Saturday, January 7, 2017

” آدھی ملاقات “​

مکّرمنا !

مدیرِ اعلیٰ : مفتی خالد محمود صاحب آداب و سلامِ مسنون برادرِ عزیز حافظ سمیع اللہ آفاقی کی وساطت سے ” مجلّہ اقراء“ (جلد دوم ، شمارہ اوّلین، دسمبر۱۱۰۲ تا جنوری ۲۱۰۲)باصرہ نواز ہوا ، رسید حاضر ہے ، قبل اس کے کہ میں مجلّہ کے بارے میں مقدور بھر معروضات سپردِ قرطاس کروں ، مدّعا بتصریفِ وقت یہ کہ پرچہ کے نگرانِ اعلیٰ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی ، مدیرمفتی مزمل حسین کپاڈیا، مجلسِ ادارت کے اراکین مفتی محمد بن جمیل خان، مفتی طلحہ منیر، محترمہ زہرا فیصل اور شعبہ تزئین وآرائش کے اراکین معراج الدین سبحانی ، حافظ سمیع اللہ آفاقی ، حفیظ اللہ خان اور سلمان اکبرکی شبانہ روز عرق ریزی پر منتج کاوشوں اور پرچے کے صوری طباعتی آہنگ پر صمیمِ قلب سے ہدیہ تبریک و تحسین پیش گزار کرتا ہوں ۔ ” گرقبول افتد زہے عز وشرف“

پہلی ہی قراءت میں پرچہ دیدہ و دل میں اپنی جگہ پانے میں نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ میری خواہش کہ مجھے باقائدگی سے اس مجلّہ کی زیارت نصیب رہے کہ بہ یک وقت زبانِ لشکری اردو ، زبانِ فصحاءعربی اور انگریزی کا میری بصارت کاحاصل یہ پہلا پرچہ ہے جو دینوی و دنیاوی اقدار کی پاسداری کے ساتھ پراگندہ طبعی کے ماحول میں مساوی الاقدارنصابِ اصل اور غیر نصابی متن کا حامل ہے اورنوورادانِ بساطِ علم اور بتدریج ثانوی تعلیمی ادوار کے حامل افراد کی فہم و بالیدگی فکر کو جِلابخشنے اور تربیّت کرنے میں اپنی پوری توانائی کے ساتھ مشغول و منہمک ہے، سرورق اپنی مثال آپ ہے کہ کمال توازن سے مرصع کیا گیا ہے ، انشراحیہ صراحت کے بعد فرمانِ الہٰی و اسوۂحسنہ نے دیدہ و دل کو تقویت دی،حمد و نعت ، احادیث و اقوال، اصلاحی سلسلہ ، اسلامی تاریخ کا مطالعہ ، سہ زبانی قوائد، تمثالِ اسوۂ حسنہ ، تربیتّی قصائص ، معلوماتی کسوٹی سوال نامہ، لذّتِ کام و دہن کے لیے دسترخوان اور دورِ جدید کی مناسبت سے تیکنیکی معلومات(انفارمیشن ٹیکنالوجی) غرض کہ انسانی نفسیاتی گرہ کھولنے پر معمور سبھی شعبہ جات اپنی مثال آپ ہیں، یقینا وقت کے ساتھ ساتھ بہتری کی صورت رہے گی ، چونکہ اوّلین شمارہ ہے سو املا انشاءکی خاصی اغلاط نظر آتی ہیں امید ہے ادارتی مناصب کے حامل افراد ان خامیوں پر بہ احسن قابو پالیں گے ۔چونکہ میرا ذاتی فکری حوالہ بنیادی طور پر ادب ہے سو میری خواہش ہے کہ منظومات کو شامل کرنے قبل ان کی احسن صحت (حسن و قبح)کی بابت بھی غور کیا جائے ۔ عمومی طورپر نثری پرچہ جات میں ایسی چوک ہوجاتی ہے جس سے پرچہ کا حسن گہنا کر رہ جاتا ہے ۔ بالخصوص شاعری میں زبان و بیان پر سطحی عبور بھی متن و مضمون میں غرابت َ لفظی و معنوی اور تنقیص و اہانت کی وجہ بن جاتا ہے ۔بہ ہر کیف و بہ ہر حال قصّہ کوتاہ یہ کہ مجلّہ کی بالاستیعاب قراءت کے بعد مجھے یہ کہنے میں کچھ باک نہیں کہ پرچہ ہرچند کہ غیر نصابی ہے مگرپوری تہذیب و اقدار کے ساتھ نصابی حیثیت کا حامل ہے اورقارئین کے ساتھ ساتھ طالب علموں کے لیے ایک دستاویزی حیثیت بھی ۔

پرچہ کی اجتماعی حیثیت میں بچّوں کے نظمیہ ادب کا حصہ شامل کرنے سے میری دانست میں پرچہ کا حسن دوآتشہ ہوجائے گا امید ہے کہ منتظمین اس جانب توجہ فرمائیں گے اور بچّوں کا شعری ادب بھی پرچہ کا حصہ بنے گا۔ میں بارگاہِ ایزدی میں دست بہ دعا ہو ں کہ مالک و مولیٰ پرچہ کے نیک مقاصد کو قبول فرمائے اور روز افزوں ترقّی عطا فرمائے ۔

اٰمین بجاہ النبی الامین
م۔م۔مغل
سکنہ: شمالی ناظم آباد کراچی

Sunday, January 6, 2013

دندان ساز

دندان ساز

میں خواہشوں کو کسک کی طرح
ہلکی آنچ پر سلگنے کی کیفیت سمجھتا تھا۔۔
قدرت کے مسلط کردہ رشتے ۔۔۔
چھوت کا مریض سمجھ کر دُور رہنے لگے
نفسیات دان میری بات سمجھنے سے قاصر تھے۔۔
طبیب نسخوں میں اپنے خالی ذہنوں کی طرح

 خالی کاغذ ہی پیش کرپاتے تھے۔۔
دسمبر کی خنک راتیں جذبات میں سردلُو لگنے سے گھبرا کر
کھڑکی سے آتش بازی کا نظارہ کرتے ہوئے
سینے میں برانڈی کی کمی کا احساس جاگنے ہی نہیں دیتی تھیں
امیدوں کا سورج آج چھ دنوں میں ہی سال خوردہ بوڑھے کی طرح
دوہری ہوتی ہوئی کمر پر دلاسے کی گٹھری لادے
بوجھ سے اکتا کر ہانپتا کانپتا دورکسی گاؤں کی طرف
 پیروں میں روز و شب کچلتا ہواچلا رہا ہے۔۔
تعلق کے بے انت سمندر میں اپنا وجود
لمس کی شعلگی کو دان کرنے کی خواہش نے 
نئے سورج کو خوش آمدید کہامگر۔۔۔
نئے سال کی کروٹیں حجلۂ محرومی میں۔۔۔
تعلق کے بستر پر شکنیں گننے میں

 مصروفیت کا رونا رونے لگی تھیں۔۔۔
اعصاب چٹخا دینے والی بلغم آلود کھانسی
رگوں سے خون کا دورانیہ کم کرتے ہوئے
رتجگے میں فرنگی زبان میں

 نظم لکھنے کا شرف حاصل ہواتو
روح کے طبیب نے نظم سن کر

 کمال ہنرمندی سے کہا۔۔پاگل ۔۔
’’خواہشیں دانت کے درد کی طرح ہوتی ہیں ‘‘
  جب دانت میں درد ہوتا ہے ناں

 تو زندگی عذاب ہوجاتی ہے
 حل صرف یہی ہے کہ

 خراب دانت کو نکال دیا جائے۔۔
اب میں اپنے ماہردندان ساز سے کیسے کہوں کہ
خواہشوں کا دانت اور آنت سے دور کا علاقہ نہیں۔۔
یہ رگوں میں سرطان کی طرح ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔۔
اور سرطان تو سرطان ہی ہوتا ہے۔۔

م۔م۔مغل  ؔ۔
6/1/13

Monday, January 9, 2012

آئندہ عشق کے شاعرنیّر ندیم سے مکالمہ

آئندہ عشق کے شاعرنیّر ندیم سے مکالمہ
محفوظ رکھنا ترکِ تعلق کا تجربہ
آئندہ عشق میں بھی یہی کام آئے گا
(نّیر ندیم )
گفتگو : م۔م۔مغل


نیّرندیم صاحب کا آبائی تعلق منقسم ہندوستان کے علاقہ برن(بلند شہر) سے ہے کسبِ روزگارکے لیے برسوں پاکستان ٹیلی وژن سے منسلک رہے بعد ازاں ایک نجی ٹیلی وژن سے منسک ہیں اور صحافتی فرائض کی ا نجام دہی میں مصروف ہیں ۔ نیّر ندیم صاحب کا تقریباً پورا خاندان ہی گیسوئے ادب سنوارنے میں تمام ترتہذیبی روایات اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے ساتھ مشغول و منہمک ہے ، نیّر ندیم صاحب کے بڑے بھائی علی جبریل برنی صاحب کا شعری مزاج بنیادی طور پر جارہانہ ہے، جبکہ چھوٹے بھائی سرور جاوید کے شعری مزاج میں صحافت ایسے معتبر پیشہ سے انسلاک کے باوصف تمام تر ترقی پسندی اور نقادانہ اوصاف بدرجہ اتم موجود ہیں ، جبکہ ہمشیرہ محترمہ نایاب نسرین صاحبہ کا بنیادی حوالہ افسانوی ادب ہے مگراسالیب شعر میں نسائی اقدار ان کا بنیادی مسئلہ ہے جو زبانِ شعر میں کمال حیثیت پر موجود ہے ۔۔ نیّر ندیم صاحب کا شعری مزاج اپنے دونوں بھائیوں کے باوصف نہایت نرم خوئی پر منتج ہے نیّر ندیم صاحب کے شعر ی مزاج خاص بات زبانِ شعر میںبے جامفرس معّرب تراکیب سے دوری، روزمّرہ اورمحاورہ کے درمیان حسنِ توازن سے شعرکہنا ہے ،بے جا ادق لفظیات سے قاری پر رعب ڈالتے نظر نہیں آتے ۔ عام میل جول میں نیّر ندیم صاحب انتہائی حلیم الطبع اور منکسر المزاج ہیں معاصر ہوں یا نوواردانِ بساطِ ادب۔۔ مخاطب کی بات چہ جائیکہ غلط ہی کیوں نہ ہوکمال تحمل سے سنتے ہیں اور عزتِ نفس کی پاسداری کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ کمال شفقت سے نشاندہی کرتے ہیں ۔۔نیّرندیم صاحب کا بنیادی حوالہ شعر ہے، بیسیوں اشعار زبانِ زدِ عام ہیں اور ملک کے طول وعرض میں آپ کے چاہنے والے موجود ہیں۔۔ آپ اسالیبِ شعری کے علاوہ ادب کی دیگر اصناف سے نہ صرف رغبت رکھتے ہیں بلکہ شعرگوئی کا لازمہ سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ” یوں تو شاعری کے شعبے میں صرف معمولی اور رسمی شرکت ہے تاہم میں اس امر کو اپنے لیے اعزا ز سمجھتا ہوں کہ میں نے شعر ، افسانے اور ناول کا مطالعہ ضرور کیا ہے اور اپنے مطالعے کو اپنی شخصیّت کا حصہ بنایا ہے “۔۔چند روز قبل نّیر ندیم صاحب سے گفتگو کا موقع میسر آیاجسے قارئین کے لیے صفحہ کی زیبائی کے ساتھ پیش کیا جارہاہے ۔۔
(طبع شدہ : ہفت روزہ : تسخیر ، یکم جنوری دو ہزار بارہ)


م۔م۔مغل :ہمارے گردو پیش میں ایک سوال بازگشت کرتا نظر آتا ہے کہ ”شاعری کیا ہے“ ۔۔ آپ کیا کہتے ہیں ا س بارے میں کہ اس سوال سے”شاعری“ کی کوئی جہت دریافت ہوسکتی ہے یا محض وقت گزاری ہے۔ کیا اس سوال کا اسالیبِ ادب میں کوئی مقام ہے ؟ اگر ہے تو اس سے اب تک کیا فائدہ ممکن ہوسکا ہے ؟؟

نّیر ندیم :”شاعری کیا ہے “ یہ سوال مجھ جیسے کم فہم اور کج بیان کے قد سے کہیں بلند ہے ، بہرحال میں شاعری کو سماجی تہذیب کے اظہار اور انسانی جذبوں کے ناپنے کا پیمانہ سمجھتاہوں۔ شعر فہمی کو شعر گوئی پر فوقیت دیتا ہوں ۔رہا فائدہ ! تو یہ فائدہ بھی بہت ہے کہ ہر بڑے شاعر کے اچھے شعر ذہنی بالیدگی کا سبب بنتے ہیں اور بہت نچلی سطح پردیکھیں تو اردو شاعری کے کلچر میں مل بیٹھنا بھی ایک سماجی یگانگت کا سبب بن جاتا ہے۔

م۔م۔مغل :شہر کے سنجیدہ ادبی حلقوں میں یہ نعرہ بڑے زور و شور سے بلند کیا جاتا ہے کہ” ادب روبہ زوال ہے “۔۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ بادی النظرمیں عام مشاہدہ یہ ہے کہ لکھنے والوں کی تعداد خاصی ہے ، کتابیں رسائل جرائد بھرے پڑے رہتے ہیں تخلیقات سے اور طباعتی ادارے خوب پھل پھول رہے ہیں۔۔۔

نّیر ندیم :میں ” ادب روبہ زوال “ کے نظریہ کا قائل نہیں ہوں ۔ادب کے اشیائے ضرورت کی روزانہ قیمتوں کے حوالے سے نہیں ناپا جاتا ہے ۔ادب آلو کی فصل نہیں کہ چار ہفتے میں تیّار ہوکر بازار میں آجائے ۔کبھی اچھے شاعر کا اندازہ قبل از وقت ہوجاتا ہے کبھی مدّت لگتی ہے ۔شعر و ادب سے وابستگی کا اوسط اس بات کا غمّاز ہے کہ ادب روبہ زوال نہیں ہے۔ اد بی انجمنوں کی موجودگی ،ادبی رسائل کی اشاعت، شعری نشستوں کے انعقاد اور شعروں کی موبائل پر ترسیل تو ثابت کررہی ہے کہ ادب سے شغف موجودہے۔جب کوئی شے وجود سے عدم کی طرف سفر کرے، تو تشویش کی بات ہوتی ہے اور ایسا ادب میں نہیں ہورہا۔یہ سنجیدہ مسئلہ ،غیرسنجیدہ افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے ۔

م۔م۔مغل : نئے لکھنے والے اس بات سے شاکی رہتے ہیں ہے کہ ان کے ”سینئرز“ ان کی نہ رہنمائی کرتے ہیں اور نہ انہیں قبول کرتے ہیں ۔۔کیا یہ شکوہ جائز ہے ؟ اور یہ فضا کیسے تحلیل ہوسکتی ہے ۔

نّیر ندیم : مجھے اس قسم کی شکایت اپنے سینئرزسے کبھی نہیں ہوئی اور میں کوشش کرتا ہوں کہ نئے آنے والوں سے بھی الفاظ برتنے کا فن سیکھوں ، یہ بات واضح رہے کہ سینئر کتابیں ہوتی ہیں افراد نہیں ۔۔۔
(بر آں،مسکراتے ہوئے : نئے لکھنے والوں کو کتابیں چھاپنے سے فرصت نہیں تو رہنمائی کیسے ہوگی۔)

م۔م۔مغل : ادب میں حلقہ بندیوں کے باوصف گروہ بندیوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں کیا اس سے ادب کو کوئی فائدہ یا نقصان پہنچ سکتا ہے ؟

نّیر ندیم : کم قیمت لوگ گروہ بندی کے ذریعے شہرت تو حاصل کرسکتے ہیں مگرادب انہیں سندِ امتیاز نہیں دے سکتا ۔ اس مسئلہ سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ”جس دیئے میں جان ہوگی وہی جی سکتا ہے “۔
یہ فقرہ محشر بدایونی مرحوم کے ایک شعر کی نثر ہے اور میرے خیال کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے ۔

م۔م۔مغل :آپ کیا کہتے ہیں کہ کسی شاعر کے ہاں اسلوب کیسے ترتیب پاسکتا ہے ؟

نّیر ندیم :صاحبِ اسلوب ہونا مسلسل ریاضت ، مطالعہ، فلسفہ حیات اور مقاصد کی واضح تصویر کا مرہونِ منّت ہوتا ہے ۔ صاحبِ اسلوب ہونے کے لیے زبان دانی نہیں زبان فہمی اورالفاظ کے نت نئے معانی کا کھوج لگانا ہے ، یہ لفظ ” اسلوب“ بھی ایک طویل بحث کا طالب ہے۔

م۔م۔مغل : ہم عصر شعراءاور نوواردانِ شعر میں معیارِ شعر کا فرق ؟ یہ فرق کیسے ختم ہوسکتا ہے ؟ اچھے شعر کا معیار کیا ہے ؟

نّیر ندیم :معّیارِ شعر کا تعلق مشاہدہ ، مطالعہ اور تجربہ سے ہے اور ان تک رسائی کا کوئی ایسا نسخہ نہیں ہے جسے گھول کرپیا جاسکے نہ ایسا کوئی تعویز ہے کہ بازو پر باندھ لیں ، اس کے لئے شعر پڑھنا ، شعر یاد رکھنا، شعر سمجھنا ضروری ہے ۔اساتذہ میں میر ، غالب،انیس، اقبال اور فیض کو بالاستیعاب پڑھناہوگا۔

م۔م۔مغل :مملکت ِ ادب میں چلن عام ہے کہ لکھنے والے بالخصوص نئی نسل اپنے کام کو ” ادب کی خدمت“ کے منصب پر فائز دیکھتی ہے ۔۔ کیا ایسا دعویٰ قبل از وقت نہیں ؟ ادب کی حقیقی معنوں میں خدمت کیا ہے ؟ نظم کی بات الگ مگراسالیب ِ غزل میں”لسانیاتی تداخل“ کے نام پرعلاقائی بولیوں، زبانوں بالعموم و بالخصوص انگریزی زبان کے الفاظ زبردستی ٹھونسے جارہے ہیں کیا غزل اس کی متحمل ہوسکتی ہے ؟ لسانیاتی تشکیل اور اس کے عوامل کے جواز کے طور پر تہذیب و ثقافت سے یکسر متضاد نظریات کے حامل بدیسی ادیبوں کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں ۔۔ کیا زبانِ اردو اوراصنافِ ادب مزید کسی لسانیاتی تمسخر کی متحمل ہوسکتی ہیں ؟؟

نّیر ندیم :آپ نے لسانی تداخل اور لسانی تمسخر کہ کر وہ بات کہہ دی ہے جس کے بعد میری جانب سے کوئی اضافہ ممکن نہیں ہے بس یہی وہ حَکم ہے جو اس سلسلے میں حرفِ آخر ہے ۔زبانوں کی خوبی نئے الفاظ کو قبول کرنا بھی ہے مگر اسے تمسخرکی حدود سے بچانا ضروری ہے۔

م۔م۔مغل : پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے پورے ملک بالخصوص دبستانِ لاہور سے پنجاب بھر میں رمزیات سے قطعِ نظر اسالیبِ غزل میں مذہبی علامتوں تشبیہات کا دخول نظر آتا ہے ۔۔ کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ دیکھا جائے تو غزل میں حمد و نعت، سلام، مناقب کے اشعار کا رجحان تیزی سے ترتیب پا رہا ہے کیا ایسا کرنے سےخود غزل اور دیگر اصناف کی حیثیت مجروح نہیں ہوتی ؟

نّیر ندیم :غزل میں فرہاد، شیریں، کوہ کن ، جوئے شیر، مجنوں، ناقہءلیلی جیسے استعارات اسے استفادہ کیا جاتا رہا ہے ۔اب اگر وقت نے کروٹ لی ہے اور تاریخ سے اعلیٰ اخلاقیات کے استعارات کی جانب توجہ کی ہے تو یہ غزل کے دامن کو وسیع کرنے کے مترادف ہے ، میں حمد و نعت، مناقت و سلام کی غزل میں آمد کا خیر مقدم کرتا ہوں مگر انہیں استعارے اور علامتوں کے حوالے سے استعمال کیے جانے کا حامی ہوں ۔

م۔م۔مغل :محدود مشاہدے کے مطابق۸۰ کی دہائی کی نسل اور نسل ِ نوکے ہاں عام طور پر اسے تصوف کی شاعری پر محمول کیا اور جتایا جاتا ہے ؟ اسالیبِ شعری میں تصوف اورعرفیت کا غلغلہ چہ معنی دارد ؟ کیا مجازکی راہ سے گزرے بغیریہ نعرہ درست ہے؟ کیا محض تراکیب وضع کرنے اور مضمون باندھنے سے تصوف در آتا ہے ؟ اور کیا ایسا ہونا لاشعوری طور پر زمیں سے رشتہ توڑنے کا اشاریہ نہیں ؟

نّیر ندیم :تصّوف متروک ہوچکا ہے اور اس سلسلہ کو نئی غزل قبول نہیں کرتی اگر کوئی شاعر حقیقی اور ارضی حقائق کے ذکر کوعیب سمجھتا ہے اور تصّوف میں پناہ لینا چاہتا ہے تو وقت ضائع کرتا ہے ۔ جدید تصوّف خلقِ خدا سے متعارف ہونے کا نام ہے ۔قدیم تصّوف آسان پسندی کا دوسرا نام ہے ۔

م۔م۔مغل :تقسیمِ ہند کے بعداردو ادب میں مختلف تحاریک کا ورود ہوا،اس سے کلاسیکیت کے نام بوسیدگی کو ادب گرداننے جیسے نظریات کو خاصی حد تک کم کیا گیا۔ مگر بعد ازاں اخلاق، سماج ،ثقافت اور روایت سے باغی میلانات نرسل کے جنگلوں کی طرح اگنے لگے اور بے سروپا تخلیقات انبار لگ گئے ۔۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجود دور میں ادب کومزیدکسی تحریک کی ضرورت ہے ۔۔ ؟؟

نّیر ندیم : سائنس کے مطابق صرف وہ ہی قائم اور دائم رہ سکتا ہے جو فطری ماحول میں سب سے زیادہ طاقت ور ہو، مگر ادب کے شعبے میں طاقت ور محض طاقت کا نام نہیں بلکہ تہذیب کانام ہے ، وہی تحریک اور خیالات زندہ رہ سکتے ہیں جو زیادہ مہذب ہوتے ہیں اور سماجی اقدار کے مطابق ہوتے ہیں اور بدلتے ہوئے سماجی معیار کا ساتھ بھی دیتے ہیں اس لیے نرسلوں کے جنگل پر ہمیں تشویش نہیں ہے ادب خود کتر بیونت کرتا رہتا ہے اور مہذب تحریکیں اور نظریات باقی رہتے ہیں ۔ اللہ باقی بس۔۔۔ ۔

م۔م۔مغل :نئے لکھنے والوں کے لیے فرمائیے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کن باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے ؟؟

نّیر ندیم :نئے لکھنے والوں کو خود اپنی ذات سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

Tuesday, December 13, 2011

خلجان سپردِ قرطاس ------ میری ڈائری کا ایک ورق

:کتھارسس:
آج نہ میں آیا ہوں نہ میرا بھوت نہ میرا ہمزاد۔۔۔ ۔

میں ایک خالی آدمی ہوں خالی گھر کی طرح جو ۔۔سائیں سائیں کرتا ہے۔۔

جو، رو نہیں سکتا۔۔ جس کا سینہ چھلنی بھی ہوجائے
 تو سانس کی دھونکنی چلتی رہتی ہے۔۔۔ 
میں ان لوگوں میں سے ہوں جو شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں ۔۔
جو ہزاروں الفاظ کے مرقع سے اپنے لیے صرف دکھ کشید کرتے ہیں۔۔
میں وہ ہوں جو سینے کے جہنم کو بجھنے اس لیے نہیں دیتا
کہ اس آگ کی لذّت ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔۔
میں کسی کو بھی ناخن برابر دکھ نہیں دے سکتا مگر دکھ کا اظہار بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔ 
کہ میرے اظہار سے میرا داخلی وجود کھوکھلا نہ ہوجائے ۔۔۔ 
میں معاشرت کے قابل کبھی نہ رہا تھا نہ اس منصب کا اہل ہوسکتا ہوں۔۔
مجھ ایسے کے لیے باہر کا شور اندر کے شور سے ملنا بھی کفر ہے۔۔
میں اسے شرکِ کیفیّت سمجھتا ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔۔
میرے نزدیک کشیدہ خاطر ہونا اور کبیدہ خاطر ہونا ایک ہی بات ہے ۔۔
میں اپنے ہمزاد سے گھبرا جاتا ہوں اس کا سینہ بھی میری طرح چھلنی ہے۔۔۔ 
میں اپنے ہونے کے جواز سے یکلخت محروم بھی ہوں۔۔۔ 
اور اسی جواز کے سائے میں جینا بھی چاہتا ہوں۔۔۔ 
میں دکھوں کو پھول سے عبارت کرتا ہوں اور خوشی کو کانٹوں سے۔۔۔ 
میں ایک شاعر ہوں تیسرے درجے کا سہی مگر
 میں سمجھتا تھا کہ لفظ کیفیات کے آئنہ دار ہوتے ہیں۔۔
میں آج اپنے جہل کا اعتراف کرتا ہوں کہ لفظ محض فضلہ ہوتے ہیں ۔ ۔۔
ان کی کوئی حقیقت کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔۔۔ 
میں خود کو بہت مضبوط خیال کرتا تھا۔۔۔ 
مگر یہ میری خام خیالی ہی تھی ۔۔۔ 
میں بھی ٹوٹ جاتا ہوں ۔۔
میں بھی چٹخ جاتا ہوں۔
میں بھی درک جاتا ہوں۔۔۔ 



میں اس شعر کی طرح ہوں:


باہر سے جا ملا مرے اندر کا انتشار !!

اپنے خلاف میں نے بھی پتھر اٹھا لی
(شاعر کا نام ذہن سے محو ہے)

مورخہ: 13 دسمبر 2011 سہ پہر