Tuesday, June 2, 2009

مرزا غالب کی بدیہہ گوئی تاریخ کے اوراق سے

مرزا غالب کی بدیہہ گوئی تاریخ کے اوراق سے

خواجہ حالی نے یادگارِ غالب میں لکھا ہے کہ ۱۸۷۱ میں جبکہ نواب ضیاء الدین احمد خاں مرحوم کلکتہ گئے تھے ، مولوی محمد عالم نے جو کلکتہ کے ایک دیرینہ سال فاضل تھے ، نواب صاحب سے بیان کیا کہ جس زمانے میں مرزا صاحب یہاں آئے ہوئے تھے ایک مجلس میں جہاں مرزا بھی موجود تھے اور میں بھی حاضر تھا شعراء کا تذکرہ ہورہا تھا، اثناء گفتگو میں ایک صاحب نے فیضی کی بہت تعریف کی ، مرزا نے کہا فیضی کو لوگ جیسا سمجھتے ہیں ویسا نہیں ہے ، اس پر بات بڑھی ،اس نے کہا کہ فیضی جب پہلی بار اکبر کے روبرو گیا تھا تو اس نے اڑھائی سو شعر کا قصیدہ اسی وقت ارتجالاً کہہ کر پڑھا تھا۔۔ مرزا بولے ، اب بھی اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ دوچار سو نہیں تو دو چار شعر تو ہر موقع پر بدا ہۃً کہہ سکتے ہیں ، مخاطب نے جیب سے ایک چکنی ڈلی ( ایک طرح کی سپاری یا چھالیہ جو دوودھ میں پکا کر خشک کرلی جاتی ہے اور نہایف نفیس و لذیز ہوتی ہے) نکالی اور ہتھیلی پر رکھ لی اور مرزا سے درخواست کی کہ اس ڈلی پر کچھ ارشاد ہو ، مرزا نے گیارہ شعر کا قطعہ اسی وقت موزوں کرکے پڑھ دیا۔مطبوعہ قطعہ تیرہ شعروں کا ہے گیارہ کا نہیں جیسے کے ’’یادگارِ غالب‘‘ میں مرقوم ہے ، نہ تو دس شعر کا جیسا کہ مرزا غالب نے لکھا ہے ، ’’مخاطب ‘‘ کے سلسلے میں مولوی کرم حسین کا نام سامنے آیا ہے یہ بلگرام کے رہنے والے تھے اور دربارِ اودھ کی طرف سے کلکتہ میں سفارت کے منصب پر مامو ر تھے ، شمس العلماء سید علی بلگرامی اور نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی انہی مولوی کرم حسین کے پوتے تھے۔ درج بالا کلام بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف میں ہے اس کے ارکان فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہیں۔
چکنی ڈلّی 
ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلّی
 زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
 خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیالکھیے
 ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہیے
 مہرِ مکتوبِ عزیزانِ گرامی لکھیے
حرزِ بازوئے شگرفانِ خود آراء کہیے
 مسّی آلودہ سر انگشتِ حسیناں لکھیے
 داغِ طرفِ جگرِ عاشقِ شیدا کہیے
 خاتمِ دستِ سلیماں کے مشابہ لکھیے
 سرِ پستانِ پری زاد سے مانا کہیے
 اخترِ سوختہ ء قیس سے نسبت دیجے
 خالِ مشکینِ رخِ دلکشِ لیلیٰ کہیے
 حجرالاسوددیوارِ حرم کیجے فرض
 نافہ، آہوئے بیابانِ ختن کا ، کہیے
 وضع میں اسکوسمجھ لیجیے قافِ تریاق
 رنگ میں سبزہِ نوخیز ِ مسیحا کہیے
 صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہرِ نماز
 میکدے میں اسے خِشتِ خمِ صہبا کہیے
 کیوں اسے قفلِ درِ گنجِ محبت لکھیے
 کیوں اسے نقطہء پرکارِ تمنا کہیے
 کیوں اسے گوہرِ نایاب تصور کیجے
 کیوں اسے مردمکِ دیدہِ عنقا 
کہیے
 کیوں اسے تمکہء پیراہنِ لیلیٰ لکھیے
 کیوں اسے نقشِ پئے ناقہء سلمیٰ کہیے
 بندہ پرور کے کفِ دست کو دل کیجیے
 فرض اور اس چکنی سپاری کو سُویدا کہیے
اقتبا س از: ’’ نوائے سروش ‘‘ شرح غالب ، غلام رسول مہر، صفحہ : ۸۴۸، ۸۴۹،۔

9 comments:

  1. شکریہ مغل صاحب شیئر کرنے کیلیے۔

    ReplyDelete
  2. آپکی شعری معلومات کے ہم قائل ہیں امید ہے کہ ہمیں اسیطرح شریک کرتے رہیں گے

    ReplyDelete
  3. بہت بہت شکریہ وارث صاحب۔ محبت ہے آپ کی ، ایک بات کہ میں نے ارکان اوربحر کانام ٹحیک لکھا ہے یا ۔۔ مجھے چونکہ زیادہ علم نہیں اس بابت امید ہے کرم کیجے گا

    ReplyDelete
  4. بہت بہت شکریہ عنیقہ ، سدا خوش رہیں ، میری شعری معلومات ایسی ہیں جیسے کہ ہمیں خبر ہے کہ ہم دن میں تین بار کھانا کھاتے ہیں اور بس۔۔ محبتوں کے لیے سراپا تشکر ہوں ، ’’ مینڈکی ‘“ پر ایک بار پھر مبارکباد قبول کیجے ، کچھ محاسن پر بات کرنا رہ گئی تھی ۔ انشا اللہ تفصیلی گفتگو رہے گی ، ہوسکے تو اسے اپنے بلاگ کی زینت بنائیں۔۔ جیتی رہییے
    والسلام

    ReplyDelete
  5. السلام علیکم بہت خوب جناب۔۔بہت ہی خوبصورت بلاگ ہے۔۔۔خوش رہیں۔۔

    ReplyDelete
  6. بہت بہت شکریہ کاشفی صاحب ،
    بڑی محبت ،امید ہے آپ سے مراسلت رہے گی ، میں آپ کے بلاگ کو فہرست میں شامل کررہا ہوں ، اور حاضری کے لیے وعدہ کرتا ہوں۔
    والسلام

    ReplyDelete
  7. Anonymous19/6/12

    Hello,I love reading through your blog, I wanted to leave
    a minor comment to support you and wish you a good continuation.
    Wishing you that the best of luck for all your blogging efforts.
    my website - free phone number lookup

    ReplyDelete
  8. Anonymous31/8/12

    بہت شکریہ جناب اس شیئرنگ کیلئے ....بہت اچھا لگا پڑھ کے
    اقتباس:

    درج بالا کلام بحرِ رمل مثمن مخبون محذوف میں ہے اس کے ارکان فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن ہیں۔

    بحر کے پورے نام میں مقطوع رہ گیا:
    بحر رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
    جسکے ارکان ہوتے ہیں:
    فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
    امید ہے نظر ثانی فرمائیں گے
    سعید

    ReplyDelete
  9. Anonymous16/2/13

    A peгson necеssarily lend a hand tо makе ѕignificаntly articles
    Ι'd state. That is the very first time I frequented your website page and thus far? I amazed with the analysis you made to create this actual post amazing. Great process!

    My blog; Vida Vacations

    ReplyDelete