کی رائے شامل ہے۔’’تاثیر‘‘ سے پہلے محسن اسرار کا پہلا شعر ی مجموعہ ’’ شور بھی ہے سناٹا بھی‘‘ 2007 میں منظر ِ عام پر آچکا ہے ۔محسن اسرار گزشتہ چار دہائیوں سے حرف کے تہذیبی رویے سے جڑے ہوئے ہیں،شعری اظہار عمومی و سطحی آلائشوں سے پاک ہے ، ندرتِ بیان اور روح کی گہرائی سے شعر کہتے ہیں ادب کو مشغلہ نہیں تذکیہ خیال کرتے ہیں۔شعری حلقوں میں بڑے احترام سے نام لیاجاتا ہے ، خاص طور نوجوان شعراء کی ایک بڑی تعداد ان کی مداح ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجے: : شاہد حمید : 03456094803

7 comments:

  1. Anonymous16/4/11

    معلم

    Good Member Group /Hero Member:

    Karachi poetry of Mohsin Asrar has fresh diction for the latest collection of poetry titled ‘Taaseer’

    Karachi:According to Urdu critics, the poetry of Mohsin Asrar has fresh diction and unique metaphors and certainly the critics are not wrong, for the latest collection of poetry titled ‘Taaseer’ does produce the same impact.

    The collection published by Sarzameen Publications contain fresh ‘Ghazals’ and according to publisher, Shahid Hameed, who himself is a distinguished poet, Mohsin Asrar was completely original as he had not compromised his poetic vision during the two decades (seventies to nineties) when certain lobbies were at their peak.

    Sahid Hameed highlights that there were a few poets who did not follow the footsteps of the leaders and kept up creating poetry of their own styles and Mohsin Asrar was the amongst the same few poets.

    According to the publisher, in Urdu ghazal, Mohsin Asrar enjoyed a different status due to his ‘originality’ and this uniqueness could be witnessed in his couplets. In 2007 he had given first collection of Urdu ‘Ghazals’ titled ‘Shor Bhi Hay Sannata Bhi’ and that poetry had also gained ground amongst the writers and literary circles.

    Famous poet and critic, Sehar Ansari has also reviewed the poetry of Mohsin while writing a foreword for Mohsin Asrar. Ansari has paid rich tributes to Mohsin for his fresh symbols and ‘tarakeeb’.

    In his preface (in latest collection), Mohsin Asrar has described the reasons of creating poetry in a symbolic manner that showed that Mohsin is so committed to his art of creating poetry as he understands that it was the only reason of his existence and resistance against the forces of falsehood and social injustices as well.
    Ref. : http://www.pakstudy.com/index.php?topic=15582.0

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ معلم صاحب۔
    آپ کی عنایت کے لیے سراپا سپاس ہوں

    ReplyDelete
  3. نیلام کیا ہم نے حسّاس طبیعت کو
    جب دل نے تمنا کو حسرت نہیں گردانا

    دکھ ہجر کے کھولے ہیں بستر کی اذیّت نے
    تکیے کو سرہانے کی خدمت نہیں گردانا

    بہت خوب ۔
    دکھ ہجر کے کھولے ہیں بستر کی اذیّت نے
    کوئی شک نہیں ہجر کے ماروں کے دن تو کسی طور گزر ہی جاتے ہیں مگر راتیں نہائت کھٹن ہوتی ہیں۔

    ReplyDelete
  4. Anonymous9/6/11

    عنیقہ بالکل سچ کہتی ہیں واقعی جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے!!!!
    ان مومنین کے کرتوت دیکھیں اور واہ واہ کریں ،
    یہ ہے وہ لنک جو اس منافق اعظم اور جاہل اعظم نے لگایا!
    بظاہر یہ 23 مئی 2011
    ڈان اخبار ہے!
    http://www.dawn.com/2011/05/23/2009-us-assessment-of-karachi-violence.html
    اسے کھولنے پر اوپر بلوگ اور فورم بھی لکھا نظرآتا ہے!
    اور یہ کوئی خبر نہیں بلکہ ایک بلوگ پوسٹ ٹائپ افواہ ہے!
    اور یہ ہے ،
    23 مئی 2011
    کا اصلی ڈان اخبار،
    http://www.dawn.com/postt?post_year=2011&post_month=5&post_day=23&monthname=May&medium=newspaper&category=37&categoryName=Front Page
    اب آپ ان دونون لنکس مین فرق ڈھونڈیئے،یہ آپ تمام حضرات کی ذہانت کا امتحان ہے!!!!!!

    اور پھر آپ حضرات اس ڈان مین وہ خبر ڈھونڈیئے جس کا لنک اس منافق اعظم نے لگایا ہے!
    مجھ کم نظر کو تو نظر نہیں آئی،شائد آپلوگوں کو دکھ جائے!!!!!

    یہ جھوٹے اور ایجینسیوں کے کتے مجھے گھر پہنچا رہے تھے!!!!
    اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنا بڑا جھوٹا ہے اور کون کس کو گھر پہنچاتا ہے!!!!

    ویسے یہ کوئی نئی بات تو ہے نہیں ،
    ایجینسیون کے پے رول پر بھونکنے والے ،
    ایسی جھوٹی خبریں ہمیشہ سے ہی ایم کیو ایم کے خلاف بنابنا کر پھیلاتے رہے ہیں!
    کبھی واشنگٹن پوسٹ لاہور سے چھپنا شروع ہوجاتا ہےتو کبھی لندن پوسٹ!!!

    ہمیشہ انکا جھوٹ انہی کے گلے میں آکر پڑتا ہے مگریہ بے غیرت اپنی ذلالتون سے باز آنے والے کہاں!
    میں یہ تبصرہ اور بھی کئی بلاگس پر پوسٹ کررہا ہوں اگر تم نے نہیں چھاپا تب بھی سب کو لگ پتہ جائے گا،
    کیاسمجھے!!!!

    یہ گند یہاں گھولا جارہاہے!
    http://www.qalamkarwan.com/2011/06/mqm-and-wikileakes-i-could-not-understand.html#comment-140

    Abdullah

    ReplyDelete
  5. آپ کے اظہاریہ پر سوائے حرفِ چند افسوس کے کیا کیا جاسکتا ہے ۔ کہ ہم اپنی پوری سماجیات سمیت گونگے بہرے اندھے ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ اور ظلم ہر روپ میں ہم پر مسلط ہے۔۔ بہر کیف عدالتِ عظمی میں یہ معاملہ زیرِ بحث ہے اس لیے میں انتظار کرتا ہوں کہ فوٹیج اور اصل حقائق میں کیا تفریق ہے۔ ارے ہاں یاد آیا کہ بہت سے بلاگرز کی زبان دانی پہ مجھے رشک ہے اور بہت سے احباب سے گلہ بھی۔ اس لیےمیں خاموش رہنا بہتر سمجھتا ہوں جب کہ کسی فورم پر ہم گفت و شنید میں صرف گفت پر زور دینے لگ جائیں۔ اور شنید کو تشنید کے قبرستان میں دفنا دیں۔ پھر وہی ہوتا ہے جو ہوٹلوں چوپالوں میں من حیث القوم ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن گیا ہے ۔ کہ اخلاقیات سے عاری ہو کر انتہائی نچلی سطح کی عامیانہ زبان بولنے لگ جائیں۔ بہر کیف حضر ت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قولِ مبارک ہے کہ آدمی کا کردار اس کی زبان کے نیچے پوشیدہ ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مباحث کو بھی زندہ رکھیں اور اخلاقیات سماجیات معاشرت کے تقاضوں کو بھی زندہ درگور ہونے سے بچائیں۔ نیاز مند و نیاز مشرب
    م۔م۔مغل
    اردو اظہاریہ : ناطقہ ، ناطق

    ReplyDelete
  6. کسی ایک شعر کی تعریف کرنا باقی اشعار کے ساتھ زیادتی ہوگی، بہت خوب انتخاب ہے آپ کا۔

    ReplyDelete
  7. Anonymous31/7/12

    عصاب سوالوں میں مصروف ہی ایسے تھے
    فرصت کو کبھی ہم نے فرصت نہیں گردانا

    نیلام کیا ہم نے حسّاس طبیعت کو
    جب دل نے تمنا کو حسرت نہیں گردانا

    بہت خوب
    تلخ حقائق کو بہت خوبی سے بیان کیا گیا ہے۔

    (اجنبی)

    ReplyDelete