Wednesday, April 15, 2009

امریکی صدر بارک حسین اوبامہ کے نام خط

دوستوں ہمیں پچھلے دنوں ایک خط موصول ہوا جو محکمہ ڈاک کی غلطی سے ہمیں موصول ہوگیا اس کا متن خاصا خوشگوار ہے آج کے اظہاریے میں وہی خط جوں کا توں پیش کیا جاتا ہے اسے پڑھ کر آپ اپنی رائے سے نوازیں بہت شکریہ
بندہ ناچیز: م۔م۔مغل
امریکی صدر بارک حسین اوبامہ کے نام خط
عزت مآب صدربارک حسین اوبامہ صاحب میں بھی آپ کو ایک خط لکھنے کی جراء ت کر رہاں جب کہ گمنام آدمی ہو۔ مجھے یہ ضرورت اس لیئے پیش آئی کہ چند روزپہلے مسلم ملکوں کے سر براہوں نے بھی ایک کھلاخط لکھا ہے جنہیں دنیا جانتی ہے کہ وہ لوگ وہ نہیں لکھتے جو انکے دل میں ہو تا ہے ۔اس لیئے وہ اس سے بار بار مکرتے بھی رہتے ہیں ۔ جبکہ آپ جو کہتے ہیں دوتین دن میں آپ نے عمل ثابت کردیا ہے کہ وہ کرتے بھی ہیں۔ انہوں نے جو کچھ لکھا اپنے مفادات کی ترجمانی کی ہے ۔مگر میں جو کچھ لکھ رہاں ہوں۔ وہ عوام کے دلوں کی آواز ہے اور آپ کو دونوں واضح فرق محسوس ہوگا ۔ چونکہ آپ غیر معمولی ذہانت کے حامل ہیں وہ خود اس سے ظاہر ہے کہ عام آدمی ہوتے ہو ئے بھی یہاں تک بہت ہی قلیل مدت اور کم عمری میں پہو نچ گئے ۔ لہذا آپ کی ذہانت سے مجھے امید ہے کہ آپ یہ دیکھیں گے کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ؟ یہ نہیں کہ کون کہہ رہا ہے۔پہلی بات تو میں یہ بتاتا چلوں کے کل جنہوں نے آپ کو خط لکھا ہے وہ امریکہ کی پیداوار تو ہیں مگر عوام کے نما ئندہ نہیں ہیں ۔ اسی لیئے آج تک بے حساب ڈالر خرچ کر نے کہ با وجود یو ایس اے ان ملکوں میں مقبولیت حا صل نہیں کر سکا ۔ اور جب دیکھو دنیا میں کہیں بھی کچھ ہو، عوام ہمیشہ امریکہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ جن کو سڑکوں پر نکلنے سے وہ روک نہیں سکتے سوائے لا ٹھی اور گولی کے جس سے امریکہ کے خلاف نفرت میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ میں ایک عوامی لکھاری ہوں اور عوام کی آواز آپ تک پہو نچا رہا ہوں اور آپ پہلے لکھاری اور بعد صدر بنے ہیں لہذا ایک لکھاری کی سوچ کو سمجھتے ہیں۔ جبکہ دوسرے لوگ پہلے صدر بنتے ہیں ۔پھر کسی اور کے کاندھوں پر لکھا ری بن جاتے ہیں اور اس کی را ئلٹی وہ زندگی بھر لیتے رہتے ہیں ۔میں جانتا ہوں کہ ایک صدی کی بنا ئی ہوئی اینگلو امریکن پالیسیاں ایک دن میں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ اس سے آپ کے خلاف شدید ری ایکشن پیداہوسکتا ہے۔کیونکہ جنگی جنون پیدا کر نا تو آسان ہے مگر اس بخار کو اتار نے اور امن کی طرف مائل کر نے کے لیئے ایک عمر درکار ہے ۔مگر حقیقت جاننے کےبعد آپ اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بتدریج حالات کا رخ موڑ سکتے ہیں ۔ اس صورت میں آپ دوسرا ٹرم اور ممکن ہے کہ کانگریس کی حمایت سے تیسرا ٹرم اگر اس کی گنجائش نکلتی ہے تو وہ بھی جیت لیں ۔ جس کا معیار آپ نے خود اپنی تقریر میں مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہو ئے یہ رکھا کہ دنیا یہ دیکھتی ہے کہ “ آپ نے اسے کیا تعمیر کر کے دیا ۔ یہ نہیں دیکھتی کہ آپ نے کیا تباہ و بر باد کیا“جتنے بھی آج تک جابر لوگ گزرے ہیں ان پر لوگ لعنت ہی بھیجتے ہیں ان کی زندگی میں ان کے منہ پر جوتا مارتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کے کے مزاروں پر جوتے پھینکتے ہیں اسی لیئے وہ زندگی میں عوام سے چھپے رہتے ہیں اور مرنے کے بعد مزار چھپائے رکھتے ہیں تاکہ جوتوں سے محفوظ رہیں ۔ اس بر عکس جنہوں بھلا ئی کی ان کی مر نے کے ہزارون سال بعد بھی لوگ انکی پو جا کرتے ہیں ۔ جبکہ جن کی پو جا نہیں ہو تی وہ اسے بدعت کہہ کر ان کے مزاروں کو ڈھانے کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ چونکہ آپ خود ایک لکھاری ہیں اور تاریخ کےطالب علم بھی ۔ لہذا مجھے ان کے قصے دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ مگر یہ ضرور یاد دلا ؤنگا کہ جن لوگوں نےدنیا میں عدل و محبت سےکام لیا وہ آج بھی یاد کیئے جاتے ہیں ۔اور لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔ عد ل انسانیت کی ایسی ضرورت ہے کہ بقول ایک دانشور “ انسان بغیر روٹی کے بھوکا تو رہ سکتا ہے مگر بغیر انصاف کے نہیں رہ سکتا “اب میں وہ غلطیاں گنواؤ نگا تاکہ آپ کو مسائل سمجھنے میں مدد مل سکے۔ پہلی غلطی تو یہ تھی کہ اسلام میں شدت پسندی پیدا کی گئی ۔ کس نے کی کہاں سے شروع ہو ئی اس کا منبہ کہاں ہےاس پر سوچیئے جواب تاریخ سے مل جا ئے گا؟ اس سے پہلے مسلمان دو گروہوں میں بٹے ہو ئے توضرور تھے ، مگر رواداری کا یہ عالم تھا کہ آ پس میں رشتہ داریا ں تھیں میاں ایک فر قہ سے ،تو بیوی دوسرے فر قہ سے اور ان میں یا ان کےخاندانوں میں کو ئی ٹکرا ؤ نہیں ہوتا تھا ۔ پھر اسلام میں اصلاح کے نام پر شدت پسندی پیدا کی گئی ہر مسلمان جوکٹر نہیں تھا وہ بدعتی قرار پایااور ہر بد عتی واجب القتل ۔ آثارات قدیمہ بدعت کہہ کر ان کی جگہ ہوٹل بنا دیئے گئے۔ مسلمان ،مسلمانوں کےہا تھوں مقدس سر زمین پر قتل کیئےجانے لگے ۔ پھر جب وہاں تیل نکل آیا تو ان کے سر مایہ نے مزید پھل دینا شروع کیا اور پوری دنیا کی مسلم در سگاہوں میں ان کی تعلیمات پھیلنے لگیں ۔ وہ درسگاہیں جو پہلے پر امن تھیں جنہیں مدرسہ کہتے تھے اور مساجد کے لیئے اچھے امام پیدا کر تےکے لیئے مشہور تھیں ۔اب وہی شدت پسند پیدا کر نے لگیں ؟ دوسری غلطی یہ تھی کہ ان مدرسوں کو امریکہ نے اپنے انہیں حلیفوں سے روس کےخلاف استعمال کیا اور استعمال کر کے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا۔آپ نے تاریخ میں پڑھا ہو گا کہ کسی فوج کومسلح حالت میں جنگ کے بعد بغیر قیادت اور آباد کاری یعنی انہیں متبا دل کام دیئے بغیرنہیں چھوڑا جاتا۔ ورنہ وہ خود قیادت پیدا کر کے اپنے پیٹ کے لیئے لوٹ مار میں لگ جاتی ہے یا اس مملکت کو بانٹ کرچھوٹی چھوٹی ریا ستوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔جبکہ جنگ بعد اس سے امن کا کام بخوبی لیا جا سکتا ہے ۔اگر اس کو با قاعدہ استمال کیا جائے ۔ اس کی تازہ مثال چین میں لبریشن آرمی تھی۔ جس کو جنگ ِ آزادی ختم ہونے کے بعد ترقیاتی کاموں میں لگا دیاگیا۔ مگر افغانستان اور پاکستان میں غلطی یہ کی گئی کہ انہیں ڈسپوز ایبل ریزر سمجھ کر پھینک دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ناسور بن کر پوری میں پھیل گئے ۔ جو کچھ آپ آج افغانستان یا پاکتان کے قبا ئلی علاقوں میں دیکھ رہے ہیں یہ شدت پسندی کی شا خیں ہیں جڑ نہیں ہے ۔ اگر کسی امر بیل قسم کےپودے کی جڑ بچی رہیں تو وہ بیل در ختوں پر زندہ رہ کر اور صحت مند درختوں پر حملہ آور ہوجاتی ہیں ۔اپنا پیٹ اس کے رس سےبھرتی رہتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ باغ سوکھ جا تا ہے۔ دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ جڑ تلا ش کریں اور اس کو اوکھا ڑ پھینکیں؟ جڑونکی حفا ظت کر تے ہوئےشاخیں چھانٹنے سے نئی شاخیں زیادہ شددت سے بڑھتی اور پھیلتی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ بجائے آمروں کے ان کے ملکوں کے عوام کی امنگوں کا خیال کر یں ، وہ آپ کاخیال کر یں گے ۔ ایک زمانہ میں یو ایس اے کو دنیا میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔کیونکہ دوسری جنگ عظیم سے تھورا عرصہ پہلے ہی اس کوتازہ تازہ آزادی ملی تھی۔ لہذا وہ دوسروں کا درد سمجھتا تھااور غلاموں اور غلامی کا مسیحا سمجھا جاتا تھا۔ اس کی کوششوں کی وجہ سے بہت سی نو آبادیوں کو آزادی ملی ، جن میں ہندوستان اور پاکستان بھی شامل ہیں ۔ لیکن بعد کے رویوں کی بنا بر وہ احساس ِ تشکر ختم ہو تا چلا گیا اور دلوں میں محبت کے بجا ئے نفرت جڑ پکڑتی گئی ۔تیسری غلطی یہ فلسفہ تھا کہ جس طرح کمیونزم کو ختم کیا گیا اسی طرح اسلام کو بھی ختم کر دیا جائے۔ یہ سوچ بارہا پہلے بھی غلط ثابت ہوچکی تھی ۔ اور تجربہ نے ایک مر تبہ پھراس کو غلط ثابت کر دیا کہ اسلام طاقت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ساڑھے چودہ سو سال کا تجربہ ہے کہ یہ کسی طرح ختم نہیں ہو تا اور اس کی چنگا ریاں راکھ میں بد ستور دبی رہتی ہیں ، جو ہوا ملتے ہی شعلہ بن کر بھڑک اٹھتی ہیں۔ مثالیں تو بہت ہیں تازہ ترین روس میں سنیٹرل ایشیا کو دیکھ لیجئے ،یو رپ میں بو سنیا وغیرہ کو دیکھ لیجئے ۔ اسٹالین نے بہت کو شش کر لی ، مارشل ٹیٹو نے سب کچھ کر لیا۔ مگر آ گے کیا ہوا اس کا نتیجہ مجھے بتانے ضرورت نہیں ہے اور دنیا کے سامنے ہے۔یہ شدید بھول ہے کہ اسلام میں بھی دوسرے مذاہب کی طرح ماڈرن ازم یا قدامت پسند دو گروہ بن سکتے ہیں ۔ کیونکہ دوسرے مذاہب صرف مذہب ہیں اور وہ نظام ِ حیات نہیں ہیں جبکہ اسلام ایک مکمل نظام ِ حیات ہے لہذا نظام میں دونظام نہیں بنا ئے جاسکتے۔ البتہ اصل اسلام میں لبرل ازم بہت ہے جس میں اس کے فریم ورک میں رہتے ہو ئے ہر قسم کی آزادی ہے۔ اور ہر ما ڈرن ازم کو اپنا نے کی اس میں صلا حیت بھی ۔ یہ جو شدت پسند بنا ئے ہیں وہ اس تحریک بنا ئے ہیں جو آپ کو لا رنس آف عربیا اور مسٹر ہیمفرے کی ڈا ئری میں مل جا ے گی؟ جس سے کے وہ پروڈکٹ پیدا ہوئی ہے جس کے نزدیک انسانی جان اور اپنی جان کی کو ئی اہمیت نہیں ہے۔جبکہ اسلام جان دینےاور کسی کی جان لینے کو بہت بڑا گناہ قرار دیتا ہے اور ایک انسان کاقتل پو ری انسا نیت کا قتل اور ایک جان بچانا پوری انسان کو بچانا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شدت پسندی کہا ں سے آئی ؟ یہ اس مخصوص مکتبہ فکر کے ان مدرسوں سے آئی جنہوں نے خوف خدا اور محبت پڑھانے کے بجا ئے نفرتیں پڑھائیں۔ اب اس کا توڑ یہ ہے کہ آپ مسلم ملکوں کے عوام کے ساتھ چلئے اور ان کو با عمل مسلمان بننے میں تعلیم کے ذریعہ مددکیجئے۔ کیونکہ اصل مسئلہ مذہبی تعلیم نہیں بلکہ جہالت ہے۔ جب انہیں یہ علم ہو جائے گا کہ اسلام کے ایک مسلمان سے تقاضے کیا ہیں؟ تو وہ انسان کیاتو ایک مکھی مارتے ہو ئے بھی ڈریں گے ۔ جہاں وہ اسلامی جمہو رہت لانا چاہتے ہیں ان کو روکیں نہیں بلکہ مدد کر یں اگر ایک دفعہ غلط لوگ آ بھی گئے تو جمہو ریت چھیلنی ،ان کوچھان کر دور پھینکدے گی ۔ لیکن آپ اگر خو فزدہ ہو کر اسلامی جمہو ریت کی راہ روکیں گے تو شدت پسندوں کوانہیں بہکا نے موقعہ ملتا رہے گا۔ کیونکہ مسلمان اپنی تمام ترمحرو میوں کی وجہ اسلامی نظام سے دوری سمجھ تے ہیں اور اسی کو اپنے مسا ئل کاحل جانتے ہیں ۔مسلم ملکوں میں بجا ئے آمروں پر رقم خرچ کر نے جو واپس امریکہ یا سو ئزر لینڈ واپس چلی جاتی ہے ۔وہاں سر مایہ کاری کر یں ۔تاکہ ان کو روزگار ملے اور امریکہ عوام میں مقبول ہو؟ اس کے سوا اور کوئی مرے خیال میں مسا ئل کا حل نہیں ہے اور دوسری ہر کوشش مسائل کو مزید الجھا نے کا باعث ہوگا؟ جب آپ اپنی سرشت میں مختلف ہونے کے باوجود ،فرانسیسی جمہوریت کو برداشت کر تے ہیں برٹش جمہوریت کو برداشت کرتے ہیں، جو آدھی لکھی ہو ئی ہے اور آدھی نظائر پر ہے۔اور آپ کی اپنی جمہوریت ان دونوں برانڈوں سے مختلف ہے ۔تو پھر ایک تجربہ اسلامی جمہوریت کی شکل میں بھی ہو جانے دیجئے اس میں کیا ہرج ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت قدامت پسند نہیں ہے۔شدت پسند صرف اس خلا ء سے فا ئدہ اٹھاتے ہیں ۔ بصورتِ دیگر اصل اسلام عام ہو نے کے بعد وہ نئی دنیا کے لیئے زیادہ کار آمد اور ذمہ دار شہری ثابت ہو نگے۔ والسلام
سید انور جاوید ہاشمی

No comments:

Post a Comment

بلاگ اسپاٹ پر فی الحال اردو کلیدی تختے کی تنصیب ممکن نہیں آپ سے التماس ہے کہ اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں بہت شکریہ، اظہاریہ نویس ۔