Friday, October 29, 2010

بَن باس کا شیر ۔۔۔فلک شیرزمان

بَن باس کا شیر ۔۔۔فلک شیرزمان
ایک شعری مجموعہ کا تعارف تبصرہ : م۔م۔مغل
مکڑیوں کے جالے جہاں اپنی ہیئت میں طرزِ تعمیر و تخلیق اور حسنِ آرائش پر دلالت کرتے ہیں وہیں کمزور سے تاروں کو مربوط اور منظم کرنے کا اشاریہ بھی ہیں۔کسی بھی زبان اور ثقافت کا بھی یہی کام ہے جو قدروں کے تارو بود سے مختلف طبقاتِ زندگی کو جوڑ کر رکھنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔ ہمیں شاید ہی مکڑیوں کے جالے بننے کے علاوہ کسی اور نمایاں کارنامے کا علم ہو، لیکن بھلا ہو لاعلمی کا کہ امشب ایک شعری مجموعہ باصرہ نواز ہوا ، ایک جواں سال شاعر فلک شیر زمان نے اپنے خیالات و احساسات کے تانے بانے بنے تو مکڑیوں نے ان تانوں بانوں کو اپنے حسنِ ارتباط سے کتابی شکل میں بُن دیا۔
’’ عنکبوت پبلیکیشنز ‘‘ ( جو کہ ایک برطانوی طباعتی ادارہ ہے )کے زیرِاہتمام فلک شیرزماں کے دوسرے شعری مجموعی’’تم چُپ کیوں ہو‘‘ میں اسالیبِ سخن کی مختلف اصناف بشمول حمد و نعت ، غزل، نظم و نثم (نثری نظم)اور قطعات شامل ہیں کتاب میں حسن ِ معنوی کے ساتھ ساتھ صوری تزئین و آرائش پر بھی توجہ دی گئی جس میں رنگوں کا امتزاج صاحبِ تخلیق کے جمالیاتی حسن پر منطبق ہے ،لگ بھگ ایک سو بیس صفحات کی اس کتاب میں باقی احمد پوری صاحب کی فلیپ نگاری پر مشتمل حوصلہ افزائی اوراس جواں سال شاعر کے بہتر مستقبل کے لیے دعائیں شامل ہیں ، جبکہ ادارہ عنکبوت کے ہر دو مہتمم امتیاز شیخ و مسرت شیخ کے اشتراکی بیان جس میں ’’ اردو ادب ‘‘ کے ’’ معروف نوجوان شاعر‘‘ کی انتہائی قلیل مدت میں ملکی و غیر ملکی ادبی حلقوں میں ’’ منفرد و یگانہ شناخت‘‘پر ’’ اسنادیہ‘‘ سپردِ تحریر ہے اپنے قارئین اور ادب پر نظر رکھنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ مملکتِ ادب میں ’’ ملوکیت‘‘ کا آئینہ دار بھی۔۔۔۔
کتاب کا انتساب صاحبِ کتاب کے والدین ، بہن بھائیوں، ڈاکٹر جاویداصغر، جنید اصغر اور حاجی فضل احمدکے نام ہے ،صفحات کی سفید مانگ سیندوری رنگ سے بھری گئی ہے جس سے کتاب کا صوری حسن اسے بوسیدگی کی طاق میں رکھنے پر مُصرہی۔ ۔۔ ’’ تم چپ کیوں ہو‘‘ کے نام سے جنگ اخبار کے سابق ایڈیٹوریل اسٹاف ممبر اور اردو لغت بورڈ کے سابق رکن معروف سینئر شاعر سید انور جاوید ہاشمی نے فلک شیر زمان کے نام کی تفہیم کے حوالے سے اپنی کم مائیگی کا اظہار کیا اور کہا کہ سردست ہم فلک شیر زمان کی شاعری کو کسی بھی نوع کی مخصوص اصطلاح میں نہیں رکھ سکتے ۔ رومانی کلاسیکی روایتی یا جدیدیت سے متاثر ہوکر کی جانے والی فارمولا شاعری ۔۔۔۔ ہاں اہمیت کی بات کی جاسکتی ہے کہ یہ آغاز ہے اور یہی غنیمت بھی۔۔۔۔

معروف شاعر خالد علیم صاحب فلک شیر زماں کے دوسرے شعری مجموعے کی اشاعت پر ’’اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ‘‘کے عنوان کی ذیل میںرہنمائی کے بعد رقمطراز ہیں کہ امید کی جاسکتی ہے کہ ’’ نقشِ ثالث بہتر ازنقشِ ثانی ‘‘ کا مصداق ہوگا۔ جبکہ جاوید قاسم صاحب نے ’’ ان دیکھی راہوں کے مسافر‘‘ میں منافقت سے پاک رویے کو سراہتے ہوئے اپنے ’’عہد کے نقاش ‘‘کے روپ میں ملاحظہ کیا ہے اور مرحوم اطہر نفیس کی معروف غزل کی پیروڈی کو بھی ’’سراہنے کا شرف بخشا‘‘ ہے۔

عاصم بخاری صاحب نے ’’ شاعرِنغز گوئے خوش گفتار‘‘ کی ذیل میں موجودہ نقاد حضرات کی روش کو دوام عطا کرتے ہوئے ’’کیمیائی مساواتی‘‘(دوہرے تعاملات کے سے)انداز میں ’’ نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر ‘‘کے ’’ دامنِ قرطاس ‘‘میں’’ فصاحت ِ معانی‘‘ اور’’ بلاغتِ شعری ‘‘کی ’’بلند قامتی، پروازی خیال ، انتخاب ہائے مضامین، لطفِ جلوہ ہائے معانی ، رفعتِ فہم و تدبر، طرزِ تخاطبِ نطق، گزارشِ احوالِ واقعی، انشراح ِ واردات ِ دل‘‘(وغیرہ)کو ’’گنجینہِ ادب جو ہرِ تابدار ‘‘ کو ’’ سزاوار ِ مدح ‘‘ کا منصب عطا کیا ہے ۔ اور ’’اہالیانِ فکرو دانش‘‘ سے ’’ اس نومولود‘‘ مگر ’’ پروقارآواز‘‘ کی رہنمائی کی طرف رجھانے اور ’’ کونپلانِ گل ِتخلیق‘‘ کی آبیاری پر آمادہ کرنے کی کوشش میں قلم کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے خون تھکوادیا۔۔ ۔۔حق مرحوم موصوف کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان پر رحم۔۔۔۔

جبکہ ’’ادھورے سچ کے تسلسل میں ‘‘ صاحبِ مجموعہ اپنی کم مائیگی اظہار کرتے ہوئے قارئین سے حوصلہ افزائی کے طالب ہیں اور عنقریب اپنے تیسرے مجموعے کی اشاعت کی خبر دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ ’’ عشق بِنا بے حال ہوا‘‘ ان کا پہلا شعری مجموعہ تھا، متوقع کتابوں میں ’’ اکھّاں سولی چڑھیاں‘‘ (پنجابی) ’’میں تم سے اتنا کہتی ہوں‘‘ (اردو) اور ’’ شبِ درد‘‘ (اردو)شامل ہیں ، متذکرہ کتاب کے مکمل مطالعے کے بعد میری دانست میں فلک کو فی الحال صنعتِ شعر کے معائب و محاسن ، زبان و بیان ، صرف و نحو اور دیگر رمزیات پر توجہ دینے اور شعری مشغلہ کو مسئلہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ قدماء متاخرین و متوسطین سمیت عصرِ حاضر کے شعراء کے بالاستیعاب مطالعے سے ان کے کلام میں نکھار پیدا ہوسکتا ہے ۔ امید ہے آپ اس نوجوان کی حوصلہ افزائی فرمائیں گے ۔ میں دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ بن باس کے شیر فلک شیر زمان کے قلم کو حرمت اور دوام عطا فرمائے آمین ۔

ہنسنے لگتا ہے زمانہ پڑھ کے تحریریں مری یہ حقیقت بھی نہیں ہے اور فسانہ بھی نہیں ( فلک شیر زمان)

:کتاب کے ملنے کا پتہ: عنکبوت پبلیکیشنر: سائوتھ ہال ، یوکے ڈاٹ لائن پرنٹرز : اولڈ اعجاز سینٹر ، روم نمبر 1، سیکنڈ فلور، رائل پارک ، لکشمی چوک، لاہور اسٹوڈنٹس شیلٹر : 10 جی خواجہ آرکیڈ، وحدت روڈ ، لاہور تبصرہ کی پی ڈی ایف ان پیج اردو یونی کوڈعلوی نستعلیق مائیکرو سوفٹ ورڈ اور گف فائل ڈاؤن لوڈ کیجے۔

2 comments:

  1. مغل بھائی،

    اس پُر مغز تعارف اور تبصرے کا شکریہ.

    ہم بھی آپ کی اس دعا پر کہ باری تعالیٰ بن باس کے شیر فلک شیر زمان کے قلم کو حرمت اور دوام عطا فرمائے، آمین کہتے ہیں.

    تبصرے میں موجود فلک شیر صاحب کا واحد شعر بھی خوب ہے .

    ReplyDelete
  2. شکریہ احمد میاں ، سلامت رہیں ۔۔

    ReplyDelete