Thursday, April 2, 2009

لیاقت علی عاصم عالمی مشاعرہ پڑھتے ہوئے

عشق بارِ دگر ہوا ہی نہیں

دل لگایا تھا دل لگا ہی نہیں

ایک سے لوگ ایک سی باتیں

گھر بدلنے کا فائدہ ہی نہیں

ورنہ سقراط مرگیا ہوتا

اس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں

-------------------------------

کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا

مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا

تیرے ہجر میں خورو خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ

کوئی لقمہ ہاتھ سے گر گیا تو خیال تیری طرف گیا

کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی

کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا

کوئی آ کے جیسے چلا گیا، کوئی جا کے جیسے گیا نہیں

مجھے اپنا گھر بھی نہ گھر لگا تو خیال تیری طرف گیا

مری بے کلی تھی شگفتنی سو بہار مجھ سے لپٹ گئی

کہا وہم نے کہ یہ کون تھا تو خیال تیری طرف گیا

میرے اختیار کی شدتیں میری دسترس سے چلی گئیں

کہیں تو بھی سامنے آ گیا تو خیال تیری طرف گیا

مجھے کب کسی کی امنگ تھی مری اپنے آپ سے جنگ تھی

ہوا جب شکست کا سامنا تو خیال تیری طرف گیا

لیاقت علی عاصم

عالمی مشاعرہ ۱۹۹۶ کراچی

video

یو ٹیوب کا ربط

http://www.youtube.com/watch?v=-cW61oJzslc

2 comments:

  1. واہ واہ، لاجواب، بہت خوبصورت غزلیں ہیں کیا شاندار اشعار ہیں۔

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ وارث صاحب۔ بہت محبت آپ کی۔

    ReplyDelete