Tuesday, April 14, 2009

سرقوں کے خلاف “ مہرِ نیم روز “ کا جہادِ اکبر

سرقوں کے خلاف “ مہرِ نیم روز “ کا جہادِ اکبر



جیسا کہ گوپی چند نارنگ صاحب کے حوالے سے لڑی میں ، ہم نے تذکرہ کیا تھا کہ جامعہ کراچی نے ایک سرقہ نمبر شائع کیا تھا ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اس کتاب کے بارے میں یہاں دوستوں کے لیے بھی معلومات فراہم کی جائیں گی بڑی تگ و دو کے بعد ہمیں یہ جریدہ دستیاب ہوا ابتدائی مطالعے میں جو باتیں ہمارے علم میں آئیں وہ ہم یہاں پیش کیے دیتے ہیں امید ہے آپ کی متجسس طبیعت کے کام آئیں گی۔مذکورہ کتاب500 صفحات پر مشتمل اور عہد ساز تحقیقی و تجزیاتی مطالعات پر مشتمل ” جریدہ “ ہے جس میں ”مشرق و مغرب میں سرقہ بازی کی تاریخ “ کے عنوان سے رسالہ “ مہرِنیم روز “ کے سراغ رسانوںعلی اکبر قاصد، حسن مثنّٰی ندوی ، ابوالخیر کشفی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، قاضی عبدالودود اور ڈاکٹر حبیب الحق کی تحقیقیات شامل ہیں اسے ”شعبہِ تصنیف و تالیف و ترجمہ“ جامعہ کراچی نے 2004 میں شائع کیا تھا۔ اس شمارے کے اہم مباحث سراغ رساں کے قلم سے “ مہرِ نیم روز“ کے شہرہ آفاق تحقیقی سلسلے ۔ “چہ دلاور است“ کے تمام مضامین پہلی مرتبہ یکجا صورت میں۔ فارسی ، عربی ، اردو اور یورپی زبانوں میں سرقوں کی مختصر تاریخ۔ ابو جلال ندوی اور مولانا مودودی کا توارد۔ غالب نے فغاں دہلوی کے سو مصرعے لفظ بہ لفظ سرقہ کیے۔ حافظِ شیراز اور سلمان ساؤجی کے کلیات میں ایک ہی غزل لفظ بہ لفظ موجود ہے۔ سرقے کے خلاف رسالہ الناظر لکھنو کا جہاد اور آل انڈیا مجلسِ احتساب کا قیام
ملک الشعراء امیر مقری نے فارسی میں سب سے پہلے سرقے کی روایت ڈالی۔ پنڈت کیفی نے سرقہ بازوں کے خوف سے منشورات نظرِ ثانی ، ترمیم اور اضافے کے بغیر شائع کرادی۔ ابنِ عربی کی تصانیف سے دانتے کے سرقے ، قاضی ابو یعلی ٰ کا سرقہ۔ دانتے ، محمد حسین آزاد ، نیاز فتح پوری،مولوی عبدالحق، ڈاکٹر امین مصری، ظفر عمر زبیری، علامہ اسلم جیراج پوری، مرزا غلام احمد قادیانی، ڈاکٹر سررادھا کرشن، عصمت چغتائی ، کرشن چندر،قاضی عبدالغفار، مفتی انتظام اللہ شہابی، ڈاکٹر میر ولی الدین، پروفیسر آل احمد سرور، یونس بٹ کے سرقوں کی سر گزشت۔ امید ہے گر یہ کتاب آپ کے علمی و تحقیقی ذوق کی تسکین کا سامان ہوگی۔
والسلام
م۔م۔مغل

وضاحت :: کتاب کی گزشتہ تصویر سے یہ تاثر ابھرا کہ مضمون پس منظر میں موجوو کتابوں سے بھی متعلق ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ، یہ محض انسانی غلطی ہے جو مجھ سے سرزد ہوئی  سو وضاحت کے ساتھ پرانی تصویر ہٹا دی  گئی ہے ، احباب کی دل آزاری پر معذرت،::  گر قبول افتد

4 comments:

  1. بہت خوب مغل صاحب۔ ایک استدعا یہ کہ اگر اس شمارے میں سے کوئی مضمون بھی شیئر کر سکیں تو نوازش ہوگی کہ مندرجات سے بہت خوبصورت تحریریں لگ رہی ہیں۔

    ReplyDelete
  2. وارث صاحب میں انشا اللہ جلد ہی سرقہ اور سارقوں کی تاریخ پیش کرتا ہوں۔

    ReplyDelete
  3. کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے تو
    کیا اس کو سرقہ کہا جائے گا؟

    ReplyDelete
  4. صاحب اچھا سوال ہے اس کی ذیل میں ، انشا اللہ تفصیل سے پیش کرتا ہوں۔
    والسلام

    ReplyDelete