Thursday, August 20, 2009

پرسش ۔۔۔ ایک منظوم انشائیہ

ایک منظوم انشائیہ ، اسرارالحق مجاز کے حوالے سے ۔ ’’ پرسش ‘‘ تھے مجاز ایک شام آوارہ ساتھ میں ان کے کوئی دوست بھی تھا دیکھ کر راستے میں اک مسجد جس کے دروازے پر لکھا تھا شعر ’’ روزِ محشر کہ جاں گداز بود اولیں پرسشِ نماز بود ‘‘ رک کہ کہنے لگا مجاز کا دوست شعر جو یہ لکھا ہوا ہے یہاں ا س کا مطلب بتائیے صاحب شعر پڑھ کر مجاز نے سوچا اور پھر مسکرا کے فرمایا روزِ محشر حساب جب ہوگا سب سے پہلے خدا یہ پوچھے گا یہ بتاؤ کہ ’’ کیوں ‘‘ پڑھی تھی نماز ذکی عثمانی

5 comments:

  1. یہ بتاؤ کہ کیوں پڑھی تھی نماز!
    اس مین بھی دو سوال چھپے ہوئے ہیں :)

    ReplyDelete
  2. بہت ہی اعلٰی مغل صاحب۔۔ بہت ہی شاندار۔۔
    کیوں‌ پڑھی تھی نماز۔۔ واہ واہ۔۔

    ReplyDelete
  3. بہت شکریہ عبداللہ اور راشد کامران صاحب۔ بہت شکریہ

    ReplyDelete
  4. بہت خوب مغل بھیا!

    ۔

    ReplyDelete
  5. واہ جناب۔ بہت خوب۔

    ReplyDelete