Monday, April 13, 2009

اقبال اور مغربی تہذیب

اقبال اور مغربی تہذیب
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا ان علماءکے اثر سے اور ہسپانےہ پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اُٹھا ۔ یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہوگیا۔ بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان ، فرانس ، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سےاسی گرفت میں لیتا شروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے ۔ ترکی ، ایران، مصر ، حجاز ، فلسطین ، مراکش ، تیونس، لیبیا، سوڈان ، عراق ، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار
اقبال نے اپنے کلام میں جابجا مغربی تہذیب و تمدن کی خامیوں پر نکتہ چینی کی ہے اور مسلم معاشرے کو ان کے مضر اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ بعض نقادوں کے خیال میں اقبال نے مغربی تہذیب پر اعتراضات کرکے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس بارے میں لکھتے ہیں۔” اقبال کے ہاں مغربی تہذیب کے متعلق زیادہ تر مخالفانہ تنقید ملتی ہے۔ اور یہ مخالفت اس کے رگ و پے میں اس قدر رچی ہوئی ہے کہ اکثر نظموں میں جا و بے جا ضرور اس پر ایک ضرب رسید کر دیتا ہے۔“یہ کہنا کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا کلام اقبال سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے تہذیب ِ مغرب کے صرف انہی پہلو ئوں پر تنقید کی ہے جنہیں وہ مسلم معاشرے کے لئے مضر سمجھتے تھے۔ ورنہ جہاں تک اچھے پہلوئوں کا تعلق ہے اقبال اس سے کبھی منکر نہیں ہوئے۔اپنی ایک لیکچر میں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی اہمیت جتانے کے بعد کھل کر کہا ہے۔” میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں ۔ اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کو لامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی و ادراکی گہوارے کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔“ اسی طرح ایک اور جگہ وہ صاف صاف کہتے ہیں،
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر
مغربی تہذیب سے اقبال کے اختلاف کے وجوہات:۔
اقبال نے مغربی تہذیب کی جو مخالفت کی ہے اس کی وجہ سیاسی ہے اقبال کے زمانے میں ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو مغربی معاشرے کی ہر بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ قدامت پرستوں کا طبقہ تھا جسے اپنی تہذیب پر فخر تھا چاہے وہ اچھی ہو یا بری ، دوسرا طبقہ اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہوئے مغرب کی تقلید کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ خصوصاً جو لوگ یورپ سے ہو کر آئے تھے ان کی آنکھیں وہاں کی چکاچوند سے چندھیا جاتی تھیں۔ ہاں ان میں اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو مغرب جاکر وہاں سے مرعوب ہو کر نہیں آئے تھے۔ بلکہ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر کے حامل ہو کر وطن واپس لوٹے تھے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مغرب سے مرعوب حضرات جب وطن واپس آئے تو انہیں مغرب کا ہر گوشہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اقبال کو صرف یہ دکھ نہیں تھا کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی قبول کر چکا ہے بلکہ اُسے اس بات کا رنج تھا کہ تمام عالم اسلام یورپی اقوام کی ہوس گیری کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بات نے اقبال کے دل میں مغربی تہذیب کے خلاف نفرت کے جذبات بھر دئیے ورنہ اقبال نے اُس کے روشن پہلوئوں کی جابجا تعریف کی ہے۔
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی خامیاں:۔
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ تین سو سال سے یورپ میں پیدا ہوئی اور جن کی بنیاد عقلیت ، مادیت اور سائنسی ترقی پر ہے اقبال نے یورپی تہذیب کی خامیوں کو کھل کر آشکارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس تہذیب کی بڑی بڑی خامیاں حسبِ ذیل ہیں۔
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے
یہ پیر کلیسا کے کرامات ہیں آج
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پر مرادل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
مادیت:۔
اقبال کے نزدیک اس تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مادی ترقی اور کسبِ زر کو زندگی کی معراج سمجھتی ہے انسانی اخلاق اور روحانی اقدار کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ چنانچہ انسانی زندگی میں توازن ، اعتدال اور ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔
یورپ میں بہت ، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
اقبال فرماتے ہیں کہ میں مشرق و مغرب کے مےخانوں سے خوب واقف ہوں مشرق میں ساقی نہیں اور مغرب کی صبا بے مزہ ہے ۔ جب تک ساقی کی حوصلہ مندیاں اور ذوق صبا ایک جگہ جمع نہ ہو جائیں ۔ اس وقت تک مےخانہ حیات آباد و بارونق نہیں ہو سکتا ۔ مشرق اور مغرب کی موجودہ ذہنیت کا نقشہ وہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مےخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صبا
اقبال کے خیال میں تہذےب حاضر نے جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کیا ہے لیکن اس کے بعد اثبات حقیقت کی طرف اس کا قدم نہیں اُٹھ سکا ۔ اس لئے اس کی فطرت میں ایک واویلا پیدا ہو رہا ہے۔
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا
اس مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کیا ہے۔ اسے خبر نہیں کہ حقیقی راحت مادی اسباب میں نہیں روحانی بلندی میں ہے۔
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش ِ جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام
سائنسی ترقی نے مغرب کی مادی حیثیت سے غیر معمولی طاقت بخش دی ہے اور اُسے ظاہری شان و شوکت سے مالا مال کیا لیکن انسانیت کے اصلی جوہر کو نقصان پہنچایا یہ علوم و فنون انسان کو حقیقی راحت اور آسودگی پہنچانے کے بجائے اُس کی موت کا پروانہ بن گئے۔ انہی آثار کو دیکھ کر اقبال نے پیشن گوئی کی کہ،
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اقبال کو مغربی تہذیب سے یہی شکایت ہے کہ وہ ظاہری اور خارجی فلاح و بہبود پر نظر رکھتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور بلندی کا کوئی دھیان نہیں کرتی۔ حالانکہ یہی انسانی افکار و اعمال کا سرچشمہ ہے یورپ نے عناصر ِ فطرت کوتو تسخیر کر لیا لیکن روحانی نشوو نما اور صفائی قلب کی طرف توجہ نہ دے سکا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
مغرب میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے روگردانی کا سبب یہ بنا کہ سائنس کے انکشافات قدم قدم پر ان کے جامد دینی عقائد سے ٹکراتے تھے ۔ علم کی روشنی نے ان جامد عقائد کو متزلزل کیا تو و ہ مذہب اور مذہب کی پیش کردہ روحانی اقدار سے ہی منکر ہوگئے مادی اسباب کی فراوانی نے تعیش اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ عورت کو بے محابا آزادی مل گئی اور معاشرہ میں فساد برپا ہوگیا۔ روحانی اور اخلاقی اقدار کی غیرموجودگی میں مےخواری ، عریانی ، سود خوری ، اور اخلاقی پستی نے جنم لیا اور ان امراض نے یورپی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اقبال کو اسی لئے ایوان ِ فرنگ سست بنیاد نظر آیا تھا اور وہ اسے ایک سیل بے پناہ کی زد میں سمجھتے تھے۔
پیر مےخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئےنہ دیوار بھی ہے
خبر ملی ہے خدایان ِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیلِ بے پناہ میں ہے
خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ،شیخ محمد اکرام ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں،”اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ”اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی ، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔“
عقلیت پرستی:۔
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لئے حتمی درجہ نہیں رکھتے ۔ اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں۔
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل
نئی تہذیب کی بد قسمتی ہے کہ اس نے عقل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ کہ وہ قافلہ انسانی کو جس طرف چاہے لے جائے عقل یقینا زندگی کا بیش بہا جوہر ہے لیکن اس جوہر کی باگیں عشق کے ہاتھ میں ہونی چاہیں عقل و عشق کی معاونت سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
سائنس کی ہلاکت آفرینی:۔
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں نے مظاہر فطرت کو تسخیر کرکے اپنے فائدے کو پیش نظر رکھا لیکن بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی کے اسباب پیدا کئے ۔ مغربی ممالک بے پناہ قوت حاصل کرنے کے بعد کمزور ممالک کو اپنی ہوس کا شکار بنانے پر تل گئے مغرب والوں نے کارخانے بنائے جو سرمایہ داروں کے ہاتھ آگئے اور مزدور ایک دوسری قسم کی غلامی میں آزادی سے محرو م ہوگئے۔نئی تہذیب کے پرور دہ تاجرانِ فرنگ کے اسی رویے کے خلاف اقبال یہ کہہ کر احتجاج کیا۔
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہنر کے سوا کچھ اور نہیں
مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلذات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اقبال سائنسی ترقی کے خلاف نہیں وہ خود تسخیر کائنات کے مبلغ ہیں انہیں شکایت ہے کہ مغرب نے فطرت کو تو اپنے بس میں کر لیا ہے لیکن اس سے صحیح معنوں میں کام نہیں لیا۔ اور وہ کام ہے انسانیت کی خدمت۔
مغربی تہذیب کی خوبیاں:۔
بعض نقادوں کے نزدیک اقبال کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کی نسبت یکسر مختلف ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا یہ کہنا درست نہیں کہ ” کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔“ یہ رائے اقبال کے حق میں منصفانہ نہیں ہے اقبال نے تو مغربی تہذیب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔مثلاًاہل مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے وہ بے حد معترف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اس میدان میں ان کی تقلید کریں ان کے نزدیک سائنس پر اہل فرنگ کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ مسلمانوں کی گم شدہ متا ع ہے۔ جسے حاصل کرنا ان کا فرض ہے تسخیر کائنات کے لئے کی جانے والی سائنسی ایجادات کو وہ بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اقبال سائنس کوفرنگی زاد نہیں مسلمان زاد بتاتے ہیں۔
حکمت اشیاءفرنگی زاد نیست
اصل اور جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گلے از دست ما افتادہ است
اقبال نے مغرب کی عقل پرستی اور مادہ پرستی کی غلامی پر سخت تنقید کی ہے۔ کیونکہ زندگی کو صرف عقل اور مادہ تک محدود کر لیاجائے تو انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ اس افادی نقطہ نظر کے مخالف ہیں جو ہر قیمت پر صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا۔ مگر اس بات کے وہ قائل ہیں کہ عملی زندگی کے لئے مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور عقل بھی بڑا قیمتی جوہر ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عقل اور مادہ کی ترقی اور کار گزاریوں پر روحانی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوں ورنہ مادی ترقیوں اور عقل کے کارناموں کے وہ معترف ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔یورپی علم و ہنر نے اہل فرنگ کی تمدنی زندگی کو جو ظاہری صفائی اور سلیقہ مدنی عطا کی اسے بھی اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں افرنگ کا ہر وہ قریہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمارے شہر بھی اسی طرح جنت منظر بن جائیں۔اقبال اہل یورپ کی سود خوری ، میخواری ، عریانی ، بے حیائی اور مادر پدر آزادی کے تو سخت مخالف ہیں لیکن وہاں کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اہل یورپ کی محنت کی عادت ، ایفائے عہد، پابندی وقت ، کاروباری دیانت اور اسی قسم کی اخلاقی خوبیوں کے باعث انہیں یورپ کے کفار اپنے ہاں کے مسلمانوں کی نسبت اسلام کے زیادہ پابند نظر آتے ہیں یورپ نے زندگی کی جو نعمتیں حاصل کی ہیں ان کے نزدیک وہ انہی اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے کا نتیجہ ہیں اور یہی اسلامی خوبیاں ہیں جو یورپ میں پائی جاتی ہیں مگر ہم مسلمان ان سے محروم ہیں۔
اندھی تقلید کی مذمت:۔
اقبال نے مغربی تہذیب اور علوم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھاوہ مغربی معاشرہ کی خامیو ں اور خوبیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی تہذیب کی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرقی رہنمائوں کی بھی مذمت کی ہے جو مغرب کی اندھی تقلید کو شعار بنا کر ترقی یافتہ قوموں کے زمرہ میں شامل ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے مغرب کی حقیقی خوبیوں کو چھوڑ کر صرف ظاہری باتوں کو اپنا لیا ، اور ضروری اور غیر ضروری میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔اس قسم کے تجدید اور ترقی کی کوششیں مصر ، ترکی، ایران اور افغانستان میں ہوئیں، مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں خلافت کو ختم کر دیا۔ فقہی امور میں قران کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ علماءکو یہ تیغ کرا دیا۔ عربی رسم الخط ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیا ر کر لیا اور بذعم خود اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ امیر امان اللہ خان نے افغانستان اور رضاشاہ نے ایران کو بھی اسی طرح جدید طرز کا ملک بنا نا چاہا۔ ان سب رہنمائوں نے ظاہری اُمور کو کافی سمجھا اور یہ کوشش نہ کی کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کی اچھائیوں کی اساس پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھے۔ اقبال نے اسی رویہ کی مذمت کی ہے۔
نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں ہے اس کی نمود
کہ روح شرق بد ن کی تلاش میں ہے ابھی
اقبال کو اس بات کو بہت رنج ہے کہ مشرقی ممالک اپنی نا سمجھی کے باعث تہذیب ِ مغرب کی اندھی تقلید کے پھندے میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اس غفلت پر وہ اس طرح نوحہ کرتے ہیں۔
پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
اقبال کو اپنے ہم وطنوں سے بھی یہی شکوہ ہے وہ مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی کے لئے لباس کی خاص وضع قطع اور اپنی زبان چھوڑ کر بدیسی زبان اختیار کر لینا۔ اور عورتوں کو بے پردہ کر دینا اور شراب و چنگ کا سہارا لینا ضروری نہیں بلکہ یہ تو وہ راستہ تھا جو ہمیں تہذیبی اور فکری اعتبار سے مفلس بنا رہا تھا۔ اوراسی ذریعہ سے مغربی اقوام سےاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ہم پر اپنی ذہنی غلامی بھی مسلط کر رہے تھے۔
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زرقص دخترانِ بے حجاب
اقبال کی پسندیدہ تہذیب:۔
اقبال کو مغربی تہذیب میں اگر کچھ خامیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ اور اسکی مروجہ تہذیب سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اپنی قوم میں بہت سی خامیاں نظرآتی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے آگے کوئی مقصد یا نصب العین نہیں، ان کے دل گرمی ، تڑپ اور حرارت سے محروم ہیں۔دین کا نام لینے والے تو بہت ہیں لیکن دین کے اصولوں پر چلنے والے بہت کم ہیں۔ اسے نہ راستے کا پتہ ہے اور نہ منزل کا چنانچہ حال یہ ہے کہ،
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف
اگرچہ اقبال مشرق و مغرب دونوں کی موجودہ حالت سے مایوس ہیں لیکن اُسے ایک امید ہے کہ مسلمان قوم کے پاس دین اسلام کی شکل میں ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کی دوڑ میں مغربی اقوام سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جدید مغربی علوم و فنون سے بھی واقف ہوں اور اپنے ورثے سے بھی بیگانہ نہ ہوں۔
مجموعی جائزہ:۔
مختصر یہ کہ یہی وہ تہذیب ِاسلامی ہے جس کے اقبال آرزو مند ہیں ۔ اس تہذیب کے عناصر میں اخوت ، مساوات، جمہوریت ، آزادی ، انصاف پسندی ، علم دوستی ، احترام انسانی، شائستگی ، روحانی بلندی اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اور ان کی بنیاد پر یقینا ایک صحت منداور متوازن معاشرہ کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صالح عناصر ظاہر ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب میں موجود نہیں اس لئے اقبال اس کی مخالفت زیادہ اور تعریف کم کرتے ہیں۔
وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار سخن ساز ہے نمناک نہیں ہے
حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی
اس اظہاریہ کے خالق وہاب اعجاز خان صاحب ہیں جو صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے ہیں۔ بشکریہ اردو محفل

2 comments:

  1. اچھی تحریر ہے ۔ حیرت ہے کہ اس پر کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ وجہ شاید تحریر کی طوالت ہے کہ ہم لوگوں میں سنجیدہ مضامین پڑھنے کا حوصلہ نہیں ہے ۔
    چند کتابت کی غلطیاں ہیں جس سے معنی بدلنے کا خدشہ ہے ۔ ایک بار پڑھ کر درست کر لیجئے

    ReplyDelete
  2. افتخار اجمل بھوپال صاحب
    بلاگ پر خوش آمدید
    بس صاحب آج کے دور میں وقت کا میسر ہونا نعمت سے کم نہیں پھر بھی آپ ایسے صاحبان کرم فرماتے رہیں تو مجھ ایسے کا حوصلہ بڑھےگا۔ کتابت کی اغلاط میں دیکھ لیتا ہوں نشاندہی کیلے ممنون ہوں۔
    والسلام

    ReplyDelete