Thursday, May 28, 2009

یہ نقدِ جاں ہے اسے سود پر نہیں دیتے

(قصہ حسین مجروح سے ملاقات کا)
دوپہر کے کھانے کے بعد ، ہمارے پیٹ میں درد اٹھا کہ ہاتفِ برقی(موبائل) کا نفس ( کریڈٹ)موٹا ہورہا ہے کیوں نہ اسے کم کیا جائے سو کلیدی تختے پر چمکتے ہوئے ہندسوں کے وسیلے سے ”تصویر خانہ“ کے خالق ممتاز رفیق سے رابطہ ممکن ہوا ،تکلف سے بھرپور گفتگو میں ایک لمحہ ایسا آیا کہ ممتاز رفیق نے روح کو سرشار کردینے والی خبر دی کہ زندہ دلوں کے شہر لاہور سے حسین مجروح تشریف لائے ہوئے ہیں ممکن ہو تو گلشنِ اقبال میں” آریانہ ریسٹورینٹ “ پر آجانا۔ صاحبو ، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق ہم گھڑیاں گننے لگے کہ صاحب کب دفتری امور سے فراغت نصیب ہو تو حضورِ یار ہوا جائے ، اس دوران فراست رضوی (اعزازی مدیر سخن زار)، احمد امتیاز(معروف شاعر)، احسن سلیم (مدیر سخن زار)، پروفیسر شاداب احسانی(معروف شاعر ، شعبہ اردو جامعہ کراچی)،احمد عمر شریف (داس عمر، گیتا گیت کے خالق ، حال ہی میں انہیں ” بھگت کبیر“ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے) اور سرور جاوید (معروف شاعر ، نقاد اور صحافی ، ایکپریس کے کالم نگار) کو خبر دی گئی کہ مرشدی کراچی میں ساجد علی ساجد (معروف شاعر) کے ہاں عیادت کے حیلے سے موجود ہیں ، آج شام ان سے ملاقات طے ہے ،وقتِ مقررہ پر ہم ”آریانہ ریسٹورینٹ“ پہنچے تو ممتاز رفیق کو کسی سوچ میں غرق پایا ، شاداب احسانی، سرورجاوید، احمد عمر شریف اوراحمد امتیاز ایک ایک کر کے حلقہ بناتے گئے ،کوئی ۸ بجے کے قریب حسین مجروح صاحب ، ساجد علی ساجد اور ان کے صاحبزادے کے ہمراہ رونق افروز ہوئے ۔
سفید کڑھائی کیے ہوئے کرتے شلوار میں ملبوس ، قد قریباً ۵ فٹ ۳، انچ، سفیدی مائل گندمی رنگت ، مضبوط اور توانا ہاتھ، چوڑے چکلے شانے، مختصر سی گردن، کشمیری سیب کی سی صور ت ٹھوڑی،سیب کی قاش کی صورت تراشی ہوئی کان جن کولوئیں قہقہوں میں جلترنگ چھیڑنے پرآمادہ نظر آتی تھیں،تمتماتے ہویئے رخسار ،قندھاری انار اور خون کی سرخی سے لبریز اور پر ستم کہ بائیں رخسار کے ڈھلکتے ہوئے حصے پر تل ،مختصر دھانہ، نپے تلے تراشیدہ ہونٹ ، گھنی مونچھیں (جن میں برف کی سپیدی غالب ) اوپری ہونٹ کو مکمل طور پر اپنی آغوش میں لیے ہوئے ، مناسب ناک جو بیک وقت احساسِ تفاخر سے بلند اور انکسار سے خم،برسوں کی مشقت سمیٹے عقابی آنکھیں جن پرباہر کی جانب ۴۵ کے زاویے پر گری ہوئی پلکوں کا بوجھ ،باریک فریم اور بھاری عدسوں کی خوبصورت عینک جو آنکھوں میں کرب کو مزید واضح کرتے ہوئے باطنی احوال کی چغلی کھارہی تھی، تھور زدہ بھنویں ،سلوٹوں سے مبرا کشادہ پیشانی جو کشادگی کے دروبست میں مبتلا نظر آئی ،سلیقے سے کاڑھے ہوئے بال ، بائیں آنکھ کی ابتدا سے عبار ت کی گئی مانگ جو بالوں کی اغلب سفیدی میں کبھی ان کے سیاہ ہونے کی گواہی لیے کھڑی ہو۔ اس پر مستضاد لہجہ، ٹھہراؤ اور تندی کے درمیان حدیں طے کرتا ہوا، گفتگو کا زیادہ حصہ مصنوعی قہقہوں پر مشتمل جن میں بغور سننے پر دبی دبی چیخیں عبادت کرتی ہوئی محسو س ہوں ۔
رسمی علیک سلیک کا دورانیہ ختم ہوا تو ادب پر گفتگو کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا، کیٹس، کانٹ ، نکولی گولگئے، کافقا، درولوسکی، شیلے ، امیر خسرو، حافظِ شیراز، میر و غالب، نظیری، اقبال،بلھے شاہ، وارث شاہ، سلطان العارفین ، جوش، نیاز فتح پوری، احمد ندیم قاسمی ، جگر ، فیض ، فراز، راشد، مجید امجد ، میراں جی اور قمر جمیل سمیت دیگر زعمائینِ ادب کے ادبی معائب ومحاسن پر جیسے گھمسان کا رن پڑگیا ہو، سرور جاوید اپنی فطرت کے برخلاف بہت کم شامل رہے ، شاداب احسانی اور حسین مجروح ایک دوسرے سے مسابقت کی حدیں متعین کررہے تھے، احمدا متیاز نے ادبی منظر نامے میں تدریسی خامیوں کی طرف نشاندہی کی تو محفل کی فضا یکدم بدل گئی، پہلے پہل تو شاداب احسانی نے گریز برتا پھر ایسے رطب اللسان ہوئے کہ بس۔۔ گفتگو ایک نتیجے کی طر ف سفر کرنے لگی تو ہم نے کان کھڑے کیے ، طے یہ پایا کہ ادب کو ایک نئے نظریہ کی ضرورت ہے ، وگرنہ ہم اسی طرح اسلاف کی جگالی کرتے رہیں گے ،دنیا کا بیشر ادب اپنی زمین سے جڑا ہوا ہے ، ہمارے ہاں بلب کی موجودگی میں آج بھی دیے شمع چراغ سے آگے کسی کو کچھ سوجھتا ہی نہیں ، بنیادی فکر کو تبدیل کیے بغیر ہم صر ف یہ ڈھول ہی پیٹ سکتے ہیں کہ ادب روبہ زوال ہے ، یہاںاخلاقی و ا نسانی قدیں پامال ہیں اور ادیبوں کو نقالی سے فرصت نہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو ادب کو نیا نظریہ دیا جائے جس کے سلسلے میں شاداب احسانی نے حسین مجروح سے کہا کہ آپ اس کام کی بنیاد رکھیں ہم حاضر ہیں۔ہم اور ممتاز رفیق تقریباً پورے دورانیہ میں یہ احوال اپنے اندر اتار نے میں مصروف رہے تاوقتیکہ ہمیں رات کے بھیگنے کا احساس ہوا ،اور ہم نے اجازت چاہی ، جبکہ محفل رات گئے تک جاری رہی ،چار گھنٹوں پر محیط نشست میں جو گفتگو اور کلام ہم اپنے ذہن میں محفوظ کرسکے اسے آنے والے کسی وقت میں سپردِ قرطاس کرنے کی کوشش کی جائے گی فی الحال تصویر کشی پیش ہے۔ دوستو، اس وقت رات کے چار بج رہے ہیں اور قبل اس کے کہ ہمارے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑایا جائے ، ہم جاتے ہیں نندیا کے نگر،۔۔ حسین مجروح کے ایک شعر کے ساتھ اجازت:۔
یہ نقدِ جاں ہے اسے سود پر نہیں دیتے
جسے طلب ہو ، وہ ہم سے مضاربہ کرلے
شب بخیر احقر : م۔م۔مغل مورخہ: 27 مئی 2009

3 comments:

  1. بہت شکریہ محمود صاحب خوبصورت رُوداد لکھنے کیلیے۔

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ مغل بھائی
    آریانہ ریسٹورنٹ سے تو میرا روز ہی گذر ہوتا ہے.ا فسوس کہ آپ کادیدار نہ ہوسکا.

    ReplyDelete
  3. بہت بہت شکریہ وارث صاحب محبت آپ کی ۔

    مطیع صاحب۔ ضرور انشا اللہ ملاقات رہے گی ۔

    ReplyDelete