Friday, January 2, 2009

”خالی آدمی“ کا” تصویر خانہ“ ----- تحریر : م۔م۔مغل

”خالی آدمی“ کا” تصویر خانہ“
ممتاز رفیق کے خاکوں پر مشتمل کتاب ’’ تصویر خانہ ‘‘ پر مضمون
ایک ادبی نشست میں پہلی بار کسی صاحب سے جملہ سنا کہ ” کیا خاکہ کشی کی ہے “ ۔ نشست کے اختتام پر میں نے معلوم کیا جناب یہ خاکہ کیا ہوتا ہے ۔۔ راہ چلتے ہوئے انہوں نے ایک بلاک بجری کے تھلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ۔۔” چھنی ہوئی ریت“ اور مسکرا تے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ممتاز رفیق سے میری پہلی ملاقات عزم بہزاد کے ہاں منعقدہ ہفتہ وار نشست میں ہوئی جہاں مجھے جناب سے سراج منیر کی شخصیت پر مبنی خاکہ ” صاحبِ اسم “سننے کو ملا، وہاں موجود احباب تعریف کے ڈونگرے برسارہے تھے پہلے پہل میں نے اسے ستائشِ باہمی خیال کیا لیکن جب متواتر کئی زعمائین ِ ادب سے موصوف کے خاکو ں کی شہرت سنی تو اعتبار کرنا پڑا،ممتازرفیق سے گاہے گاہے ملاقاتیں عنابی ہوٹل اور ادبی نشستوں میں ہوتی رہیں محفل کے مزاج کے مطابق کبھی کبھار خاکے بھی پیش کیے جاتے رہے ،میں نے اس عرصے میں ممتاز رفیق کو محبت کرنے والا شخص پایا،میری رائے اس بات سے علاقہ نہیں رکھتی کہ ممتازرفیق کے ہمعصر اور رفقاءان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں،خیرمدعا بہ تصریفِ وقت یہ کہ خاکہ اور ”تصویر خانہ “ پر کچھ عرض کرسکوں۔ اردو ادب میں خاکہ نگاری زیادہ قدیم نہیں لیکن اس کی ابتدائی شکل مختلف تذکروں اور بالخصوص محمد حسین آزاد کی کتاب ” آب حیات“ میں نظرآتی ہے۔ اس کے بعد ایک بھر پور خاکہ” نذیر احمد کی کہانی“ فرحت اللہ بیگ کا کارنامہ ہے۔ لیکن اتنی عمدہ ابتداءہونے کے باوجود آج خاکہ نگاری کی وہ شکل نظر نہیں آتی۔ جو جیتے جاگتے انسان کو ہمارے سامنے لا سکے۔اس لئے اردو ادب میں خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جس میں بہت زیادہ کام کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس صنف ادب میں اس کمی کی وجہ صرف یہ ہے کہ خاکہ نگار شخصیت کا نہ تو تفصیلی مطالعہ کرتا ہے اور نہ ہی مبالغہ آمیز واقعات سے گریز کرتا ہے۔ اس شخصیت کی خلوت اور جلوت کی مثالیں بھی بہت کم ملتی ہے۔ بلکہ شخصیت اس طرح پیش ہوتی ہے جس طرح خاکہ نگار چاہتا ہے۔ اور اس طرح شخصیت کے خدوخال نمایاں نہیں ہو پاتے اور خاکہ تشنہ رہ جاتا ہے۔ممتاز رفیق نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں اسی طرح کے معاملات پر پرمغز گفتگو کی ہے ،انہوں نے اسالیبِ خاکہ نویسی میں منٹو، عصمت چغتائی ، اشرف صبوحی، شاہد دہلوی اور مولوی عبدالحق کے دور کوخاکہ نگاری کے حوالے سے زرخیز مانتے ہوئے کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ” کیا وہ تمام کے تمام خاکے صنفِ خاکہ نگاری کے مطالبات پورا کرتے تھے“میرے خیال میں ایسا کرنا خاکہ نگاری کی صنف پر بحث کو نئے سرے سے زندہ کرنے والی بات ہے آپ جانے کیا خیال کریں مگر میں اسے صحیح خیال کرتاہوں۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ عصرِ حاضر میں جہاں تخلیق کاروں پر قدغن لگائی جاتی ہے کہ ادب روبہ زوال ہے ، تخلیق کار عمدہ ادب تخلیق ہی نہیں کررہے وہاں ادبی حلقوں یہ بات بھی زور وشور سے کہی جاتی ہے کہ اس الزام کا بنیادی سبب نقاد حضرات کا نہ ہونا اور فنِ تنقید اور اپنے فرائض سے چشم پوشی اختیار کرنا ہے، یہی بات ممتاز رفیق نے کہی کہ ” خاکہ نگاروں نے تو خیر بری بھلی کوششیں کی بھی ہیں، حیرت تو نقادانِ ادب کے رویے پر ہوتی ہے جنہوں نے اس صنف پر سنجیدگی سے توجہ ہی نہیں دی،حد تو یہ ہے کہ ہمارے نقادوں نے خاکہ نگاری کی کوئی جامع اور بھرپور تعریف تک مرتب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی،حالانکہ یہ نقادانِ ادب کی ذمہ داری تھی کہ و ہ ہمیں بتاتے اس صنف کے بنیادی اصول، اس کی ماہیت، اس کے تنقیدی معیارات اور حدود کیا ہوں گی“ ۔ خاکہ نگاری ایک بہت مشکل صنف ادب ہے۔ ڈاکٹر احسن فاروقی خاکہ نگاری کو بال سے باریک ، تلوار سے تیز صراط مستقیم کا نام دیتے ہیں اور محمد طفیل اسے ایک ایسی تلوار سمجھتے ہیں جس خود لکھنے والا بھی زخمی ہوتا ہے۔کسی شخصیت پر قلم اٹھانے سے تخلیق کار پر بہت بھاری ذمہ داری ہوتی ہے کہ و ہ متذکرہ کی تمام ترجہتوں سے نہ صرف بخوبی واقف ہو بلکہ الفاظ کے استعمال میں بھی کما حقہ توازن سے کام لے ، خاکہ نگار عام زندگی میں بیک وقت مرنجا مرنج اور زود رنج قسم کی شخصیت ہیں۔ ممتاز رفیق کے ” تصویر خانے “ کو پڑھنے پرجہاں آپ کو ان کے لہجے میں سچائی کا کھردرا پن اور لفظوں میں تلوار کی سی کاٹ نظر آئے گی وہاں شگفتگی اور چھیڑ چھاڑ بھی نظر آئے گی جو کہ ممتاز رفیق کی خاکے کے کرداروں سے بے تکلفی کی آئنہ دار ہے اس کا پہلاثبوت خاکوں کے عنوانات ہیں ۔تصویر خانہ کے خاکو ں میں عمومی طور پر شخصی سراپا بیان کرنے کے ساتھ بعض اوقات پس منظر کے ذریعے پیش منظر کو واضح کیا جاتا ہے۔ ممتاز رفیق نے کئی ایک خاکوں میں اس تکنیک سے کام لیا ہے۔ اس کی مثالیں ضیا ءجعفری ، رضا ہمدانی اور فارغ بخاری کے خاکوں میں ملتی ہیں، ممتاز رفیق کے خاکوں کی زبان ہرچند کہ بلا ضرورت استعارے ہوئے انگریزی کے الفاظ اور عامیانے پن کی آلائشوں سے پاک ہے تحریر میں بلا کی روانی ہے جو ان کی شخصیت میںبھی نظر آتی ہے، اس بات سے قطع نظر عام قاری کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا جاسکتا ہے کہ ایسی اکتا دینے والی زبان سے لوگ ادب سے دور ہورہے ہیں لیکن اس الزام کی حیثیت میرے خیال میں موشگافیوں کے علاوہ کچھ نہیں ،مجھے سمجھ نہیں آتا ایسارویہ اردو ہی کے ساتھ کیوں روا رکھا جاتا ہے دوسری کسی زبان کے ساتھ کیوں نہیں ؟ خیریہ موضوع پر الگ صفحات اور وقت کا متقاضی ہے ۔ دنیا کا سب سے مشکل کام کسی شخصیت کو پڑھنا اور اس سے کہیں مشکل کا م شخصیت کو لفظوں میں منتقل کرنا ہے اور وہ بھی ایسے کہ اس تحریری تصویرمیں شخصیت کی مکمل تصویر بن کرسامنے آئے ۔۔ اردو میں جدید خاکہ نگاری کی ابتداءعصمت چغتائی کے ’دوزخی‘ سے ہوئی،عصمت چغتائی نے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ لکھا تو مرحوم کو ’دوزخی‘ قرار دے دیا اور منٹو نے اپنے دوستوں کے خاکے لکھتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ موت کے بعد ہر کس و ناکس کی شخصیت کو لانڈری سے دھلوا کر رحمت اللہ علیہ کی کھونٹی پر نہیں ٹانگا جا سکتا۔ توصیف نگاری کی پرانی روایت کے ردِعمل میں پیدا ہونے والی گنجے فرشتے اور دوزخی والی خاکہ نگاری ایک اور طرح کی انتہا پسندی تھی جس میں حقیقت نگاری کا دعوٰی کرنے والے قلم کار دراصل زیرِ تجزیہ شخصیت کے جسم کی چیر پھاڑ کرتے ہوئے اسکی روح تک کو عریاں کرنے پر کمربستہ دکھائی دیتے تھے اور اپنے نشتر کے ہر کچوکے پر لذّت کا چسکارا بھرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ ربع صدی بعد جب ڈاکٹر آفتاب احمد اور مظفر علی سیّد کے ہاتھ میں خاکہ نگار کا قلم آیا تو سن چالیس اور پچاس کے عشروں والی شدت پسندی اعتدال کا راستہ اپنا چکی تھی اور شخصیت کو دیکھنے سمجھنے اور پرکھنے کے زیادہ انسان دوست رویے اپنائے جا رہے تھے،میرے خیال میں یہ سلسلہ جاری ہے۔۔ مولوی عبدالحق (چند ہمعصر)، شاہد احمد دہلوی (بزمِ خوش نفساں، اجڑا دیار)، آغا شورش کاشمیری(چہرے)، ڈاکٹر انور سدید (چہرے)منظر علی خاں منظر(خاکہ نما) ، صادق الخیری (آسماں کیسے کیسے) اور فارغ بخاری کے( البم) کو ایک طرف رکھ چھوڑ نے سے پیشتر ہمیں طے کرنا ہو گا کہ اس قبول ورد کا معیار کیا ہے۔ بہر کیف پیش لفظ پر تو بات ہوچکی اب آگے چلتے ہیں۔۔۔۔ لیکن ٹھہریے ! ’ ’تصویر خانہ“ کے سیر حاصل پیش لفظ کے بعد آپ خاکے کے نام پر روکھی پھیکی نثر نہیں پڑھنے جارہے ، ممتاز رفیق کی تحریر میں اس بات کا التزام ہے کہ وہ خاکے کے دوران آپ کے ساتھ ساتھ رہیں اور جہاں آپ لمحے بھر کو ٹھہریں موقع پاتے ہی آپ سے مکالمہ بھی کریں ، کسی بڑے مصور نے کہا تھا کہ ” انسان اور چیزوں کے درمیان اگر مانوسیت ہٹادی جائے تو اس پر حیرت کے وہ اسرار کھلیں کہ جو اس کی موت سے بھی رخصت نہ ہوں،آپ اگرکھڑے ہیں تو کھڑے رہ جائیں ، حیرت ومعجوبیت کا یہ عالم اس کی ہڈیوں سے گوشت جھڑ جانے پر بھی ختم نہ ہو۔“ ۔۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کائنات کی اعلی ترین مخلوق کو جاننے کا دعویٰ کرسکیں ،اگر اس کے ذیل میں ہم صرف یہ کہہ لیں کہ خاکہ نگار دراصل اپنے خاکے کی شخصیت کے بارے میں وہی لکھتا ہے جو وہ جان لیتاہے ، چین کے قدیم باشندوں کا خیال تھا کہ ایک تصویر دس ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے اس مناسبت سے ایک جیتے جاگتے کردار اوراس کی حرکات وسکنات کو کاغذ پر منتقل کرنے میںکتنے الفا ظ کی ضرورت ہوگی اور ممتاز رفیق نے کتنے لفظوں کو”قم “ کہا ہے ، ماہر ِ شماریات شاید صحیح بتاسکیں۔ ممتاز رفیق کے خاکوں” اوکھا منڈا“ سے ” خالی آدمی“ تک پڑھتے ہوئے یقین ہوتاہے کہ موصوف بہت ماہر مصور ہیں جو زیرِ تجزیہ کردار کی حرکات وسکنات، گفت و شنید غیر محسوس انداز میں اپنے ذہن میں امانتاً محفوظ کرلینے کے بعد اسے بجائے رنگوں اور برش کے استعمال کے لفظوں کی قید میں دیے دیتے ہیں، لفظوں سے کردار کی تجسیم کے عمل میں یوں لگتا ہے کہ جیسے آپ مادام تساؤ کے مومی عجائب خانے میں آگئے ہوں ہر طرف شخصی مجسمے جنہیں چھونے کو دل چاہے ، جن سے آپ سے باتیں کریںیکبارگی میں تو یہ احساس ہی نہ ہو کہ یہ محض مجسمے ہیں پھر ایک جھماکا سا ہو اور مجسمے یکدم زندہ ہوجائیں کتابوں کے ڈھیر کی اوٹ سے جاگتی سوتی آنکھیں، چائے کی ایک پیالی پر رات رات بھر کے ادبی چوپال ، کوئے خرابات سے کوئے عبادات، ایک جانب ریڈیو پاکستان کی کینٹین جہاں قمرجمیل ، سلیم احمد طلعت حسین ، عذرا عباس ، ناظمہ طالب ، شاہدہ حسن ، فاطمہ حسن اور کئی ایک دھندلے نقوش ہیڈگرکے فلسفے کی گرہیں کھولنے میں مصروف ہیں، ایک جانب احمد جاوید ہیں جو اس مادی دنیا کی حشر سامانیوں سے الگ نئے راستے کی کھوج میں ہلکان ہورہے ہیں،سراج منیرایک جانب سر نہواڑے کسی سوچ میں غلطاں ، ایک جانب وارث فرید ی بھانت بھانت کے پتھروں کے خواص میں مستغرق ، کافی ہاؤس کا شور ، ٹائپ رائٹروں کی کھٹ کھٹ ،ایک چائے خانے کی میز پر حلیم شرر جو احمد عمر شریف کے گیتوں پر سر دھن رہے ہیں، انورشعور ملگجے میں اٹی راہداری میں کھڑے غم غلط کرنے میں منہمک، الغرض ایک منظر میں کتنے ہی منظر کہ کشتِ حیرت بھی کم پڑجائے ، آپ کے دائیں ہاتھ پہلا مجسمہ منیر نیازی کا ہے جو آپ کی طرف بڑھ رہا ہے آپ بھی گرم جوشی سے ان کے قریب ہوئے مصافحہ کرتے ہوئے رات کی رانی کی خوشبو سے دماغ کو معطر کرلیں، ۔۔۔ عبیداللہ علیم ، راغب مرادآبادی،دلاور فگار ،احمد جاوید ، سراج منیر، نصیرترابی ،انورشعور، ثروت حسین ، جمال احسانی ، قمرجمیل ،انور مقصود، ذیشان ساحل، اقبال پیرزادہ، وارث فریدی اور جلیل ہاشمی کے چلتے پھرتے ، روٹھتے مسکراتے کرداروں کو جب ممتازرفیق نے سپردَ قلم کیا تھا تو شاید سبھی کردار اس زمین نامی ہنڈولے پر ہم لوگوں کے درمیان تھے ۔۔ مگرآج جب ان کا ”تصویر خانہ“ ہمارے سامنے ہے ان شخصیات میں سے چند ایک ہی ہمارے ساتھ ہیں باقی راہی ِعدم ہوچکے ہیں ، اس لحاظ سے ” تصویر خانہ “ رفتگاں کے خاکوں پر مشتمل ایک دستاویز کی حیثیت بھی رکھتی ہے جو نئی نسل کو ان شخصیات سے متعارف کرنے پر معمور ہے ، گمان گزرتا ہے کہ خاکہ نگار نے ان شخصیات کو عام زندگی کے رویوں سے نکال کر تصویر خانے میں جمع کرنے کے عمل میں اپنی زندگی صرف کردی ہے جبکہ نتیجہ تہی دامنی رہا، جس کا مکمل ادراک ممتاز رفیق کے ذاتی خاکے ” خالی آدمی“ میں لہریں لیتا دکھائی دیتا ہے ، منیر نیازی کے اوکھا منڈا سے ممتاز رفیق کے خالی آدمی تک جہاںتمام خاکے اپنی اپنی حیثیت میں اسالیب ِ توصیف نگاری کے الگ الگ رویوں میں گندھے ہوئے ہیں اور اپنے پڑھنے والے پر خاکہ نگار کے قلم کی رشتوں سے لا تعلق کاٹ کا ایک بھرپور تاثر چھوڑتے ہیں ،وہاں آپ کو یوں بھی محسوس ہوگا کہ جیسے جامنی لڑکی فاطمہ حسن اور بھید بھری سارہ شگفتہ کے کردارلفظوں میں تجسیم کرتے وقت خاکہ نگار کی ازلی مردانہ انا بھی کہیں کہیں ہاتھ دکھاگئی ہو ،کم از کم مجھ تک تویہی تاثر پہنچا ہے ممکن ہے یہ تاثرغلط ہو ۔ محمد طفیل کے کہے کے مطابق ممتاز رفیق جہاں اس وقت داد و تحسین سمیٹ رہے ہوں گے وہاںاب تک کئی زخم بھی کھاچکے ہوں گے ،زرخیز ابتدائیہ رکھنے والی خاکہ نگاری کی صنف قدر و ناقدری کے رویے سہارتی ہوئی اب ممتاز رفیق کے ”تصویر خانہ “ کی کلاہ سنبھالے نظر آتی ہے امید کی جاسکتی ہے کہ ممتاز رفیق نقادان ِ ادب کے جس رویے سے شاکی نظر آئے اس ضمن میں نقادان ادب اس جانب توجہ کریں گے ۔ والسلام آپ کی گراں قدر رائے کا منتظر م۔م۔مغل

1 comment:

  1. سب سے بہترین، اعلیٰ ، معیاری ، خوبصورت،

    ReplyDelete