Friday, September 24, 2010

تدریس زبان فارسی بذریعه خط وکتاب - خانہ فرہنگِ ایران

تعارف نامہ
تدریس زبان فارسی بذریعه خط وکتاب
خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران۔کراچی عرصہ دراز سے ایران و پاکستان کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو استحکام اور دوام بخشنے کے لیے دونوں برادرملکوں کے مشترکہ تہذیبی اورثقافتی ورثے کے احیاء بقاء علمی ، ادبی، ثقافتی اور لسانی روابط کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ " تدریس زبان فارسی بذریعہ خط وکتابت" بھی اس تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ فارسی زبان اور اس کا بیش بہا علمی ، ادبی اور تاریخی ورثہ کسی بھی پاکستانی کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے۔ یہ زبان برصغیر میں کویٔی نٔی اور اجنبی زبان نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات یہاں کی ایک ہزار سالہ تاریخ پر محیط ہیں۔ برصغیر پاک وہند پر انگریزوں کے تسلط سے قبل فارسی یہاں کی سرکاری ، تاریخی، علمی اور ادبی زبان تھی۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد اگرچہ اس کی سرکاری حیثیت باقی نہیں رہی تا ہم بعدمیں آنے والے علم دوست اور دانش پرور ادباء اورشعراء اپنی نگارشات اسی زبان میں ضبط تحریر میں لاتے رہے۔ اس طرح بعدکے آنے والے ہر دور میں فارسی زبان کی تاریخی اور ادبی حیثیت واہمیت میں اضافہ ہوتارہا کیونکہ فارسی کے بغیر یہاں کی تاریخ، ثقافت اور علمی وادبی کارناموں سے آگاہی حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعدبھی فارسی زبان کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر ملک کے تعلیمی مراکز اورجامعات میں فارسی زبان وادب کی تدریس اور ترویج پر خصوصی توجہ دی گئ، لیکن گزشتہ چند دہایوں سےلسانیات ، زبان وادب اور انسانی علوم جیسے موضوعات سے لوگوں کی توجہ ختم ہورہی ہے۔ اس وجہ سے فارسی جیسی شیریں م مستغنی، ادبی ، علمی اور ثقافتی زبان بھی لوگوں کی بے رخی اور عدم توجہی کا شکار ہوگئہے ، حالانکہ فارسی زبان سے صحیح واقفیت کے بغیر نہ ہی برصغیر کے ماضی کے حقائق سے بہتر استفادہ کیا جاسکتا ہے اور نہ یہاں کے کلاسیکی ادب ، تاریخ اور تہذیبی عروج وزوال کا بہتر ادراک ممکن ہے۔ لہذا اپنی تہذیبی اقدار ، تاریخی اور ادبی میراث کے تحفظ وبقاء اور اپنی تاریخ اور اسلام کے علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کو موجودہ دنیاکے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اس زبان کا حصول نہایت ضروری معلوم ہوتاہے۔ اگرچہ فارسی کی وہ تاریخی اور مثالی حیثیت باقی نہیں ہے بازہم برصغیر پاک وہند کے طول وعرض اورگوشہ وکنار میں آج بھی ہزاروں افراد فارسی زبان کی پرمایگی اور تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس زبان کو سیکھنے کے خواہشمند ہیں ، لیکن دورحاضر کی دگرگوں مصروفیات ، مختلف مسائل ومشکلات یامواقع کی کمی کے باعث ہزاروں خواہشمند افراد کی فارسی سیکھنے اور اس کے علمی ذخائر سے بہرمند ہونے کی خواہش پوری نہیں ہوپاتی۔ یوں فارسی کی ترویج و اشاعت کے امکانات میں کمی واقع ہوئی ہے۔خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران۔کراچی نے اس اہم حقیقت کا احساس کرتے ہوئے تدریس زبان فارسی بذریعہ خط وکتابت کے نام سے ایک جامع اور آسان پروگرام تشکیل دیاہے تاکہ وہ تمام افراد جو بلاواسطہ کسی استاد ، ادارے یاخانہ فرہنگ سے فارسی نہیں سیکھ سکتے وہ افراد اس پروگرام سے استفادہ کرتے ہوئے کسی استاد کی مدد کے بغیر فارسی سیکھ سکیں۔ تدریس زبان فارسی بذریعہ خط وکتابت، خانہ فرہنگ ایران ، کراچی کا ایک ایسا جامع تعلیمی پروگرام ہے جس کے ذریعے پورے پاکستان کے فارسی سیکھنے کے خواہشمند خواتین وحضرات آسان طریقے سے فارسی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ مقاصد: یہ تعلیمی پروگرام درج ذیل نصب العین اور اہداف ومقاصد کے پیش نظر ترتیب دیاگیا ہے۔ فارسی زبان وادب کی ترویج ، تقویب اور توسیع۔ فارسی زبان سیکھنے والے افرادکو سہولیات فراہم کرنا۔ فارسی زبان کے تدریسی نظام کو جدید تدریسی نظام اور وسائل سے ہم آہنگ کرنا۔ فارسی زبان کی کلاسوں کے دائرہ کار کوپورے ملک میں وسعت دینا۔ خانہ فرہنگ میں دائرہ ہونے والی فارسی کلاسوں میں باقاعدہ شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ازالہ کرنا۔۶)ان افراد کی توجہ فارسی کی طرف مبذول کرانا جوکسی نہ کسی وجہ سے خانہ فرہنگ سے رابطہ رکھنے میں وقت محسوس کرتے ہیں۔ درسی مواد: "تدریس زبان فارسی بذریعہ خط وکتابت کے کورس کے لیے معلم فارسی" کے نام سے کتابوں کی ایک مکمل سیریزبمعہ آڈیوکیسٹیں نہایت عرق ریزی سے ترتیب دی گئی ہیں۔ خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران۔ کراچی ۴۔بی، بلیک ہاؤس روڈ نزد کلفٹن پل، کراچی فون نمبر: 35678163-4 http://fa.karachi.icro.ir/ email:karachi@icro.irبرقی مکتوب : ’’ فارسی کے فروغ کے لیے خانہ فرہنگِ ایران کراچی کی ویب سائٹ سے لیا گیا متن ‘‘ داخلہ فارم اور مکمل متن پڑھنے کے لیے ’’کلک ‘‘ کیجیے۔

2 comments:

  1. محمد محمود الرشید بھائی اس بارے میں آگاہ کرنے کا بہت شکریہ.

    ReplyDelete
  2. Anonymous25/9/10

    شکریہ نظامی صاحب، مغل صاحب آج کل نیٹ پر نہیں آرہے ، میری بھی خاصے دنوں سے صرف فون پر بات ہورہی ہے ۔ یہ متن ان کے کہنے پر میں نے بلاگ میں شامل کیا ہے ، اور جواب بھی ان کی ایما پر ہی دے رہا ہوں ، مجھے بھی بلاگنگ کا شوق چرایا ہے فی الحال یہاں مشق کررہا ہوں ۔
    ایشام ایلی نوف
    سب ایڈیٹر رشیا ٹائمزاردو،ماسکو
    (پاک رشیا کلچرل سینٹر کراچی)

    ReplyDelete