Monday, April 20, 2009

اظہاریہ نویسوں کا قومی اجتماع ۲۰۰۹

اظہاریہ نویسوں کا قومی اجتماع ۲۰۰۹ (نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009)
کچھ دن قبل آرٹس کونسل میں ” بیادِ پروین شاکر “ مشاعرے میں ہمیں ہاتفِ برقی پر ایک ”دھمکی آمیز پیغام “وصول ہوا کہ میاں جان کی امان چاہتے ہو تو ”۸ ۱ اپریل ۲۰۰۹ “ کو شاہراہ فیصل پر ” ۴ بجے سہ پہر،ہوٹل ریجنٹ پلازہ “ پہنچ جانا وگرنہ وہ وہ دفعات لگاؤں گا کہ۸۵۷ ۱ یاد آجائے گی، صاحبو ! جان کی امان کون کافر نہ چاہے گا یہ اور بات کہ دل نہ چاہے ۔۔تو جناب ہم نے ڈرتے ڈرتے حامی بھر لی رابطہ منقطع ہو ا تو تلاش کے بعد ہم پر یہ عقدہ کشائی ہوئی کہ پیغام ” ملیر بار “ کے ” طقی بے طقی باتیں“ کرنے والے وکیل رہنما شعیب صفدر کا تھا، ابھی ہم پوری طرح سنبھلنے نہ پائے تھے کہ ” شادیوں کی مصروفیت کا بہانہ “ بنانے والے ” عمارابنِ ضیاء“ سے رابطہ ہوا موصوف نے بھی یاد دہانی کے نام پر ”حکم “ جڑ دیا، کہ صاحب گزشتہ بار بھی آپ نہیں آئے اس بار کوئی عذر (لنگ) قبول نہ ہوگا، دوستو ! ، سانپ کے منھ میں چھچھوندر ، نہ اُگلے چین نہ نگلے چین کے مصداق۸ ۱ اپریل ۲۰۰۹کو ہمیں اپنی دفتری مصروفیات کے بعد ” وکیل رہنما“(شعیب صفدر) اور ” شکیل راہبر“ (عمار پہلے راہبر تھے) کے احکامات کی تعمیل کے لیے پہنچنا پڑا ، رویستوران پہنچے تو معلوم ہوا کہ کسی ” بڑے “ نے آنا ہے سو اپنی غربت نصیب بلیلہ (دوست اعتراض کریں گے کہ اس بار بلیلہ کو لات رسید کرنے کا ذکر ہم نہ کیا،سو شامل سمجھا جائے)کوبلیلاؤں کے” اصطبل “میں کھڑا کیا اور ”برقی تلاشی “کے بعد ” کوہِ نور ہال “ میں داخل ہوئے ۔۔ دھیمی دھیمی روشنیوں نے بڑی حد تک خوابناک ماحول بنا رکھا تھا : پچھلی صف میں بیٹھے بیٹھے بھول گیا اگلی صف میں کس دن پہلے بیٹھا تھا کے مصداق سب سے پچھلی نشست پر ہم رونق افروز ہوگئے ، تصویر کشی کے آلات تیز ہی کر رہا تھا کہ ہندوستانی فلم ” تیرے نام “ کے ہیرو کی طرح لٹیں لہراتے، جھومتے جھامتے حضرتِ فہیم آن وارد ہوئے ، بغلگیری پر آمادگی نے ہمیں ایک دوسرے کے کپڑوں سے اٹھنے والے عطریات کا ” ذائقہ “ سمجھنے میں مدد کی ، اگلی نشتوں پر ”شکاری “، ” ابو شامل “ ، ”ابنِ ضیاء“ ، ” نعمان کی ڈائری “ ، ” طقی بے طقی “باتوں والے براجمان تھے ہاں ایک صاحب اور تھے جن کام ہمارے ذہن سے محو ہوگیا سب اتنا یاد ہے کہ وہ فہد کے صحافی دوست تھے ، ” بغلگیری “ کو رسمِ ملاقات سمجھ کر ہم نے معانقے کیے اور نشستوں پر ٹھسے سے بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔۔۔

(قومی اظہاریہ نویسوں کے اجتماع کا ایک منظر)
”ہال “ تقریباً بھرا ہواتھا ہر طرف انگریزی کی لت میں گرفتار قوم موجود تھی ، اردو اظہاریہ نویسوں کے ٹولے میں بھی ہم واحد تونہیں تھے جو ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیص میں ملبوس تھے بلکہ شکاری میاں بھی تھے۔۔ باقی تمام افراد انگریزی جامے زیب تن کیے ہوئے تھے۔۔۔۔

(عمار ابنِ ضیاء اردو اظہاریہ پر روشنی ڈالتے ہوئے)
صوبائی وزارت” انفارمیشن ٹیکنالوجی “کےجھنڈے تلے منعقدہ اس اجتماع میںمیزبانی کے فرائض رابعہ غریب اور علی چشتی نے انجام دیے( یہ نام ہمیں بعد میں معلوم ہوئے)۔ اس موقع پر تقریب کے روح رواں صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون بھی موجود تھے معروف انگریزی کالم نگار اردشیر کاؤس جی (جو پورے اجلاس میں اونگھتے نظر آئے ، موصوف نے جب اونگھنے سے فرصت پائی تو اٹھ کر چل دیے سلوٹ آلو د فرنگی قمیص اور جھانگیہ جسے اختصار کی انتہا ؤں نے چھو رکھا تھا زیب تن کیے ہوئے تھے ہم نے یہ ” روشن خیالی کامنظر“ تصویر میں محفوظ کرنا چاہا تو دو ایک صاحبان آڑے آگئے وگرنہ یہ خوش کن منظر آپ بھی ملاحظہ کر رہے ہوتے )۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار مہمان خصوصی تھے، فاروق ستار صاحب نے اپنی گفتگو السلام علیکم کے عربی الفاظ سے شروع کی اور انگریزی کے بہاری بھرتے میں اردو کا تڑکا لگاتے ہوئے اختتام کیا ، اظہاریہ (بلاگنگ) سے شروع ہونے والے گفتگو میں امریکی صدر بارک حسین اوبامہ کے بلاگ کے تذکرے اور افادیت کے ساتھ اظہاریہ یعنی بلاگنگ کی افادیت پر زوردیا ، گفتگو کے دوران انہوں نے ایک لطیفہ بھی سنایاکہ۔۔۔
ایک بار ”اینٹی سائبر کرائم “ نے تین ملزمان کو گرفتارکیا ، محکمہ جاتی کاروائی کے بعد ”انفارمیشن ٹیکنالوجی “ کے وزیرِ باتدبیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ہم نے ” سائبر گروپ “ کو گرفتار کیا ہے یہ بہت بڑی کامیابی ہے باقی ملزموں سے پوچھ گچھ جاری ہے ایک ملز م کانام ” سائبر “ معلوم ہوا ہے “
فاروق ستار کی تقریر طالبان اور ان کی نام نہاد شریعت کے حوالے سے رہی جس میں سب سے خوبصورت جملہ یہ تھا کہ ۔۔
” الطاف بھائی وہی کہتے ہیں جو منا بھائی ایم بی بی ایس نے کہا ، یعنی ٹینشن لینے کا نہیں دینے کا ۔۔سو ٹینشن دیجیے اور اس حوالے سے آپ اپنے بلاگ میں دل کھول کر اظہارِ رائے کیجیے “
سوالات کے سلسلے میں ایک عباسی صاحب نے کہا : ” جناب آپ وزیرو ں کی فوج کو بڑی بڑی مرسڈیز اور لینڈ کروزر دے رکھی ہیں ایک ایک لیپ ٹاپ ہی دے دیں ، جس پر ہال کافی دیر تک تالیوں کی گونج میں رہا، فاروق ستار نے کہا بھئی چندہ کرکے ہم دے تو دیں مگر سکھائے گا کون ، 11 سالہ عمیمہ نے کہا و ہ اس کام کے لیے بھی ” پی اے “ رکھ لیں۔۔ جس پر اجتماع گاہ قہقہوں سے گونج اٹھی، اظہاریہ کے حوالے سے انہوں کے بس اتنا کہا کہ ہم متعلقہ ادارے کو ایک سمری بھیج دیں گے ۔
پاکستان کی سب سے کم عمر ” مائکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ “11سالہ عمیمہ کو ہمارے وہاں پہنچے سے پہلے ہی لیپ ٹا پ دیا گیا تھا، بچی نے فاروق ستار کے ساتھ تصویر کشی کی فرمائش کی جس کی پاداش میں اردو اظہاریہ نویسوں کو کم وقت دیا گیا،( بلکہ احسان جتاتے دو منٹ دیے گئے ) سب سے آخری مقرر ” اردو اظہاریہ کے حوالے سے ) عمار ابنِ ضیاءتھے ( جو پوری نشست میں کبھی پرچے سنبھالتے کبھی ”رٹا “ لگاتے نظر ٓئے )جب وہ آئے تو فاروق ستار نے” داغ “کا شعر پڑھنے کی کوشش کی کئی بار ” اردو ہے جس کا نام ۔۔“ کہہ کر رک گئے ، ہماری خوئے ظرافت و امتیاز نے ہمیں اکسایا تو ہم نے لقمہ دیتے ہوئے شعر مکمل کیا۔۔ عمار جب تقریر کر رہے تھے تو ہم ”ویڈیو “ بنانے میں مصروف تھے سو لکھ نہ سکے ، یہ اقتباسات ابوشامل کی دین ہیں سو ملاحظہ کیجیے کہ عمار نے کیا کہا۔۔۔
پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد اردو میں معلومات چاہتی ہے۔ اس کا واضح اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین سب سے زیادہ اردو اخبارات، نیوز چینلز کی ویب سائٹس وغیرہ دیکھتے ہیں اور اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اردو میں مواد کی طلب انگریزی کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
پاکستانی نوجوان انٹرنیٹ کے حقیقی فوائد سمیٹنے میں ناکام رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے اظہار کی زبان میں مواد موجود ہی نہیں۔
پاکستان کے اہم انگریزی بلاگز کے نام تک اردو میں ہیں اور وہ جابجا اردو اشعار، محاورے، اصطلاحات وغیرہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانیت، چورنگی، بیٹھک، سوچ، وطن دوست، لاہور نامہ، جہان رومی وغیرہ۔

مکمل تصاویر دیکھنے کے لیے کھٹکا کریں

اختتام پر ” ہائی ٹی “ کا انتظام کیا گیاتھا، لذتِ کام و دہن کے بعد ہمیں چونکہ” ٹی وی کی ریکارڈنگ “ کے لیے جانا تھا سو ہم دوستوں سے اجازت کے بعد رخصت ہوئے ۔اس موقع پر میں عمار، شعیب صفدر، فہیم، شکاری ، نعمان اور ابو شامل کا ممنو ن ہوں کہ مجھے انہوں نے اس خوبصورت موقع پر یاد رکھا ، آئندہ کے حوالے سے ہمیں کام کرنا ہے سو انشا اللہ ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ اگر ہماری حاضری رہی تو ہم اردو اظہاریہ کے حوالے کچھ مزید کام کریں گے اور اس کے فروغ کے لیے اپنی سی کوشش کریں گے ۔
اب اجازت دیجے ،والسلام علیکم مع الاکرام

13 comments:

  1. جناب آپ تو پورے نمبر لے گئے اور ابھی بھی جاری ہے کمال ہے!!!!۔
    اور اسے سلیس اردو میں کون سمجھائے گا؟؟؟ :)

    ReplyDelete
  2. بھائی آپ نے تو میدان مار لیا مکمل نمبر آپ کو ملے اور ابھی جاری ہے زبردست!۔
    اچھا اب اسے سلیس اردو میں کون لکھے گا؟؟؟

    ReplyDelete
  3. ہاہاہا ہا ۔۔ ارے جناب اس میں پورے نمبر کی کیا بات مدعو تو ہمیں آپ نے کیا تھا نا ، وگرنہ ہم تو محروم ہی رہ جاتے گزشتہ کی طرح ، میں جلد ہی اسے مکمل کرتا ہوں ، بہت بہت شکریہ ، ویسے ابھی تصاویر باقی ہیں ، آُ کی سب سے زیادہ خطرناک تصاویر ہیں۔

    والسلام
    م۔م۔مغل

    ReplyDelete
  4. بہت شکریہ مغل صاحب وڈیو پیش کرنے کا۔ میرے خیال میں عمار کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ بھی اس وڈیو سے ہوگا اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ اس نے کس صورتحال میں کیا کام کر دکھایا۔

    ReplyDelete
  5. شکریہ شامل کے ابا جان محبت ہے آپ کی ، اور ہاں میں نے مراسلہ مکمل کردیا ہے اور ادرو ویب پر بھی لگا دیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے گا۔
    والسلام

    ReplyDelete
  6. بہت خوب ! عمدہ رپورٹنگ ہے۔ الفاظ / جملوں کی نشست و برخاست نے بھی خاصا متاثر کیا۔
    ویسے یہ "اظہاریہ نویس" ترکیب ذرا سمجھ میں نہیں آئی۔ لغت میں اظہاریہ نام کا لفظ ہی نہیں ملتا۔ اب یہ اساتذہ ہی بتا سکتے ہیں کہ کس حد تک یہ لفظ قبول ہو سکتا ہے؟

    ReplyDelete
  7. آپ کا تحریر انداز واقعی منفرد ہے۔
    گاڑھی اردو والا۔ ہاہاہاہاہا۔

    ارے ہاں وہاں محفل پر آپ کی ایک غلطی کی نشاندہی کرکے آیا ہوں۔
    اسے چیک کرلیے گا۔

    ReplyDelete
  8. محترم آپ اکیلے شلوار قمیض نہیں تھے میں بھی قومی لباس میں تھا۔ اس لیے اپنے جملے کو ٹھیک کرے ایک نہیں ہم دنوں لکھ دیجئے۔

    ReplyDelete
  9. فہیم اور شکاری نشاندہی کے لیے شکریہ، میں نے تدوین کردی ہے،
    باذوق صاحب بہت شکریہ اظہاریہ نویس عام سا لفظ ہے کالم نگار کے معنوں میں بلاگ چونکہ ای کالم ہے اس لیے اسے اظہاریہ نویس کہنے میں مجھے کوئی تامل نہیں۔
    آپ کی محبتوں کا ممنون
    والسلام

    ReplyDelete
  10. بلاگرزکانفرنس کا انعقاد ایک جانبدارانہ پلیٹ فارم اور ماحول میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو کہ غیر مناسب اقدام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے ایسے شکوک شبہات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاگنگ اور بلاگرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی طور پر استعمال تو نہیں ہونے جارہے؟؟؟؟؟؟؟
    ہونا یہ چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلاگرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسوسی ایشنز بنائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مقامی،صوبائی، قومی و بین الاقوامی کانفرنسز کا خود انعقاد کیجئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  11. جزا ک اللہ حکیم صاحب۔
    آپ کا محبت نامہ موصول ہوا، بہت شکریہ کرم نوازی کیلیے ، مجھے آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے ، میں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ اردو اظہاریہ نویسوں کا اجتماع کیا جائے ، انشا اللہ بہت جلد آپ خوشخبری سنیں گے۔
    آپ کی محبتوں کے لیے ممنون
    م۔م۔مغل

    ReplyDelete
  12. بہت اچھی منظر کشی کی آپ نے۔

    ایک احساس ہوا ، کہ یہ ساری مشق صرف ایک پبلک ریلیشن کی مشق تھی۔ کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا،

    نشستند، گفتند و برخاستند؟

    ReplyDelete
  13. بہت بہت شکریہ منیر صاحب آپ تشریف لائے اور رائے سے نوازا میں نے آپ کو اپنی بلاگ لسٹ میں شامل کردیا ہے امید ہے آپ سےرابطہ رہے گا۔
    والسلام
    م۔م۔مغل

    ReplyDelete