Thursday, April 2, 2009

چوسر کا پانسہ

چوسر کا پانسہ
کراچی کی ایک نووارد افسانہ نگار عنیقہ ناز کے قلم سے
ہم میں سے کسی نے اپنے چہرے پہ کوئی ماسک نہیں چڑھایاتھا۔ اس سے ہم لوگوں کی نظروں میں فوراً آجاتے۔جبکہ ہماری حفاظت توبے شناخت رہنے میں تھی۔ہمارے جےسے چہرے مُہرے کے لوگ اس ملک میں بے حساب ہیں۔ فرض کرو کہ ایسا نہیں ہے اورہم میں سے کسی کا چہرہ کچھ مختلف سا ہے جو لوگوں کو یاد رہ جائے تو بھی کسی کے پاس اتنا دماغ، سوچ اور فرصت کہاں جو یاد رکھے کہ بعد میں ہماری شناخت کرے اور میں سمجھتا ہوں جب لوگ شدید خوف سے گزر رہے ہوں تو اس خوف کے علاوہ انہیں کچھ یاد نہیں رہتا۔ اچھّا چلو، کچھ دیر کے لیے یاد بھی رہ جائے تو کیا ہمیشہ یاد رہے گا۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ترقی تو نام ہی اس چیز کا ہے کہ کوئی نئی چیز کتنی جلدی یاد کرلیتا ہے اور پرانی چیزیں کتنی جلدی بھول جاتا ہے۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ دقیانوسی ہیں اور جلد ہی ختم ہوجانے والی نسل میں شامل ہوجائیں گے۔کم از کم میں نے اپنی میٹرک کی سائنس کی کتاب میں یہی پڑھا تھا۔ ہم تینوں میں سے کوئی ختم نہیں ہونا چاہتا۔ کم از کم اس وقت تک جب تک ہم اپنی طبعی عمر کو نہیں پہنچ جاتے۔ طبعی عمر سے میری مراد پچپن سال کی وہ اوسط عمر نہیں ہے جو اس ملک میں پیدا ہونے والوں کا مقّدر ہے۔ طبعی عمر سے میری مراد اس خواہش کا موجود رہنا کہ جب تک جو چیزیں میں جس طرح اور جتنے وقت تک کے لیے برتنا چاہتا ہوں میرے اندر موجود رہے۔اس لئے کبھی کبھی تو خود اپنے آپ کو بھی بھولنا پڑتا ہے۔ زندگی ہے اتنی پیاری چیز۔اتنا فلسفہ تو مجھے بھی آتا ہے۔ اچھّا اس ساری کہانی سے ہٹ کر،زیادہ ترہمارا شکار پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا۔ شکار کرنے کے روایتی کارگر اصول کے تحت ہم شکار ہوجانے والی چیزوں میں سے کمزور ترین پر حملہ کر دیتے ہیں۔ جو ہمارے سامنے زیادہ دیر تک ٹھہر نہ سکے ، جانوروں کے مقابلے میں ہماری سوچ اس لحاظ سے مختلف ہوتی ہے کہ شکار ہونے والے کی حیثیت بھی ذہن میں رکھناہوتی ہے۔ایساشکار جس کے پاس مال اتنا ہوجو ہماری مہم جوئی کے قابل ہو۔ یہ ساری چیز محض معلومات سے نہیں ہوتی ۔بلکہ تجربہ بھی کام آتا ہے،جو چھٹی حِس کو بڑھا دیتاہے۔ ’شکاری کا رواں رواں آنکھ ہوتا ہے‘۔ یہ قول کاشف وا ئرس کا ہے۔ وہ ہم میںسب سے زیادہ پڑھا لکھا ہے۔ بی کام کیا ہے اس نے۔ اس کے علاوہ ہماری تفریح کے لیے کمپیو ٹر بھی چلا لیتا ہے۔ اب اُس بس کو لو۔ اس بس اسٹاپ سے کتنی ہی بسیں گزرتی تھیں۔ مگر ہمیں ایسی بس چاہیے تھی جس میں لوگ کم ہوں اور ان کے پاس مال زیادہ ہو۔ یہ جو نئی بسیں شہر میں چلی ہیں جن میں ایئرکنڈیشنر لگا ہوتا ہے۔اور جو کبھی گرین اور کبھی بلیو کہلاتی ہیں۔ اس کا کرایہ ہرایک مائی کا لال نہیںدےسکتا۔ ایسی ہی ایک بس ہمارے لیے زیادہ مناسب تھی۔ جو لوگ زیادہ کرایہ دے سکتے ہیں یقیناً ان کے پاس مال بھی زیادہ ہو گا۔ وقت صبح کا گیارہ بجے ۔ ایسا فِٹ وقت جب بس میں زیادہ رش نہیں ہو تا اور مسافروں کو آسانی سے ٹائٹ کیا جا سکتا ہے۔ مختار ٹارزن نے بس کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ دیا ۔ ان بسوں میں ایک بات اچھی ہے ، سالی رکتی اپنے بس سٹاپ پر ہیں۔بھاگنا نہیں پڑتا ان کے پیچھے۔ بس کا آٹومیٹک دروازہ کھلا اور ہم ایک کے بعد ایک اس میں داخل ہوگئے۔ آگے کوئی گیارہ عورتیں بیٹھی تھیں اور پیچھے۲۰ کے قریب مرد ہوں گے۔ کنڈیکٹر اپنی مشین کے پاس بیٹھا تھا۔جاؤ اور اس کے پاس ٹکٹ کے پیسے جمع کرادو۔ کیا ٹھاٹ ہیں بھئی کنڈیکٹروں کے۔ ٹھنڈا ماحول، بس میں تھوکے ہوئے پان کی خوشبو نہیں۔ قدم قدم پر لگنے والے جھٹکے نہیں۔ پیسہ زندگی میں کتنی آسانیاں پیدا کر دیتا ہے ۔ پھر بھی لوگ کہتے ہیں پیسے کی ہوس نہیں کرنی چاہیے۔ پیسے کی ہوس کون کرتا ہے۔ سب سالے چاہتے ہیں کہ زندگی میں آسانیاں ہوں۔سب آسانیوں کی ہوس کرتے ہیں۔ اگر پیسے کے بغیر سب میسّر آجائیں تو کوئی کیوں بینک لوٹے، گاڑیاں چھینے یا پرس جھپٹتا پھرے۔ ارے ، ہم بھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں کیا کہتے ہیں فنکار شیماکرمانی کا رقص دیکھیں۔ ساحلِ سمندر پر کرائے کی ہٹ میں چھٹیاں گزاریں، بہترین کار،نئے ماڈل کا موبائل فون، اعلیٰ برانڈ کے کپڑے، جوتے، پرفیوم اور آنکھوں پہ جما Reynold کا چشمہ۔ آہ ! یہ سب چیزیں قائداعظم والے کاغذ سے آتی ہیں۔ مفت میں تو سالا ریڈ لائٹ ایریے کا دلاّل بھی اپنی گلی میں گھسنے نہ دے۔ میں نے ایک دفعہ پھر دیکھا۔ ان میں سے کتنے لوگ ہیں جنہیں میرا چہرہ یاد رہے گا۔ اب سامنے بیٹھے بڈھّے کو کیا یاد رہے گا۔ یہ تو ابھی یاد کر رہا ہو گا کہ بس سے اتر کر جانا کہاں ہے یا اس صاحب کو جو پتلون شرٹ پہنے بڑا صاحب بنا بیٹھا ہے۔ مہینے بھر بعد اگر میں Benetton کی پینٹ اور کاٹن کی شرٹ چڑھائے، نائک کے جاگرز پیروں میں سجائے اس کے ڈرائنگ روم میں اس کی بیٹی کو رشتے کے لیے دیکھنے بیٹھا ہوں تو کیا یہ سالا مجھے پہچان لے گا۔ شرط لگالو۔ چاہے جتنے کی نہیں پہچانے گا۔ہم تینوں مختلف سیٹوں پر جاکر بیٹھ گئے میں عورتوں والے حصّے کے ساتھ ہوگیا۔عورتوں کے فق ہوتے ہوئے پیلے چہرے کیسے بےوقوف لگتے ہیں۔مجھے مزہ آتا ہے۔جب ان میں سے کوئی مجھے اے بھیّا، اے بیٹاہم پر رحم کرو اور کوئی ڈرتے ڈرتے منحوس مارا اور حرام کاجناکہتی ہے۔ کاشف وائرس سب سے پیچھے والی سیٹوں کے پاس چلا گیا اور مختار ٹارزن درمیان میں آگیا۔ اب مجھے تھوڑا جوش آنا شروع ہوا۔ ایک دم جیسے رگوں میں خون کی جگہ آگ دوڑنے لگی۔ تین عورتوں نے سونے کی چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔حالانکہ اب سونے کی چوڑیاں پہننے والی عورتیں خاصی کم ہوگئی ہیں مگر پھر بھی مل جاتی ہیں۔شوق کا تو کوئی مول نہیں۔ویسے بھی یہ عورتیں سمجھتی ہیں کہ وہ سونے کے زیور پہن کر بڑی حسین ہو جاتی ہیں۔ایک عورت ترچھی ہو کر بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے اس کے صرف ہاتھ نظر آرہے تھے جن میں خوب مہندی چڑھی ہوئی تھی۔ سرخ کانچ کی بہت ساری چوڑیاں اس کی کلائیوں میں شور کر رہی تھیں مگر ان کی آواز میں وہ جادو نہیں تھا جو سونے کی چوڑیوں سے چڑھتا ہے اور وہ اپنے الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی مسلسل گھمائے جارہی تھی۔ ایک اکیلی انگوٹھی !یہ عورت تو بے کار لگتی ہے۔ میں نے سوچا۔انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہے۔ اس کے تو پیسے بھی زیادہ نہیں ملیں گے۔ مگر اس نے برقعہ پہنا ہوا تھا۔ ہوسکتا ہے اندر سونے کے زیور ہوں۔ میرا دل دھڑکا اور آگ مزید دہکنے لگی۔ ٹارزن سرجھکائے کنڈیکٹر کے پاس پہنچا۔ کنڈیکٹر کے چہرے پر اطمینان کی لہر اُٹھی۔ وہ شاید اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ وہ ٹکٹ لینے آیا ہے۔ آدھے آستین کی شرٹ اور پتلون پہنے وہ بھی بڑا بابو بنا ہوا تھا۔ سالا، چار ہزار مہینے کے ملتے ہیں اس میں بھی بڑے اسٹائل میں تھا۔ اس کی بیوی کپڑے سیتی ہوگی محلّے بھر کے اور کمیٹیاں ڈالتی ہوگی۔ بچے کسی پیلے اسکول میں یا پھر محلّے کے کسی گھر میں کھلے پرائیویٹ اسکول میں پڑھتے ہوں گے۔ جہاں استاد کو مہینے کےچھ سو روپے ملتے ہوں گے۔ کنڈیکٹر اسے دیکھ کر مسکرایا پھر اچانک اس کے ہونٹ سکڑ گئے، تھوڑی نیچے لٹک گئی اور آنکھیں ساکت ہوکر پھیل گئیں۔ حالاں کہ وہ زندگی میں پہلی بار ٹی ٹی نہیں دیکھ رہا تھا۔ لیکن ٹی وی پر یا فلم میں دیکھنا اور بالکل اپنے سامنے دیکھنا یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ یہ تو میں مانتا ہوں، جب میں نے پہلی دفعہ ہاتھ میں پکڑی تھی تب — ہاں تب جیسے میرے اندر آتش فشاں پھٹ پڑا تھا۔لوہے کے ایک ٹکڑے نے مجھے کتنا طاقتور بنا یا تھا۔ طاقت سے بڑھ کر کوئی نشہ نہیں۔ مجھے معلوم تھا اب میرے پاس سب کچھ ہو گا وہ سب کچھ جو بڑے بڑے لوگوں کے پاس ہے۔ سب میرا ہے! سب! میں نے دھیرے سے اس کی ٹھنڈک کوہتھیلی سے اپنے اندر اتارا۔ کنڈیکٹر نے پھر میری طرف اور اس کے بعد ٹارزن کی طرف دیکھا۔ تین ٹی ٹی۔ اس کی گھگھی بندھ گئی۔پیشاب نکل ہوگیا ہوگا سالے کا۔ ٹارزن نے جلد ی سے اپنا رُخ مرد مسافروں کی طرف موڑا اور میں عورتوں والے حصّے کی طرف پکا۔تب وہ زور سے چیخا’ کوئی شور نہ کرے ، جلدی جلدی— جو کچھ ہے سب اس میں ڈال دو‘۔ وہ ایک تھیلاسب کے آگے لے کر دوڑتا چلا گیا۔ مسافر بھی دنگ رہ گئے ہونگے۔یہ اچانک کیا ہو گیا۔ایسے ہی ہوتا ہے۔ قسمت ،سالی قسمت نے انہیں پھنسا دیا۔ موبائل، موبائل۔ گھڑی بھی اتارو۔ میرے کانوں میں اس کی ہانپتی ہوئی آواز آئی۔ سالا، کام کم کرتا ہے ہانپتا زیادہ ہے۔ عورتیں حسبِ توقع مجھے دیکھ کر ایک دم روہانسی سی ہوگئیں۔ایک تو مجھے ان عورتوں کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔ خوش ہوں یا غمزدہ، خوف میں ہوں یا بہادری کا کوئی کارنامہ انجام دیں۔ سالیاں، سب کچھ روتے پیٹتے ہوئے کرتی ہیں۔ ایک دفعہ ابّا نے مجھے ان عادتوں کیوجہ سے جنہیں وہ بری خیال کرتا تھا گھر سے نکال دیا۔ رہنے کا کوئی ٹھکانہ تو تھا نہیں میں کیا کرتا۔قبرستان میں جن قبروں کے اوپر چھتیں ہوتی ہیں رات کو ان چھتوں پر سو جاتا۔ اکثر رات کو جب کبھی کھٹکے سے میری آنکھ کھلتی اور میں ذرا سا سر اٹھا کر دیکھتا۔کوئی عورت آنسو صاف کرتے ہوئے سوئی سے گڑے پتلے دفن کر رہی ہوتی۔ اور کوئی،سسکیاں بھرتی ایک تھیلی میں قبر کی مٹی جما کر لے جا رہی ہوتی۔ عورتوں کوتو ڈراموں میں مزہ آتا ہے۔ چاہے اسٹار پلس کا ہو،چاہے انہوں نے خود گھڑا ہو۔اس دفعہ ہم ان کی خدمت کر رہے تھے۔ ڈرائیور، الّو کا پٹھّا۔ میری طرف مڑا شاید ڈانٹنا چاہتا تھا کہ ابے او۔۔ زنخے کی اولاد، عورتوں کے سیکشن میں کیا کررہا ہے۔ ہاتھ میں لوہا دیکھ کر خاموش ہوگیا۔شاید اسے یاد آگیاکہ زنخوں کی اولاد نہیں ہوتی۔ مجھے کہنے کی ضرورت تو نہ تھی کہ ’چلتے رہو۔ خبردار جو روکنے کی کوشش کی۔‘ کیوں کہ اس کو تو سکتہ ہوگیا اور جو جسم کا حصّہ جہاں تھا وہیں پر رہ گیا تھا۔ مگر، پھر بھی کیوں کہ اس سے اوروں پر رعب پڑتا ہے۔ میں نے ایک زوردار آواز لگائی۔ ’چلتے رہنا۔ بس مت روکنا سالے ۔‘ اب بس سخی حسن والے روڈ پر آچکی تھی ۔روڈ صاف تھا جیسے گنجے کا سر۔ وقت ہی اتنا مناسب تھا۔میں نے جلدی جلدی پرس خالی کیے بلکہ چھینے۔چوڑیاں، انگوٹھیاں اتروائیں۔ دو عورتیں برقعے میں تھیں ۔ اتنا وقت نہیں تھا کہ انکے ساتھ بحثا بحثی کرتا۔ جو نظر آرہا تھا وہ اتروا لیا۔ جب میں اس عورت کے پاس پہنچا جو انگوٹھی گھما رہی تھی تو اس کا چہرہ خاصہ سوالیہ سا تھا۔ جیسے کہ رہی ہو کیا مجھ سے بھی چھین لو گے، مجھ سے بھی! میں نے اس کے مسکین سے چہرے پر ذرا توجہ نہ دی۔ یہ دھندے کا وقت تھا۔’ پرس دو۔ پرس جلدی‘۔ اس نے مرے ہوئے ہاتھوں سے پرس میرے حوالے کردیا اور انگوٹھی۔میں نے ٹی ٹی سے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔’ میری شادی کی ہے‘۔ سالی، زیور کے لیے یہ عورتیں بالکل پاگل ہوجاتی ہیں۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ اس کے لپ اسٹک سے لال ہونٹوں والے منہ پر ایک تھپڑدوں۔ پیچھے سے ایک فائر اور ساتھ چیخ کی آوازآئی۔’ہائے میں مرا‘۔میں ایک دم ہوشیار ہو گیا۔ پلاننگ میں کہیں گولی نہیں چلانی تھی جب تک بہت ضرورت نہ ہو۔ ایک عورت زور سے چیخی یااللہ مدد۔ایسے موقعوں پر اللہ خوب یاد آتا ہے۔ ایسے موقع پرست اور بے دماغ لوگوں کی مدد اللہ کیوں کرے۔ اگر خدا ان مطلب پرستوں کی فرمائشیں پوری کرتا رہے تو بس اس کے ماننے والے یہی لوگ رہ جایئں گے ۔ یہ بات میں سمجھتا ہوں۔ ہاں تو، وہ انگوٹھی والی عورت بھی فوراً مڑی اور ایسے چیخی جیسے گولی اُسے لگی ہو۔ ’کمال‘— یہ کہہ کر وہ فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ہمارا کام تقریباً ہوگیا تھا۔ وہ لڑکا جسے گولی لگی تھی پیٹ پکڑ کر وہیں گرگیا۔’بچاؤ، میں مرا‘۔ وہ پھڑپھڑایا۔باقی لوگوں کی بالکل ہوا نکل گئی تھی ۔ اسی لیے وائرس نے مارا ہوگا۔ پٹاخ کی ایک آواز کیسے لوگوں کو بے حس و حرکت کر دیتی ہے۔ یہ تو کبھی ایک گولی چلا کر دیکھو۔پٹاخ۔۔۔پھُس! میں نے اس عورت کو پستول کے پچھلے حصّے سے دھکّا دے کر واپس سیٹ پر بٹھا دیا مگر وہ ایسے ہی تڑپے جا رہی تھی۔ پھرمیں نے چیخ کر ڈرائیور سے کہا ’بریک لگا۔‘مجھے معلوم تھا بریک لگنے میں وقت لگے گا مگر ایک گولی میں نے ونڈ اسکرین پر ڈرائیور کے بالکل قریب سے چلائی۔ بس میں سنّاٹا چھا گیا۔ شیشے پر مکڑی کا جال بن گےا جس کے درمیان میں ایک گول چھوٹا سا سوراخ تھا۔ اس میں ڈرائیور کی نظر پھنس کر رہ گئی ۔مدد، مدد۔مگر باہر دنیا اسی طرح اپنے خیالوں میں گم تھی۔ ایک لڑکا اسی طرح ایک لڑکی پر نظر جمائے کھڑا رہا۔ایک صاحب اپنا ہاتھ اٹھائے گھڑی پر نظر جمائے ہوئے تھے۔بڑا بُرا ٹائم تھا۔ٹریفک کانسٹیبل ایک منی بس کو رکنے کا اشارہ کر رہا تھا۔ اسے دس روپے ملنے والے تھے۔کون سالا ڈرائیور کو تسلّی دیتا ۔’ابے، جلدی کر‘ ۔اب یہ فوراً سے پہلے رکے گی۔میں نے سوچا۔ اور ایسا ہی ہوا۔کے ڈی اے کواٹرزکی چورنگی کے قریب بس رکی۔ ڈرائیور نے لیور دبایا اور دروازہ کھل گیا۔ بالکل سم سم والے غار کی طرح۔کھل جا سم سم۔اور ہم تینوں نے فوراً باہر چھلانگ لگائی۔ اب اس جگہ سے جتنی جلد دور چلے جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔ یقیناً ہم سب یہی سوچ رہے تھے۔سامنے سے ایک موٹرسائیکل والا آرہا تھا۔ ٹارزن نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا ’اسے روک لو‘۔ ہم میں سے ایک نے بھاگتے بھاگتے ٹی ٹی کا اشارہ دیا۔ ہم ٹی ٹی ہاتھوں میں لیے دوڑ رہے تھے۔ یہ وہ موٹرسائیکل والا بھی دیکھ چکا تھا۔ اپنے طور پر اس نے بڑی چالاکی دکھائی اور سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔کیا سائیکل کی رفتار گولی کی رفتارسے بڑھ سکتی ہے؟۔ اس نے غلط وقت پر تجربہ کرکے دیکھناچاہا۔ اس کا تجربہ فیل ہوگیا۔ مگر حرامی، موٹرسائیکل لے کر ایسا گرا کہ اب اسے ہٹانے میںوقت لگتا۔ پیچھے سے ایک کار والاآرہا تھا۔ ٹارزن نے جیسے ہی اسے پستول سے اشارہ کیا وہ گاڑی روک کر اُترا اور ایسا دوڑا کہ جیسے بھوت دیکھ لیا ہو۔ موت کی ہیبت بھوت سے زیادہ ہوتی ہے۔ بھوت ہو سکتا ہے کسی کو جانتا ہواور رعایت کر لے مگر گولی سالی کسی کو نہیں پہچانتی۔اندھی ہوتی ہے قانون کی طرح۔وائرس نے بڑھ کر اسٹیئرنگ سنبھالا اور ہم گلیوں گلیوں نکلتے چلے گئے۔ اس دوران ہم نے سارا سامان دو تھیلوں میں کرلیا۔ ایک میں نے اور دوسرا ٹارزن نے سنبھال لیا۔ بازارِ فیصل کے پاس ہم نے گاڑی چھوڑی اور پیدل چل پڑے۔ آگے چل کر ہم تینوں الگ الگ بسوں میں سوار ہوگئے۔ رات کو ہم نے پرس خالی کرکے سب سے پہلے انہیں ٹھکانے لگادیا۔ جب تک وہ ہمارے پاس ہیں۔ یا کسی کی بھی کوئی شناخت ہمارے پاس ہے ہم خطرے میں تھے ہماری شناخت کسی بھی لمحے ہو سکتی تھی۔اس لیے ان سے جان چھڑانا بہت ضروری تھا۔ سب ملاکر کوئی ڈھائی لاکھ سے زائد کا مال تھا۔ کل وقت جو اس کارروائی میں خرچ ہوا یعنی ہمارے ایک بس اسٹاپ سے دوسرے بس اسٹاپ تک اترنے کا وقت وہ آدھگھنٹے سے زیادہ نہ تھا۔ اس کو کہتے ہیں ہینگ لگے نہ پھٹکری۔رنگ چوکھا۔رات جب لال پری سر پر چڑھی توہم اس واقعے کو دُہرا نے لگے۔ میں نے وائرس سے پوچھا ابے ، موٹرسائیکل والے کو مارا بات سمجھ میں آتی ہے۔ ابے او سالے، بس میں اس لڑکے کو کیوں اُڑا دیا۔ ’اڑی دِکھا رہا تھا۔اڑا دیا۔‘ اس نے بے فکری کا گھونٹ بھرتے ہوئے ہوامیں ہاتھ ہلایا۔ٹارزن پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگا۔’بو کاٹا ہو گیا اس کا تو‘۔ہوں، بات یہ ہے کہ باقی رہنا چاہتے ہو تو مسکین بنو، بزدل بنو یا پھر تبدیل ہوجانے والے بنو۔ اڑے رہو گے تو اُڑ ہی جاؤ گے۔ ’ابے تو ہے بڑا کلروائرس‘۔ میں نے اس کے گلاس سے اپنا گلاس ٹکرایا۔ اگلے دن اخبار سے پتہ چلا کہ موٹرسائیکل والا شخص مولوی تھا اور بچوں کو قرآن پڑھا کر آرہا تھا۔ چلوخس کم جہاں پاک۔ دمڑی کا پوستی ، ابھی زندہ رہتا تو چار شادیاں کرتا اور ہر بیوی سے اس کے چھ بچے ہوتے۔ بڑے ہوکر سالے سب انتہاپسند بنتے پھر حکومت کو لاکھوں روپے ان کے سر کی قیمت پر رکھنا پڑتے۔ یہ نہ کرتا تو حرامی ، کوئی مدرسہ کھول لیتا یعنی دہشت گرد بنانے کی فیکٹری ۔یہ تو ہم نے خاصا بڑا کام کیا۔ اور انعام بھی خود ہی وصول کرلیا۔ سب سالوں کو ہمارا شکریہ ادا کرنا چاہیئے،قبول، قبول،قبول۔۔۔۔یہ تو ہمارا فرض تھا۔اور بس والا لڑکا، وہ بھی اگلے جہان کو سدھارا۔ ہم سب کو وہیں جانا ہے۔ وہ قسمت کا مارا پہلے چلا گیا۔ویسے بھی لعنت ہے ایسے مرد۔ ایک مرد اپنی عورت کو سونے کی چوڑیاں نہ دلا سکے اس کے زندہ رہنے کا کیا فائدہ۔ وہ عورت، ہاں، وہ انگوٹھی والی عورت اس کی بیوی تھی۔ اور ابھی ان دونوں کی شادی کو ایک مہینہ ہوا تھا۔ مجھے اس کی کاجل سے بھری، بڑی بڑی سوالیہ آنکھیں یاد آئیں۔بالکل ایشوریا رائے کی آنکھیں۔ خاصی اچھی شکل کی تھی۔ اس کی دوبارہ شادی ہونا کوئی مشکل کام نہیں اور جب تک شادی نہ ہو۔ وہ اس انگوٹھی سے اپنا دل بہلاتی رہے۔ ایک نگینہ جڑی انگوٹھی سے۔ ہوسکتا ہے اگلی دفعہ اسے کوئی اچھی انگوٹھی مل جائے اور سونے کی چوڑیاں بھی۔ چار پانچ دن میں ساری چیزیں ٹھکانے لگ گئیں۔ گلیوں گلیوں بھٹک کر ایک ایک شکار تلاش کرنا زیادہ خطرناک اور کم منافع والے کام تھا۔ یہاں ایک ہلّے میں اتنا مل گیا جتنا ایک ہفتے کی سخت محنت اور زیادہ خطرے کے بعد ملتا۔ اس کے علاوہ ایسا فل ٹائم ڈرامہ جس کے ہیرو ہم ہوں۔ یہاں اس ملک میں تو بننا مشکل۔ پیسے جیب میں ہوں اور میں زوبی سے نہ ملتا ایسا کب ممکن ہے۔ زوبی میری گرل فرینڈ ہے۔ یہ لفظ گرل فرینڈ اب سننے میں اتنا نیا نہیں رہا بلکہ اچھا لگتا ہے۔گرل فرینڈ!! آج کل گرل فرینڈ ، بوائے فر ینڈ سوشل ا سٹیٹس اور روشن خیالی کی نشانی ہے۔جس طرح فلم میں ہیرو، ہیروئن کو کوئی نشانی دیتاہے ۔ ہر حکومت اپنی کوئی نشانی دے جاتی ہے۔ اس دفعہ روشن خیالی۔یہ لفظ روشن خیالی بھی کیسا کام کا لفظ ہے۔ گناہ اور ثواب کے لفظ اس کے سامنے کیسے پرانے اورظالم لفظ لگتے ہیں۔ ظالَم اور قاتَل۔ مجھے اس سے کیا۔ہم تو ہر ایک کو سلام کرتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا میں مست اور ہم اپنی میں۔خیر، آدمی جوان ہو اور گرل فرینڈز نہ ہوں تو سمجھو کہ جیا نہیں۔ زوبی نہ میری محبوبہ ہے،نہ بیوی۔دونوں جان کو آجاتی ہیں۔ وہ بس میری گرل فرینڈ ہے۔ محبت بھرے ڈائیلاگ دل لگا کر بولتی ہے۔ آج میرے ساتھ ہے کل ہو سکتا ہےکسی اور کے ساتھ ہومگر اس وقت تو ہم ایک دوسرے کو پہچانےں گے بھی نہیں کیونکہ میں بھی کسی اور کے ساتھ ہونگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ جو تعلقات میں محدود ہوجاتے ہیں وہ بھی جلد ختم ہوجاتے ہیں۔ اس دن میں نے اپنے اوپر خاصی محنت کی۔ نئی امپورٹڈ ٹی شرٹ اور تھائی لینڈ کی رنکل فری جینز، نیا ہیئرا سٹائل، خوب جما کر بنایا ہوا شیو ۔رینٹ آ کار سے لی ہوئی لش پش کار۔زوبی کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ میری محنت ضائع نہیں گئی۔ میں جب اسے لے کر سنار کی دکان پر پہنچا تو وہ خاصی حیران ہوئی۔ ’کیا دیکھتی ہو۔آج کا دن سنہرا کر لو ‘۔ میں نے اسے حیران کرنا چاہا۔ ’تحفہ دو گے!‘۔اس کی بانچھیں کھِل گئیں۔ ’ہاں!‘ ’ تو پھر یہ انگوٹھی لے دو۔‘ اس نے میرا بازو پکڑ کرایک نگینہ جڑی انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا۔ میں دفعتاً خاموش ہوگیا۔“انگوٹھی“ میں نے زوبی کے چہرے کی طرف دیکھا۔اس کی بڑی بڑی کاجل بھری آنکھوں میں سنہری چمک تھی۔ اگرچہ میں قسمت پر یقین نہیں رکھتا مگر پھر بھی سوچتا ہوں۔ ’کیا قسمت گرل فرینڈ اور بیوی میں شناخت کرسکتی ہے؟،

6 comments:

  1. Anonymous2/4/09

    اچھی کوشش ہے کہیں کہیں غیر ضروری جملوں کے استعماال کی وجہ سے جھول محسوس ھو رہا ہے پنچ لئن سمجھ سے بالا ہے

    محمود بھائی پیش کرنے کا شکریہ
    ش زاد

    ReplyDelete
  2. شکریہ شین زاد
    کل اس افسانے پر سیر حاصل گفتگو رہی غیر ضروری جملوں کی نشاندہی بھی کیجیے کہ افسانہ نگار بھی یہ بلاگ ملاحظہ فرمائیں گی۔
    پنچ لائن والی بات بھی وضاحت طلب ہے ۔
    شکریہ
    والسلام
    م۔م۔مغل

    ReplyDelete
  3. ye baat hum se kuch aur logon ne bhi kahi ke punch line samajh mai nahi aai. hamesha hairat hoti hai aur yahi keh sakti hoon phir se parhein aur bar abr parhein. aap ke liye bhi yahi mashwara hai.

    ReplyDelete
  4. شکریہ عنیقہ یہاں تشریف لانے کیلیے
    سدا خوش رہو
    والسلام

    ReplyDelete
  5. بہت اچھی کاوش،

    محمود، ہماری طرف سے افسانہ نگار صاحبی کو مبارکباد دیجئے گا۔

    بہت اچھا اختتام کیا۔ بھئی مزاآ گیا۔
    اختتامی جملوں نے تو میرے نزدیک ہیرو کے اندر کی کشمکش کو کچھ حد تک ظاہر کیا ہے۔

    مجھے امید ہے لکھتی رہیں گی۔

    ReplyDelete
  6. بہت بہت شکریہ عباسی صاحب
    آپ کی رائے موصوفہ کو ارسال کردی جائے گی ۔
    آپ کی آمد اور اظہارِ رائے کے لیے سراپا تشکر ہوں۔
    والسلام

    ReplyDelete