Thursday, January 15, 2009

خراب و خوار مثالِ درختِ صحرا ہوں۔۔۔ نوید صادق

غزل
(نذرِ اقبال)
خراب و خوار مثالِ درختِ صحرا ہوں
میں پائمالِ سرِ راہِ سختِ صحرا ہوں
مجھے بھی اپنی طرف کھینچتے ہیں آئینے
مگر میں سب سے گریزاں کہ بختِ صحرا ہوں
تو کیا یہ لوگ مجھے بھول جائیں گے یکسر
تو کیا میں صرف بگولہ ہوں، لختِ صحرا ہوں
تو میرے ساتھ کہاں چل سکے گا عہدِ نَو
کہ تو نقیبِ تغیر، میں رختِ صحرا ہوں
کُھلے کُھلے نہ کُھلے اُس پہ میرے جسم کی پیاس
"نظر ہے ابرِ کرم پر، درختِ صحرا ہوں"
یہ بات باعثِ صد افتخار ہے کہ نوید
ثبوتِ رمزِ تعلق ہوں، تختِ صحرا ہوں
(نوید صادق)

No comments:

Post a Comment

بلاگ اسپاٹ پر فی الحال اردو کلیدی تختے کی تنصیب ممکن نہیں آپ سے التماس ہے کہ اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں بہت شکریہ، اظہاریہ نویس ۔