Friday, January 30, 2009

انحصار کرنے کو تھی بہار کی وحشت

غزل

انحصار کرنے کو تھی بہار کی وحشت

میں نے اور وحشت سے استوار کی وحشت

چاپ جب سلگتی ہو ، آہٹیں سسکتی ہوں

آنکھ میں اترتی ہے ، اشکبار کی وحشت

خامشی کے سرمائے دشتِ جاں میں چھوڑ آئے

اب نئے سفر پر ہے ، کاروبار کی وحشت

بے کلی فغاں کرنے میرے دل تک آپہنچی

اور میں نے مجبوراً ، اختیار کی وحشت

میں بھلا کہاں جاؤں، بستیوں پہ پہرہ زن

بام و در کی خاموشی، رہگزار کی وحشت

منفعت کا دکھ آخر کیوں جہان میں بانٹوں

میں نے خود اگائی تھی اعتبار کی وحشت

اے فشانِ کوہِ عشق بات کیا ہے آخر کیوں

عمر بھر سلگتی ہے ، انتظار کی وحشت

کچھ خبر تو ہو آخر کس لیے دھڑکتی ہے

اے ٍغزالِ دشتِ دل ، بار بار کی وحشت

اے زمینِ نومردہ کچھ توبول آنکھیں کھول

میں کہاں چھپاؤں گا شہریار کی وحشت

پات پات پر محمود ایک خوف رقصاں ہے

کتنے بن جلائے گی اک شرار کی وحشت

م۔م۔مغل

ایک شعری نشست میں: جس کی صدارت جناب سرشار صدیقی نے کی "فاتح الدین بشیر " بھی ہمراہ تھے

6 comments:

  1. السلام علیکم محمود مغل بھائی۔
    ماشاء اللہ ۔ بہت عمدہ غزل ہے۔ پڑھ کر اور سن کر لطف آگیا ۔

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    امین۔

    والسلام

    محمد نعیم رضا

    ReplyDelete
  2. وعلیکم السلام
    نعیم رضا صاحب
    بہت بہت شکریہ جناب۔
    آپ کی محبتوں کا مقروض
    م۔م۔مغل

    ReplyDelete
  3. سلام علیکم
    سبحان اللہ۔ جناب بہت عمدہ غزل ہے۔
    آپ کے تازہ کلام کا منتظر ہوں۔

    شکریہ

    سید محمد نقوی

    ReplyDelete
  4. بہت بہت شکریہ سید محمد نقوی صاحب۔
    انشا اللہ جلد ہی مزید کلام پیش کرتا ہوں۔
    والسلام

    ReplyDelete
  5. طالوت18/3/09

    اے زمینِ نومردہ کچھ توبول آنکھیں کھول

    میں کہاں چھپاؤں گا شہریار کی وحشت

    پات پات پر محمود ایک خوف رقصاں ہے

    کتنے بن جلائے گی اک شرار کی وحشت
    ---------------
    بہت عمدہ جناب ۔۔۔
    وسلام

    ReplyDelete
  6. بہت بہت شکریہ طالوت ۔

    ReplyDelete