Friday, April 24, 2009

مصطفےٰ کمال کا ایک روپ

مصطفےٰ کمال کا ایک روپ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ
"آدمی اقتدار واختیار ملنے کے بعد بدلتا نہیں صرف بے نقاب ہوتا ہے "
ناظمِ شہر کراچی مصطفےٰ کمال کی بحیثیت ایم کیو ایم کے کارکن ہونے کے حوالے سے مجھے اختلاف رہا خاص طور پرمحسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے حوالے سے موصوف مشرف دور میں جو بیانات دیتے رہے اس پر قلم اٹھاتے ہوئے مجھ ایسا بندہ جو کسی تعلق کی لاگ کے بغیر اپنی رائے دینے میں فخر محسوس کرتا ہے وہاں دوستوں کے طنز کا نشانہ بھی بنتا ہے ، خیر مصطفےٰ کمال کا جہاں یہ روپ سروپ ہے وہاں اس شخص کو میں ایک محنتی آدمی تسلیم کرتا ہوں جیل چورنگی کی بات ہو یا گلشن ِ اقبال کی ، غریب آباد کی بات ہو یا ناگن چورنگی کی تعمیراتی کام کے دوران میں نے اسے رات رات بھر تعمیراتی کاموں کا معائنہ کرتے ، مزدوروں کے ساتھ خوش گپیا ں کرتے دیکھا ہے مشاعروں سے رات گئے واپسی پر کئی بار رات چار بجے بھی موصوف بغیر محافظوں کی اضافی فوج کے نظر آئے ، پھر آئی اون کراچی کے سلسلے میں جب میں اپنا حصہ ملانے گیا تو سوک سینٹر کی عمار ت میں موصوف سے کئی گھنٹے طویل گفتگو رہی ۴۸ گھنٹوں میں کراچی کے عام اور خاص آدمیوں نے۲۰ہزار کے قریب درخواستیں جمع کروائیں، یہ موصوف پر عام آدمی کے اعتماد کی نشانی ہے کہ موچی ، ٹھیلے ولا، پنکچر ولا، کوئی شاعر، کوئی مستری، کوئی استاد یابڑے ہوئے گھروں کے روشن خیال لڑکے لڑکیاں اس کام میں جوق در جوق شامل ہوئے۔۔۔آج جب میں یہ سطریں لکھنے بیٹھا ہوں اس کی وجہ ایک تازہ واقعہ ہے جو میرے مشاہدے میں پہلی بار آیا ہے دفتر آنے جانے کے لیے میں حسن اسکوائر کا پل استعمال کرتا ہوں آج جب میں دفتر آرہا تھا تو سڑک پر گاڑیوں کا ہجوم عام دنوں کے جیسا ہی تھا ہاں البتہ نیشنل اسٹیڈیم کے قریب کئی اضافی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں جس کی وجہ سے اسٹیڈیم کے قریب پل کے پاس خاصا ہجوم تھاہم اپنی دھن میں سوار ادھر ادھر نظریں دوڑاتے چلے جارہے تھے کہ ہارن کی آواز پر مڑ کر دیکھا اور گاڑی ایک طرف کرلی کچھ گاڑیوں کا ” قافلہ “ سر پر آن پہنچا تھا ،سب سے آگے ایک پولیس کی گاڑی تھی جس میں کئی جوان چوکنے کھڑے تھے ، اس کے پیچھے ایک ساہ رنگ کی بلٹ پروف گاڑی تھی اور اس کے بعد ایک سفید رنگ کی سرکاری کارمیرے بائیں اور سیاہ کار کے دائیں جانب ایک موٹرسائیکل پر دو پولیس کے کمانڈو تھے اس مشاہدے میں مجھے سیاہ رنگی کار میں مصطفےٰ کمال نظر آئے اسٹیڈیم کے پل سے لیکر ہمارا ساتھ بلوچ کالونی پل تک رہا ہم نے کیمرہ نکالا تو ایک پولیس کے جوان نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا ہم نے بلا چوں چراں کیے کیمر ہ واپس رکھ لیا،راستے میں دو ٹریفک سنگل آئے پہلا کارساز کا جہاں یہ ”قافلہ “ قانون کی پابندی کرتے ہوئے رک گیا۔۔۔ محافظ مزید چوکنے ہوگئے تھے ، راستے میں ایک بار بھی ” ہوٹر “ نہیں بجا یا گیا شاید ایک بار ہلکی سی ”عام ہارن “ کی آواز گونجی تھی ، شاراع فیصل کو ملانے والے پل پر دو ایک گاڑیا ں اس ”قافلے“ سامنے آئیں تو قافلہ کی رفتار کم ہوگئی (رفتار کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ موٹر سائیکل پر تمام سفر میں ساتھ ساتھ چلتا رہا)، عوامی مرکز کے سگنل پر ٹریفک کانسٹیبل نے گاڑیوں کو روک کر زیبرا کراسنگ سے لوگوں کو پار جانے کی اجازت دی تو یہ ”قافلہ “ (اب اس میں، میں بھی شامل ہوگیا تھا) رک گیا، بلوچ کالونی تک ہمار ا سفرکوئی ساڑھے چارکلومیٹر کا ہے ۔۔۔میں اس قافلے سے بچھڑ کر دفتر چلا آیا اور قافلہ گورنر ہاؤ س کی طرف روانہ ہوگیا۔راستے میں شہری خود ہی دائیں بائیں ہوکر ”قافلے “ کو راستہ دے رہے تھے، دفتر پہنچ کر جب میں یہ مراسلہ تحریر کررہا ہوں مجھے ابھی تک اس بات کا یقین نہیں آرہا کہ آیا میں عالمِ بے خوابی میں ہوں یا ۔۔۔لیکن آخری جملہ جو میں نے اس مشاہدے سے کشید کیا ہے ضرور لکھنا چاہوں گا کہ ”کسی حکمران کے فرعون یا محبوب ہونے میں صرف ”رویے “ کا فرق ہوتاہے“

12 comments:

  1. چلو اچھا ہے قافلے نے ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری تو کی۔ یہ سب دہشت گردی کیخلاف جنگ کا شاخسانہ ہے کہ حکمرانوں کو اپنی حفاظت کرنی پڑ رہی ہے۔ آج اگر حکومت اس جنگ سے ہاتھ کھینچ چلے تو ہر طرف امن ہی امن ہو جائے گا۔

    ReplyDelete
  2. مصطفٰی کمال ملک کی سب سے بدنام جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن اگر انفرادی طور پر دیکھا جائے تو اس جیسا بندہ کوئی نہیں ہے.

    ReplyDelete
  3. بہت بہت شکریہ جناب ، یقینا جب تک عوام و خواص قوانین کی پاسداری نہیں کرتے کسی بہتری کی توقع فضول ہے بہت شکریہ آپ تشریف لائے اور رائے کا اظہار کیا۔
    والسلام

    ReplyDelete
  4. شاہ11025/4/09

    بہت خوب جناب مصطفیٰ کمال کے بارے میں آپ کی رائے جان کر کافی کچھ جانّے اور سمجھنے کا موقع ملا
    شکریہ مغل صاحب

    ReplyDelete
  5. یقیناً اچھے کام کو سراہا جانا چاہیے خاص طور پر اس وقت جب ایسی مثلایں کم ملتی ہوں
    آج گھر آتے ہوئے سگنل پر ایک عام سے حکومتی فرد کو دیکھا کہ ایمبولنس ہوٹر بجارہی ہے مگر موصوف کو ہوش ہی نہیں ہے ٹریفک والے نے آکر بتایا تب انہوں نے گاڑی ہٹائی

    ReplyDelete
  6. شکریہ باسم صاحب۔
    یقینا اچھے کام کو سراہنا چاہیے ،
    آپ نے جو نشاندہی کی ہے اس کے لیے اور بلاگ پر رائے سے نوازنے کے لیے ممنون ہوں ۔
    والسلام

    ReplyDelete
  7. اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ایم کیو ایم ایک دہشت گرد اور غنڈہ جماعت ہے اور کراچی پر گن پوائنٹ کے زور پرکنٹرول حاصل کیا ہے۔

    لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس جماعت کے سارے لوگ برے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ مصطفٰی کمال جیسے لوگ اپنے کام سے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد اس جماعت کے نام نہاد لیڈر الطاف حسین کو کک آوٹ کرکے اس سے کراچی کے تیس ہزار سے زیادہ معصوم انسانوں کے قتل عام کا حساب مانگے ۔

    ReplyDelete
  8. شکریہ خورشید صاحب
    ہم آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

    ReplyDelete
  9. shahidaakram26/4/09

    مُجھے يقين نہيں آرہا کہ ايسا ہُوا ہے اور اگر واقعی ايسا ہی ہے تو قابِلِ تحسين ہے کاش کہ ہم مِن حيثُ القوم ہو کر ايسا کريں تو بلا شُبہ ہمارا شُمار دُنيا کے بہترين اُن لوگوں ميں ہو سکتا ہے جيسا کہ مُصطفيٰ کمال کو بھی اعزاز دياگيا ورنہ آپ کی تحرير کے اِختتام پر مُجھے لگ رہاتھا آپ کہوگے اور پھر ميری آنکھ کُھل گئ

    ReplyDelete
  10. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  11. شاہدہ اکرم27/4/09

    مُغل صاحِب شُکريے کی کوئ بات نہيں ،ہاں ايک ضرُوري بات اگر نام درُست کر ليں تو اکرم صاحب کو بہت اچھا لگے گا کہ ہر کوئ اپنے نام کے مُعاملے ميں بہت حساس ہوتا ہے
    شاہدہ اکرم
    گو بات صِرف ايک الِف کی ہے ليکِن وُہ کيا ہے کہ اصل ميں
    ايک نُقطے نے ہميں محرم سے مُجرِم کر ديا
    والی بات ہے

    ReplyDelete
  12. م۔م۔مغل said...
    بہت بہت شکریہ شاہدہ اکرم صاحبہ
    کرم نوازی کے لیے ممنون ہوں کہ آپ میرے اظہاریہ پر تشریف لائیں اور قیمتی رائے سے نوازا، پہلے پہل مجھے بھی اس بات کا گمان تھا کہ شاید کوئی خواب ہو یا پھر میری آنکھوں کا دھوکہ، مگر یہی سچ ہے ،
    ایک بار پھرے بہت بہت شکریہ۔
    امید ہے آپ سے شرفِ کلام حاصل رہے گا۔
    والسلام

    چونکہ ان مراسلات میں تدوین کی سہولت نہیں ہوتی سو میں نے تو مراسلہ حذف کردیا ہے نشاندہی کے لیے ممنون ہوں،

    والسلام

    ReplyDelete