Monday, May 25, 2009

“ یہ معافی نامہ نہیں ہے “

“ یہ معافی نامہ نہیں ہے “


نثری شاعری ، ایک نثم

ظلم اور پستی میں گھرے ہوئے انسانو
یوں میری جانب امید و یاس کی تصویر بنے کیا دیکھتے ہو
میں ایک شاعر ہوں اور آج کا شاعر
برسوں پہلے اپنے احساس پر ایک مٹھی خاک پھینک چکا ہوں
اب
حالات کے کولہو سے بندھے ہوئے کسی بیل کی صورت
صرف دائرے مکمل کرسکتا ہوں
میں تمھیں راہ نہیں دکھلا سکتا
کہ مرا اظہار
شہرت اور بے حسی کے درمیان کہیں کھو چکا ہے

م۔م۔مغل

5 comments:

  1. بالکل درست فرمایا جناب

    ReplyDelete
  2. شہنشاہوں کے خاندان "مغلیہ" کے چشم و چراغ ہوتے ہوئے آپ مایوسی کی بات کیوں لکھ گئے

    ReplyDelete
  3. آداب افتخار صاحب۔
    بہت شکریہ کر م نوازی کو ، اور سوال اٹھانے کو۔
    میں عرض کرتا ہوں کہ ، خاندانِ مغلیہ کا چراغ ہونا اور بات ہے حقیقت کا اعتراف کرنا اور بات، فی زمانہ ایک عام انسان کا یہی معمول ہو تو اتنی بڑی بات نہیں کہ جتنا کسی شاعر ادیب کا اپنی اصل راہ سے دور ہوجانا نقصان دہ ہے ، رہی بات مایوسی کی تو مایوسی کی کوئی بات نہیں ، بلکہ میں نے معافی مانگی ہے ان لوگوں سے جن کا مجھ پر حق ہے ، امید ہے وضاحت سے تشفی ہوگئی ہوگی، مجھے امید ہے اسی طرح آپ سے مراسلت رہے گی ، محبتوں میں یاد رکھنے کو ممنو ن و متشکر ہوں ، والسلام

    ReplyDelete
  4. یہ باتیں ہمارے تمام قائدین کے منہ سے نکلتیں تو اچھاتھا

    ReplyDelete
  5. شکریہ مینر صاحب،
    بہت بہت شکریہ ، قارئین کو فرصت کہاں کہ یہ بکھیڑے بھی نبیڑیں۔
    حوصلہ افزائی کو ممنون ہوں۔
    والسلام

    ReplyDelete