Saturday, July 11, 2009

خرابی نظم از عزم بہزاد

خرابی
خرابی کا آغاز کب اور کہاں‌سے ہوا یہ بتانا ہے مشکل کہاں زخم کھائے کہاں سے ہوئے وار یہ بھی دکھانا ہے مشکل کہاں ضبط کی دُھوپ میں ہم بکھرتے گئے اور کہاں تک کوئی صبر ہم نے سمیٹا سنا نا ہے مشکل خرابی بہت سخت جاں ہے ہمیں‌لگ رہا تھا یہ ہم سے الجھ کر کہیں مر چکی ہے مگر اب جو دیکھا تو یہ شہر میں، شہر کے ہر محلے میں، ہر ہر گلی میں دھوئیں کی طرح بھر چکی ہے خرابی رویوں میں، خوابوں، میں خواہش میں، رشتوں میں گھر کرچکی ہے خرابی تو لگتا ہے خوں میں اثر کرچکی ہے خرابی کا آغاز جب بھی ، جہاں سے ہوا ہو خرابی کے انجام سے غالباً جاں چھڑانا ہے مشکل عزم بہزاد
عکسِ تحریر

7 comments:

  1. سب مشکل ہی مشکل
    آسان کیا ہے ؟

    ReplyDelete
  2. بہت خوب مغل بھائی!

    بہت اچھی بہت سچی بہت ہی اثر انگیز نظم ہے. کیا کہنے . واہ ! واہ! واہ!
    ہم تو یوں بھی عزم بہزاد کی شاعری کے دلدادہ ہیں آپ کی محبت کے آپ نے ہمیں اس نظم سے متعارف کروایا.

    اللہ آپ کو خوش رکھے .

    ReplyDelete
  3. Anonymous12/7/09

    خرابی کا آغاز بابا آدم کی غلطی سے ہوا۔
    کامی

    ReplyDelete
  4. خرابی کا آغاز بابا آدم کی غلطی سے ہوا

    ReplyDelete
  5. خرابی کا آغاز بابا آدم کی غلطی سے نہیں ہوا!
    کتنا آسان ہے اپنے گناہوں کا الزام دوسروں کے سر تھونپ کر اپنی جان چھڑا لینا .

    ReplyDelete
  6. افتخار اجمل ، محمد احمد اور سعد صاحب، بہت شکریہ
    ------------------------------------------
    (السلام علیکم-- میں نے آپ کے بلاگ پر کمنٹ کیا اور آپ نے مجھے سعدیہ سحر بنا دیا۔
    خدارا ایسا ظلم مت کیجیے میرا نام سعد ہے سعدیہ نہیں)
    -----------------------------------------
    جناب دل پاکستانی صاحب مجھ سے غلطی رہی ۔ آپ کے حوالے کے ساتھ مدون کردیا ہے ، بہت بہت شکریہ اور کوفت کی معذرت

    ReplyDelete
  7. کوئی بات نہیں صاحب۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین

    ReplyDelete