Wednesday, November 10, 2010

“بادشاہ‘‘ ذوالقرنین کا کارنامہ اور مزید جگ ہنسائی

“بادشاہ‘‘ ذوالقرنین کا کارنامہ اور مزید جگ ہنسائی

کرکٹ کے دلدر دور ۔۔۔ انتظامیہ حیران ۔۔ اور ذوالقرنین کا فرار۔۔
یہ واقعہ بظاہر جتناسادہ نظر آرہا ہے ویسا نہیں ، ذوالقرنین کے مختلف بیانات سے اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس موقع پر کچھ سوال سر اٹھاتے ہیں کہ ، کھلاڑیوں کا پاسپورٹ چونکہ بورڈ کی ملکیت ہوتا ہے تو اسے اتنی آسانی سے کیسے فراہم کردیا گیا، دوم یہ کہ پی سی بی کی انتظامیہ اس وقت سورہی تھی جب ذوالقرنین ناشتے کی میز پر نہ پہنچے اور کسی کو تشویش نہ ہوئی ، سوم یہ کہ برطانیہ کا ویزہ کیا اتنا ہی آسان ہے جیسا کہ ونڈوشاپنگ کرنا، پھر یہ کہ دبئی ہوائی اڈے کی انتظامیہ بھی اتنی غیر فعال ہے کہ ایک شخص جو ٹیم ممبر ہے بغیر کسی اطلاع اور ٹکٹ یا بورڈ انتظامیہ کی اجازت کے کسی کو بھی جہاز میں بیٹھنے کی اجازت دے سکے ، جبکہ آپ کا کوئی یوٹیلیٹی بل بھی اگر جمع نہ ہوا ہو تو ہوائی اڈے کو نہ صرف اس بارے میں علم ہوتا ہے بلکہ وہ فوراً متعلقہ شبعہ کو اطلاع کرتے ہیں ۔ ایک طرف تو ذوالقرنین دھمکیوں سے خوفزدہ ہیں اور کہتے ہیں‌گھر والوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے ، جبکہ ان کے گھر والوں کے تاثرات اس بات کی غمازی کرتے ہیں‌کہ وہ اس قسم کے کسی واقعے سے ناآشنا ہیں اور محض ذوالقرنین کی بات جو میڈیا سے معلوم ہوئی اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔ انتخاب صاحب کا تو جواب نہیں کہ موصوف مینیجر ہو کر بچوں جیسے لاابالی بیانات داغ کر میڈیا کا پیٹ بھر رہے ہیں ، یہ سراسر بورڈ کی نا اہلی ، بد انتظامی اور ہڈحرامی کی دلیل ہے ، بٹ اینڈ‌کمپنی کو چاہیئے کہ کرکٹ بورڈ کو “ نجی تحویل“ میں دیکر پکوڑوں کا ٹھیلہ لگالیں‌۔باقی باتیں تو ذوالقرنین میاں کے منہ کھولنے پر بھی معلوم ہوں‌گی ، جومسلسل متضاد بیان دے کر اس معاملے کو مشکوک سے مشکوک تر بنا رہے ہیں‌۔ میری دانست میں تو اب پاکستان میں کرکٹ نام کی کوئی چیز ہونی ہی نہیں چاہیے ، گلی محلو ں‌میں “ گیند بلا “ پکڑنے کی مشق رکھنے والوں کو بغیر کسی تربیتی اور تہذیبی عمل سے گزارے جب پاکستان کا نمائندہ بنا دیا جائے گا تو لامحالہ وہ اپنے مضافاتی مینڈک ہونے کا ثبوت دیں گے اور پاکستان کی مزید جگ ہنسائی کا سبب بنیں‌گے ۔

2 comments:

  1. ميری درخواست ہے کہ لفظ "بادشاہ" ہٹا ديجئے ۔ بادشاہ ذوالقرنين نيک بادشاہ تھے اور اللہ کے پياروں ميں سے تھے

    ReplyDelete
  2. شکریہ افتخار صاحب،
    یہاں بھی طنزاً بادشاہ اور پھر واوین میں ذوالقرنین لکھا گیا ہے ، کہ موصوف کے بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ ’’ اللہ کے مقرب بندے اور ولی ہیں ‘‘ یہی وجہ ہے کہ رعایتِ لفظی کے طور یوں اختیار کیا گیا، مقصود ورنہ قطع محبت نہیں مجھے
    والسلام

    ReplyDelete