Thursday, September 3, 2009

اور تم کہتے ہو ---

رنگ و نسل ایک سیاہ فام افریقی بچے کی نظم
When I born, I black
جب پیدا ہوا تو سیاہ فام تھا When I grow up, I black جب بڑھا تو سیاہ فام تھا When I go in Sun, I black میں جب دھوپ میں جاتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں When I scared, I black جب میں خوف زدہ ہوتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں When I sick, I black جب میں بیمار ہوتا ہوں تو سیاہ فام ہوتا ہوں And when I die, I still black اورجب میں مر جا ؤں گا تب بھی سیاہ فام ہی رہوں گا
And you white fellow اور تم سفید فامو When you born, you pink جب پیدا ہوتے ہو تو گلابی When you grow up, you white جب بڑھتے ہو تو سفید When you go in sun, you red جب دھوپ میں جاتے ہو تو سرخ When you cold, you blue جب ٹھنڈ لگتی ہے تو نیلے When you scared, you yellow جوب خوفزدہ ہوتے ہو تو زرد When you sick, you green جب بیمار ہوتے ہو تو سبز And when you die, you grey اور جب مرتے ہو تو سرمئی ہوتے ہو And you calling me coloured? اور تم مجھے ’’ رنگی ‘‘ کہتے ہو
ایک ہفتہ قبل ایک دوست نے یہ نظم مجھے ہاتفِ برقی پر ارسال کی تھی گوگل پر تلاش میں معلوم ہو ا کہ نظم خاصی نیک نامی رکھتی ہے سو
مقدور بھر ترجمہ بھی پیش کردیا ہے بہت شکریہ
والسلام

5 comments:

  1. یہ نظم بہت عرصہ پہلے مجھے کسی نے ای میل کی تھی بہت زبردست بات کہی ہے کہنے والے نے بس سمجھنے کے لیئے ایک عدد دماغ ہونا اشد ضروری ہے یہ نسلی اور لسانی تعصب انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا!

    ReplyDelete
  2. شگفتہ آداب بے حد آداب
    پھولوں کی مہک آبشاروں کا ترنم
    شباب کا امنگ کلیوں کا تبسم
    فضاوں میں رچی خوشبو جیسی
    سحر انگیز شگوفوں دل آویز نغموں جیسی
    بھر پور گنگناتے خیال میں
    خوش کن اداوں جیسی
    خوش ادا مچلتی گنگناتی ریشمی لہروں جیسی
    حسین یادوں کے جل تھل جیسی
    پر کشش عید آئی ہے
    اس دھنک رنگ موقع پر میری جانب سے
    عید مبارک

    ReplyDelete
  3. سلام علیکم
    اسعد اللہ ایامکم و تقبل اللہ اعمالکم
    عید مبارک

    ReplyDelete
  4. بڑی محبت دوستو ۔ بہت شکریہ

    ReplyDelete
  5. شاعر نے بالکل سچ کہا ہے

    ReplyDelete