Thursday, November 4, 2010

“راھبر“ کا ”عظیم راہی‘‘

“راھبر“ کا ”عظیم راہی‘‘ 


(از: م۔م۔مغل)
اسلاف کا تذکرہ اور ان کی روشنی میں سفر کرنا تہذیب کے استمرار کی علامت ہے ، بد قسمتی سے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شعبۂ ادب بھی گزشتہ دودہائیوں سے کسی اجاڑ خلا کا منظر پیش کررہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ ادبی حلقے تہذیبی رویوں سے کٹ کر تخلیق ہونے والے ”ادب“ کی بہتات اور ”ادبِ اصل “ کی روبہ زوالی کا نوحہ کرتے پھرتے ہیں جبکہ نسلِ نو پر فی الحال یہ نوحے اثر کرتے نظر نہیں آتے، امیدِ واثق ہے کہ آنند نارائن ملا کے شعر۔۔۔

مرے وطن کی خزاں مطمئن رہے کہ یہاں
خد ا کے فضل سے ، ا ندیشۂ بہا ر نہیں
کے مصداق ادب کی روبہ زوالی کو مقدر سمجھ کر نہ صرف اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں بلکہ ” سخنِ اصل“ او ر اس کے متلاشیوں کو ” اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو “ کی طاقِ فراموشی میں رکھنے پر بضد ہیں ۔ کہیں پڑھاتھا کہ ” جب آپ کے پاس ایک ہی کردار (جنس) کے سوا کوئی صورت نہ ہو تو اسے قحط الرجال کہتے ہیں “ ۔۔۔ادب معاشرے میں بھی ہم اسی قحط الرجال کا شکار ہیں ۔گھوم پھر کر وہی ” سخنور“ وہی ”نقاد“(تنقید نویس) اور وہی ” نثّار“ سامنے آتے ہیں ، جنہیں ادب سے یا تو دور دور کا واسطہ نہیں یا پھر مرغانِ باد نما ہیں ۔۔۔ رٹے رٹائے خطبات، القابات۔۔ اور فضا بدلتے ہیں ادب کی زبوں حالی کا رونا۔۔ بہر کیف۔۔۔
معروف نقاد علامہ نیاز فتح پوری (مرحوم) کوانہی کی ادارت میں شائع ہونے والے ادبی پرچے ”نگار“ میں ایک صاحب نے خط لکھا کہ ” صاحب آپ ہر وقت ہمارے اسلاف کے کلام میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں ۔۔ کبھی میر کبھی غالب کبھی داغ کبھی جگر۔۔۔ مگر آپ نے ثاقب لکھنوی کے کلام پر کبھی کوئی بات نہیں کی۔۔۔غزل پیش ہے بسم اللہ “۔۔۔علامہ نے فرمایا ” میرے بھائی نقا د کا کام کیڑے نکالنا نہیں ۔۔ معائب اور محاسن کی نشاندہی کرنا ہے اور اس سے یہ بھی مطلوب نہیں کہ تخلیق کار( جو گزرچکے ) اپنے کلام کی اصلاح کریں ۔۔بلکہ نئے آنے والوں کو بتا نا مقصود ہے کہ وہ ان اغلاط سے بچیں۔۔۔ رہی بات ثاقب لکھنوی کی تو ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ ثاقب کا کوئی دعویٰ نہیں۔۔اور نہ ”رجحان ساز“ کے مرتبے پر فائز ہیں کہ لوگ ان کے کلام (کے معائب )کو سند مان کر اپنا لیں گے ، تنقید مخاصمت نہیں بلکہ اختلافِ رائے سے مثبت رویوں کو اجاگر کرنے کا نام ہے “۔۔۔
” تم نے کانٹے جہاں بچھائے تھے “ کے خالق جواں سال شاعر عظیم راہی کا اصل نام امین سفونا ہے اورآبائی تعلق گودھرا(برادری) سے ہے ، بھارتی ریاست گجرا ت کی تحصیل پنچ محل کا انتظامی قصبہ گودھرا دراصل گئو دھرا یعنی“ گائے دھرتی‘‘ سے مشتق ہے، معروف نعت گو شاعر عشرت گودھروی کا نام اس علاقے کی شناخت ہے۔ عظیم کی مادری زبان گجراتی ہے لیکن زبان ِشعر کے لیے اردو کو اختیار کیا، لگ بھگ تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب ”اے خیام“ صاحب کے طباعتی ادارے ” میڈیا گرافکس“ کی فنی مہارتوں کا منھ بولتا ثبوت ہے ، مجموعہ میں مختلف اصنافِ سخن بشمول حمد و نعت، غزل نظم ، قطعات ، جاپانی صنفِ شاعری ہائیکو( طبع آزاداور تراجم)اور صاحب ِ مجموعہ کے استادِ مکرم معروف شاعرجناب محسن بھوپالی (مرحوم) کی تجرباتی صنف ” نظمانے“ کی تقلید میں ” نظمانے “ شامل ہیں ۔ابتدائی صفحات میں ” عظیم راہی ۔۔۔ شاعری کی ایک مستحکم آواز “ کے نام نے جناب محسن بھوپالی کا مضمون ( ۱۰۰۲ میں جنگ مڈویک میں شائع ہوچکا ہے) شامل ہے جو عظیم راہی کی سعادت مندی کی دلیل ہے ۔۔۔عنوان کی ذیل میں عظیم راہی کے کلام کی ملک کے مشہور و معروف جرائد میں اشاعت کی گواہی کے ساتھ ساتھ ان کا تعارف پیش کیا گیا ہے اور مختلف اصنافِ سخن میں ان کی طبع آزمائی بشمول ”مزاح“ اور”تنقیدی خطوط“ کا بھی ذکر ہے۔۔۔۔جبکہ درج ذیل شعرکو ”عظیم راہی کی پہچان بن کر سفر کرنے والا شعر“ قرار دیا گیاہے ۔۔
میں نے خوشبو سے تری ذات کو پہچا نا تھا
 مجھ کو معلوم ہے کچھ رنگ بدل جاتے ہیں
” ایک فطری شاعر“ کی ذیل میں ابنِ عظیم فاطی نے عظیم راہی کو فطری شاعر قرار دیتے ہوئے ۔۔ حمد و نعت، غزلیات ، نظمانے او ر ہائیکو میں عظیم کی ”قادرالکلامی “ اور ”ہنر مندی“ کو موضوعِ سخن بنا یا ہے جبکہ ”نظمانے“ کو عمدہ انتہائی پر تاثیر اور چونکا دینے والے قرار دیا۔ جبکہ ”فلیپ نگارش “ میں خواجہ منظر حسن منظر رقم طراز ہیں کہ” عظیم ابھرتے ہوئے قلم کار ہیں “۔۔۔شعر کہہ لینا کوئی بڑی بات ہیں لیکن اس میں ”نددرت پیدا “کرنا ہی اس فن کا جادو ہے ، راہی کی شاعری میں سطحیت نہیں بلکہ ” گہرائی اور گیرائی “ ہے ۔غزل کو ناقدین نے ایک نیم وحشی صنفِ سخن قرار دیا ہے اور شاید یہ بات حقیقت بھی ہو کہ بنیادی طور پر”تضیع ِ اوقات “اور ” فارغ البالی“ اس نوع کی شاعری کا باعث بنی جو ” بالاخانوں “ کے غنائی اور جمالیاتی ماحول میں پروان چڑھی ۔۔۔مگر اب غزل میں شعری گوئی کا رجحان بدل گیا ہے ۔جبکہ ”احوالِ واقعی“میں عظیم راہی محبان کے شکریہ کے ساتھ ساتھ والدین اور استادِ مکرم کی رہنمائی اور تربیت کے اعتراف کے بعد ” اپنی مقدور بھر شعری کاوش “ کو ناقدین اور قارئین کے مطالعے اور رائے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔
شخصیت اور کتاب کے مطالعے کے بعد ہم عظیم راہی کے کلام میں سب سے جس با ت سے آگاہ ہوتے ہیں وہ ”علم العروض سے شغف“ اور ” بہ بحر غوطہ زدی“ پر دلالت کرتا ہے ،عظیم بنیادی طور پر دیگر روایتی شعراءکی طرح روایتی مضامین کے درو بست اور چست مصرعوں کے قائل ہیں اور زندگی کے مشاہدے اور مطالعے کوقوتِ نظم سے شعر میں سموتے نظر آتے ہیں ، کہیں کہیں ذاتی زندگی کی تلخی اور نامسائد حالات کا تذکرہ بھی ملتا ہے مگر لگے بندھے مضامین اور قافیہ ردیف کی بندشوں نے انہیں اس وادی میں گھیر لیا ہے جس کا مستقبل ” بازگشت“ اور ” تکرارِ سماعت“ کے آزار پر منتج ہے ، اس ”وادی یا گھاٹی“ میں گھِر کر رہ جانے والے” تخلیق کار“ اپنی آواز او ر بازگشت میں تفریق کرنے سے معذور اور بے بس ہوجاتے ہیں۔۔عظیم کی شعری زبان بنیادی طور پر سادہ ہے ، بہت سے لوگ سادہ زبان کو ” سہلِ ممتنع“ خیال کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ،اس مرکب لفظ پر غور کرنے پر کھل سکتا ہے کہ زبانِ شعر میں ”سہل نگارش“ کا ”ا متناع“ کیا ہے ، عمومی شعری رویوں کی طرح عظیم کے کلام میں بھی جا بجا معاشرے کی عکاسی نظر آتی ہے جن میں معلوم حقیقتوں کو قوتِ نظم سے شعری قالب عطا کیا گیا ہے مصرعوں کی بنت ایسی ہے کہ قاری یا سامع بے ساختہ بے شک کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے، ذیل کی چند مثالیں میری اس بات کی ترجمانی کرتی ہیں :
چارہ گر کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں مریض
ڈوب جاتے ہیں سفینے ناخدا ہوتے ہوئے

مسافروں کو خدا پر اگر بھروسہ ہو
 تو ناخدا بھی سفینہ ڈبو نہیں سکتا

سب سخن فہم تو نہیں ہوتے
 بزم کی داد کا بھروسہ کیا
میرو غالب کے بعد مشقِ سخن
 صرف الفاظ کی جگالی ہے
ڈوبنا ہو جنہیں مقدر میں
وہ کناروں پہ ڈوب جاتے ہیں

اسلاف کی روشنی میں ہمیں اپنے شعری رویوں اور معیار کو درست کرنے ضروت ہے کہ ” کسی واقعے یا معلوم حقیقت کا محض منظوم بیان ”شعریت “ سے تہی داماں ہوتا ہے ، شاعری چیز ِ دیگر است “ مجموعہ میں محسن بھوپالی صاحب مرحوم سے ورثہ میں ملی ہوئی صنف” نظمانے “اپنی ”ماہیت “اور ”معائر“ کے حوالے سے تشنہ ہے اور وضاحت کی متقاضی بھی ۔۔ محض تقلید میں ”نظمانے “ کوئی جواز فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔محسن بھوپالی مرحوم کی ” ایجاد یا اخذ کردہ “ صنف ” نظمانے “ میں عظیم سے پہلے جرمنی کے ایک قلم کار منیرالدین احمد کی کتاب” شجرِ ممنوعہ “ بھی منصٔہ شہود پر آچکی ہے جس میں ” افسانے ، نظمانے اور نثرانے “ شامل ہیں ، یقینا بعضے دیگر قلم کار وں نے بھی طبع آزمائی کی ہوگی ، مگر فی الحال میرے مطالعے میں شامل نہیں ۔۔۔۔۔”نظمانہ “ عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کا مطلب ہے ”نظم “ سے منسوب یا متعلق ، چھوٹی نظم یا نظم کا ٹکڑ اجو ہمارے ہاں بگڑ کر ”نظمانے “ ہوگیا ہے اور ”نظمانا “ یعنی منظوم کرنا کے قریب جا پہنچا ہے ۔۔۔۔ امالہ کا استعمال اسے اپنے اصل لفظ تک محدود کر کے اس کے صوری اور صوتی حسن کو قائم رکھ سکتا ہے ۔نظم اور افسانے کے امتزاج سے بنائی گئی اس صنفِ شعری نے میری دانست میںمحسن صاحب مرحوم کے بعد اپنے ہونے کا جواز کھودیا ہے ، یا کم از کم سطحیت اور سہل پسندی کی دیمک نے اسے بری طرح متاثر کردیا ہے ۔ دیگر اسالیب ِ سخن کی طرح ”نظمانہ“ ابھی پروان بھی نہیں چڑھی اور بازگشت پر مبنی موضوعات اور برتاؤ نے اس کا حسن مجروح کردیا ۔۔یہاں محسن بھوپالی مرحوم کی اس صنف کی مثال دینا ضروری ہے کہ(ان کے نزدیک) اگر اس صنف کا کوئی جواز ہے تو کیا ہے ۔۔۔۔۔
”نئی پود“ 
سلمیٰ ۔۔۔ میں تو ٹونی کو
کہتے کہتے ہار گیا ہوں۔۔۔۔
تم بھی کوشش کر دیکھو
 بیٹا اپنی مرضی سے گر شادی کی تو
دودھ نہ بخشوں گی ۔۔۔
 ممی وہ کیا ہوتا ہے ؟
 (محسن بھوپالی )

”تم نے کانٹے جہاں بچھائے تھے“ سے کچھ اشعار پیش ہیں جن میں عظیم راہی کی انانیت، معاشرے کی ناہمواریوں اور مجموعی قومی بے حسی و لاتعلقی پر طنز کا اظہار پوری کاٹ کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ اس سے قبل عظیم راہی کو شعری مجموعہ کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں ربِ نطق و سخن ان کے قلم کو فراوانی اور حرمت کااثاثہ عطا فرمائے ۔
اس جاں کنی میں نصف صدی کٹ گئی عظیم
 کہنے کو انتظارِ سحر رات بھر کا ہے

جس کے دروازے رہے بند مرے آباءپر
اب وراثت میں بھی وہ گھر مجھے منظور نہیں

بارش میں چھت ٹپکتی ہے اور میں ہوں بے نیاز
 جیسے یہ مسئلہ مرے دیوار و در کا ہے

راہی مری وحشت پہ ہے انگشت نمائی
 میں سوئے بیاباں جو چلا وقت سے پہلے

تم اسے صبح مت سمجھ لینا
 اپنی صو رت بدل رہی ہے رات

جی چاہتا ہے بند دریچوں کو کھول کر
 باہر کی تیز دھوپ کو اندر سمیٹ لوں
.........

2 comments:

  1. مجھے يوں محسوس ہوا کہ ميں دو صدی پيچھے چلا گيا ہوں ۔ ڎرض ہے کہ پہلے اُردو کو تو واپس لايئے جسے سب اپنی ميراث تو کہتے ہيں مگر وہ لاغر و بے جان درگور ہے

    ReplyDelete
  2. افتخار صاحب
    آداب و سلام ِ مسنون
    اپنے اظہاریہ میں میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ زبان اپنی قدروں کے ساتھ تحریر کروں ، یقیناً میں اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہوں، آپ کی رائے میرے لیے سرمایہ ہے انشا اللہ مراسلت کا شرف حاصل رہے گا۔ والسلام

    ReplyDelete