Sunday, January 6, 2013

دندان ساز

دندان ساز

میں خواہشوں کو کسک کی طرح
ہلکی آنچ پر سلگنے کی کیفیت سمجھتا تھا۔۔
قدرت کے مسلط کردہ رشتے ۔۔۔
چھوت کا مریض سمجھ کر دُور رہنے لگے
نفسیات دان میری بات سمجھنے سے قاصر تھے۔۔
طبیب نسخوں میں اپنے خالی ذہنوں کی طرح

 خالی کاغذ ہی پیش کرپاتے تھے۔۔
دسمبر کی خنک راتیں جذبات میں سردلُو لگنے سے گھبرا کر
کھڑکی سے آتش بازی کا نظارہ کرتے ہوئے
سینے میں برانڈی کی کمی کا احساس جاگنے ہی نہیں دیتی تھیں
امیدوں کا سورج آج چھ دنوں میں ہی سال خوردہ بوڑھے کی طرح
دوہری ہوتی ہوئی کمر پر دلاسے کی گٹھری لادے
بوجھ سے اکتا کر ہانپتا کانپتا دورکسی گاؤں کی طرف
 پیروں میں روز و شب کچلتا ہواچلا رہا ہے۔۔
تعلق کے بے انت سمندر میں اپنا وجود
لمس کی شعلگی کو دان کرنے کی خواہش نے 
نئے سورج کو خوش آمدید کہامگر۔۔۔
نئے سال کی کروٹیں حجلۂ محرومی میں۔۔۔
تعلق کے بستر پر شکنیں گننے میں

 مصروفیت کا رونا رونے لگی تھیں۔۔۔
اعصاب چٹخا دینے والی بلغم آلود کھانسی
رگوں سے خون کا دورانیہ کم کرتے ہوئے
رتجگے میں فرنگی زبان میں

 نظم لکھنے کا شرف حاصل ہواتو
روح کے طبیب نے نظم سن کر

 کمال ہنرمندی سے کہا۔۔پاگل ۔۔
’’خواہشیں دانت کے درد کی طرح ہوتی ہیں ‘‘
  جب دانت میں درد ہوتا ہے ناں

 تو زندگی عذاب ہوجاتی ہے
 حل صرف یہی ہے کہ

 خراب دانت کو نکال دیا جائے۔۔
اب میں اپنے ماہردندان ساز سے کیسے کہوں کہ
خواہشوں کا دانت اور آنت سے دور کا علاقہ نہیں۔۔
یہ رگوں میں سرطان کی طرح ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔۔
اور سرطان تو سرطان ہی ہوتا ہے۔۔

م۔م۔مغل  ؔ۔
6/1/13

Monday, January 9, 2012

آئندہ عشق کے شاعرنیّر ندیم سے مکالمہ

آئندہ عشق کے شاعرنیّر ندیم سے مکالمہ
محفوظ رکھنا ترکِ تعلق کا تجربہ
آئندہ عشق میں بھی یہی کام آئے گا
(نّیر ندیم )
گفتگو : م۔م۔مغل


نیّرندیم صاحب کا آبائی تعلق منقسم ہندوستان کے علاقہ برن(بلند شہر) سے ہے کسبِ روزگارکے لیے برسوں پاکستان ٹیلی وژن سے منسلک رہے بعد ازاں ایک نجی ٹیلی وژن سے منسک ہیں اور صحافتی فرائض کی ا نجام دہی میں مصروف ہیں ۔ نیّر ندیم صاحب کا تقریباً پورا خاندان ہی گیسوئے ادب سنوارنے میں تمام ترتہذیبی روایات اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے ساتھ مشغول و منہمک ہے ، نیّر ندیم صاحب کے بڑے بھائی علی جبریل برنی صاحب کا شعری مزاج بنیادی طور پر جارہانہ ہے، جبکہ چھوٹے بھائی سرور جاوید کے شعری مزاج میں صحافت ایسے معتبر پیشہ سے انسلاک کے باوصف تمام تر ترقی پسندی اور نقادانہ اوصاف بدرجہ اتم موجود ہیں ، جبکہ ہمشیرہ محترمہ نایاب نسرین صاحبہ کا بنیادی حوالہ افسانوی ادب ہے مگراسالیب شعر میں نسائی اقدار ان کا بنیادی مسئلہ ہے جو زبانِ شعر میں کمال حیثیت پر موجود ہے ۔۔ نیّر ندیم صاحب کا شعری مزاج اپنے دونوں بھائیوں کے باوصف نہایت نرم خوئی پر منتج ہے نیّر ندیم صاحب کے شعر ی مزاج خاص بات زبانِ شعر میںبے جامفرس معّرب تراکیب سے دوری، روزمّرہ اورمحاورہ کے درمیان حسنِ توازن سے شعرکہنا ہے ،بے جا ادق لفظیات سے قاری پر رعب ڈالتے نظر نہیں آتے ۔ عام میل جول میں نیّر ندیم صاحب انتہائی حلیم الطبع اور منکسر المزاج ہیں معاصر ہوں یا نوواردانِ بساطِ ادب۔۔ مخاطب کی بات چہ جائیکہ غلط ہی کیوں نہ ہوکمال تحمل سے سنتے ہیں اور عزتِ نفس کی پاسداری کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ کمال شفقت سے نشاندہی کرتے ہیں ۔۔نیّرندیم صاحب کا بنیادی حوالہ شعر ہے، بیسیوں اشعار زبانِ زدِ عام ہیں اور ملک کے طول وعرض میں آپ کے چاہنے والے موجود ہیں۔۔ آپ اسالیبِ شعری کے علاوہ ادب کی دیگر اصناف سے نہ صرف رغبت رکھتے ہیں بلکہ شعرگوئی کا لازمہ سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ” یوں تو شاعری کے شعبے میں صرف معمولی اور رسمی شرکت ہے تاہم میں اس امر کو اپنے لیے اعزا ز سمجھتا ہوں کہ میں نے شعر ، افسانے اور ناول کا مطالعہ ضرور کیا ہے اور اپنے مطالعے کو اپنی شخصیّت کا حصہ بنایا ہے “۔۔چند روز قبل نّیر ندیم صاحب سے گفتگو کا موقع میسر آیاجسے قارئین کے لیے صفحہ کی زیبائی کے ساتھ پیش کیا جارہاہے ۔۔
(طبع شدہ : ہفت روزہ : تسخیر ، یکم جنوری دو ہزار بارہ)


م۔م۔مغل :ہمارے گردو پیش میں ایک سوال بازگشت کرتا نظر آتا ہے کہ ”شاعری کیا ہے“ ۔۔ آپ کیا کہتے ہیں ا س بارے میں کہ اس سوال سے”شاعری“ کی کوئی جہت دریافت ہوسکتی ہے یا محض وقت گزاری ہے۔ کیا اس سوال کا اسالیبِ ادب میں کوئی مقام ہے ؟ اگر ہے تو اس سے اب تک کیا فائدہ ممکن ہوسکا ہے ؟؟

نّیر ندیم :”شاعری کیا ہے “ یہ سوال مجھ جیسے کم فہم اور کج بیان کے قد سے کہیں بلند ہے ، بہرحال میں شاعری کو سماجی تہذیب کے اظہار اور انسانی جذبوں کے ناپنے کا پیمانہ سمجھتاہوں۔ شعر فہمی کو شعر گوئی پر فوقیت دیتا ہوں ۔رہا فائدہ ! تو یہ فائدہ بھی بہت ہے کہ ہر بڑے شاعر کے اچھے شعر ذہنی بالیدگی کا سبب بنتے ہیں اور بہت نچلی سطح پردیکھیں تو اردو شاعری کے کلچر میں مل بیٹھنا بھی ایک سماجی یگانگت کا سبب بن جاتا ہے۔

م۔م۔مغل :شہر کے سنجیدہ ادبی حلقوں میں یہ نعرہ بڑے زور و شور سے بلند کیا جاتا ہے کہ” ادب روبہ زوال ہے “۔۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ بادی النظرمیں عام مشاہدہ یہ ہے کہ لکھنے والوں کی تعداد خاصی ہے ، کتابیں رسائل جرائد بھرے پڑے رہتے ہیں تخلیقات سے اور طباعتی ادارے خوب پھل پھول رہے ہیں۔۔۔

نّیر ندیم :میں ” ادب روبہ زوال “ کے نظریہ کا قائل نہیں ہوں ۔ادب کے اشیائے ضرورت کی روزانہ قیمتوں کے حوالے سے نہیں ناپا جاتا ہے ۔ادب آلو کی فصل نہیں کہ چار ہفتے میں تیّار ہوکر بازار میں آجائے ۔کبھی اچھے شاعر کا اندازہ قبل از وقت ہوجاتا ہے کبھی مدّت لگتی ہے ۔شعر و ادب سے وابستگی کا اوسط اس بات کا غمّاز ہے کہ ادب روبہ زوال نہیں ہے۔ اد بی انجمنوں کی موجودگی ،ادبی رسائل کی اشاعت، شعری نشستوں کے انعقاد اور شعروں کی موبائل پر ترسیل تو ثابت کررہی ہے کہ ادب سے شغف موجودہے۔جب کوئی شے وجود سے عدم کی طرف سفر کرے، تو تشویش کی بات ہوتی ہے اور ایسا ادب میں نہیں ہورہا۔یہ سنجیدہ مسئلہ ،غیرسنجیدہ افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے ۔

م۔م۔مغل : نئے لکھنے والے اس بات سے شاکی رہتے ہیں ہے کہ ان کے ”سینئرز“ ان کی نہ رہنمائی کرتے ہیں اور نہ انہیں قبول کرتے ہیں ۔۔کیا یہ شکوہ جائز ہے ؟ اور یہ فضا کیسے تحلیل ہوسکتی ہے ۔

نّیر ندیم : مجھے اس قسم کی شکایت اپنے سینئرزسے کبھی نہیں ہوئی اور میں کوشش کرتا ہوں کہ نئے آنے والوں سے بھی الفاظ برتنے کا فن سیکھوں ، یہ بات واضح رہے کہ سینئر کتابیں ہوتی ہیں افراد نہیں ۔۔۔
(بر آں،مسکراتے ہوئے : نئے لکھنے والوں کو کتابیں چھاپنے سے فرصت نہیں تو رہنمائی کیسے ہوگی۔)

م۔م۔مغل : ادب میں حلقہ بندیوں کے باوصف گروہ بندیوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں کیا اس سے ادب کو کوئی فائدہ یا نقصان پہنچ سکتا ہے ؟

نّیر ندیم : کم قیمت لوگ گروہ بندی کے ذریعے شہرت تو حاصل کرسکتے ہیں مگرادب انہیں سندِ امتیاز نہیں دے سکتا ۔ اس مسئلہ سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ”جس دیئے میں جان ہوگی وہی جی سکتا ہے “۔
یہ فقرہ محشر بدایونی مرحوم کے ایک شعر کی نثر ہے اور میرے خیال کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے ۔

م۔م۔مغل :آپ کیا کہتے ہیں کہ کسی شاعر کے ہاں اسلوب کیسے ترتیب پاسکتا ہے ؟

نّیر ندیم :صاحبِ اسلوب ہونا مسلسل ریاضت ، مطالعہ، فلسفہ حیات اور مقاصد کی واضح تصویر کا مرہونِ منّت ہوتا ہے ۔ صاحبِ اسلوب ہونے کے لیے زبان دانی نہیں زبان فہمی اورالفاظ کے نت نئے معانی کا کھوج لگانا ہے ، یہ لفظ ” اسلوب“ بھی ایک طویل بحث کا طالب ہے۔

م۔م۔مغل : ہم عصر شعراءاور نوواردانِ شعر میں معیارِ شعر کا فرق ؟ یہ فرق کیسے ختم ہوسکتا ہے ؟ اچھے شعر کا معیار کیا ہے ؟

نّیر ندیم :معّیارِ شعر کا تعلق مشاہدہ ، مطالعہ اور تجربہ سے ہے اور ان تک رسائی کا کوئی ایسا نسخہ نہیں ہے جسے گھول کرپیا جاسکے نہ ایسا کوئی تعویز ہے کہ بازو پر باندھ لیں ، اس کے لئے شعر پڑھنا ، شعر یاد رکھنا، شعر سمجھنا ضروری ہے ۔اساتذہ میں میر ، غالب،انیس، اقبال اور فیض کو بالاستیعاب پڑھناہوگا۔

م۔م۔مغل :مملکت ِ ادب میں چلن عام ہے کہ لکھنے والے بالخصوص نئی نسل اپنے کام کو ” ادب کی خدمت“ کے منصب پر فائز دیکھتی ہے ۔۔ کیا ایسا دعویٰ قبل از وقت نہیں ؟ ادب کی حقیقی معنوں میں خدمت کیا ہے ؟ نظم کی بات الگ مگراسالیب ِ غزل میں”لسانیاتی تداخل“ کے نام پرعلاقائی بولیوں، زبانوں بالعموم و بالخصوص انگریزی زبان کے الفاظ زبردستی ٹھونسے جارہے ہیں کیا غزل اس کی متحمل ہوسکتی ہے ؟ لسانیاتی تشکیل اور اس کے عوامل کے جواز کے طور پر تہذیب و ثقافت سے یکسر متضاد نظریات کے حامل بدیسی ادیبوں کے حوالے پیش کیے جاتے ہیں ۔۔ کیا زبانِ اردو اوراصنافِ ادب مزید کسی لسانیاتی تمسخر کی متحمل ہوسکتی ہیں ؟؟

نّیر ندیم :آپ نے لسانی تداخل اور لسانی تمسخر کہ کر وہ بات کہہ دی ہے جس کے بعد میری جانب سے کوئی اضافہ ممکن نہیں ہے بس یہی وہ حَکم ہے جو اس سلسلے میں حرفِ آخر ہے ۔زبانوں کی خوبی نئے الفاظ کو قبول کرنا بھی ہے مگر اسے تمسخرکی حدود سے بچانا ضروری ہے۔

م۔م۔مغل : پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے پورے ملک بالخصوص دبستانِ لاہور سے پنجاب بھر میں رمزیات سے قطعِ نظر اسالیبِ غزل میں مذہبی علامتوں تشبیہات کا دخول نظر آتا ہے ۔۔ کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ دیکھا جائے تو غزل میں حمد و نعت، سلام، مناقب کے اشعار کا رجحان تیزی سے ترتیب پا رہا ہے کیا ایسا کرنے سےخود غزل اور دیگر اصناف کی حیثیت مجروح نہیں ہوتی ؟

نّیر ندیم :غزل میں فرہاد، شیریں، کوہ کن ، جوئے شیر، مجنوں، ناقہءلیلی جیسے استعارات اسے استفادہ کیا جاتا رہا ہے ۔اب اگر وقت نے کروٹ لی ہے اور تاریخ سے اعلیٰ اخلاقیات کے استعارات کی جانب توجہ کی ہے تو یہ غزل کے دامن کو وسیع کرنے کے مترادف ہے ، میں حمد و نعت، مناقت و سلام کی غزل میں آمد کا خیر مقدم کرتا ہوں مگر انہیں استعارے اور علامتوں کے حوالے سے استعمال کیے جانے کا حامی ہوں ۔

م۔م۔مغل :محدود مشاہدے کے مطابق۸۰ کی دہائی کی نسل اور نسل ِ نوکے ہاں عام طور پر اسے تصوف کی شاعری پر محمول کیا اور جتایا جاتا ہے ؟ اسالیبِ شعری میں تصوف اورعرفیت کا غلغلہ چہ معنی دارد ؟ کیا مجازکی راہ سے گزرے بغیریہ نعرہ درست ہے؟ کیا محض تراکیب وضع کرنے اور مضمون باندھنے سے تصوف در آتا ہے ؟ اور کیا ایسا ہونا لاشعوری طور پر زمیں سے رشتہ توڑنے کا اشاریہ نہیں ؟

نّیر ندیم :تصّوف متروک ہوچکا ہے اور اس سلسلہ کو نئی غزل قبول نہیں کرتی اگر کوئی شاعر حقیقی اور ارضی حقائق کے ذکر کوعیب سمجھتا ہے اور تصّوف میں پناہ لینا چاہتا ہے تو وقت ضائع کرتا ہے ۔ جدید تصوّف خلقِ خدا سے متعارف ہونے کا نام ہے ۔قدیم تصّوف آسان پسندی کا دوسرا نام ہے ۔

م۔م۔مغل :تقسیمِ ہند کے بعداردو ادب میں مختلف تحاریک کا ورود ہوا،اس سے کلاسیکیت کے نام بوسیدگی کو ادب گرداننے جیسے نظریات کو خاصی حد تک کم کیا گیا۔ مگر بعد ازاں اخلاق، سماج ،ثقافت اور روایت سے باغی میلانات نرسل کے جنگلوں کی طرح اگنے لگے اور بے سروپا تخلیقات انبار لگ گئے ۔۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجود دور میں ادب کومزیدکسی تحریک کی ضرورت ہے ۔۔ ؟؟

نّیر ندیم : سائنس کے مطابق صرف وہ ہی قائم اور دائم رہ سکتا ہے جو فطری ماحول میں سب سے زیادہ طاقت ور ہو، مگر ادب کے شعبے میں طاقت ور محض طاقت کا نام نہیں بلکہ تہذیب کانام ہے ، وہی تحریک اور خیالات زندہ رہ سکتے ہیں جو زیادہ مہذب ہوتے ہیں اور سماجی اقدار کے مطابق ہوتے ہیں اور بدلتے ہوئے سماجی معیار کا ساتھ بھی دیتے ہیں اس لیے نرسلوں کے جنگل پر ہمیں تشویش نہیں ہے ادب خود کتر بیونت کرتا رہتا ہے اور مہذب تحریکیں اور نظریات باقی رہتے ہیں ۔ اللہ باقی بس۔۔۔ ۔

م۔م۔مغل :نئے لکھنے والوں کے لیے فرمائیے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کن باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے ؟؟

نّیر ندیم :نئے لکھنے والوں کو خود اپنی ذات سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

Tuesday, December 13, 2011

خلجان سپردِ قرطاس ------ میری ڈائری کا ایک ورق

:کتھارسس:
آج نہ میں آیا ہوں نہ میرا بھوت نہ میرا ہمزاد۔۔۔ ۔

میں ایک خالی آدمی ہوں خالی گھر کی طرح جو ۔۔سائیں سائیں کرتا ہے۔۔

جو، رو نہیں سکتا۔۔ جس کا سینہ چھلنی بھی ہوجائے
 تو سانس کی دھونکنی چلتی رہتی ہے۔۔۔ 
میں ان لوگوں میں سے ہوں جو شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں ۔۔
جو ہزاروں الفاظ کے مرقع سے اپنے لیے صرف دکھ کشید کرتے ہیں۔۔
میں وہ ہوں جو سینے کے جہنم کو بجھنے اس لیے نہیں دیتا
کہ اس آگ کی لذّت ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔۔
میں کسی کو بھی ناخن برابر دکھ نہیں دے سکتا مگر دکھ کا اظہار بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔ 
کہ میرے اظہار سے میرا داخلی وجود کھوکھلا نہ ہوجائے ۔۔۔ 
میں معاشرت کے قابل کبھی نہ رہا تھا نہ اس منصب کا اہل ہوسکتا ہوں۔۔
مجھ ایسے کے لیے باہر کا شور اندر کے شور سے ملنا بھی کفر ہے۔۔
میں اسے شرکِ کیفیّت سمجھتا ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔۔
میرے نزدیک کشیدہ خاطر ہونا اور کبیدہ خاطر ہونا ایک ہی بات ہے ۔۔
میں اپنے ہمزاد سے گھبرا جاتا ہوں اس کا سینہ بھی میری طرح چھلنی ہے۔۔۔ 
میں اپنے ہونے کے جواز سے یکلخت محروم بھی ہوں۔۔۔ 
اور اسی جواز کے سائے میں جینا بھی چاہتا ہوں۔۔۔ 
میں دکھوں کو پھول سے عبارت کرتا ہوں اور خوشی کو کانٹوں سے۔۔۔ 
میں ایک شاعر ہوں تیسرے درجے کا سہی مگر
 میں سمجھتا تھا کہ لفظ کیفیات کے آئنہ دار ہوتے ہیں۔۔
میں آج اپنے جہل کا اعتراف کرتا ہوں کہ لفظ محض فضلہ ہوتے ہیں ۔ ۔۔
ان کی کوئی حقیقت کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔۔۔ 
میں خود کو بہت مضبوط خیال کرتا تھا۔۔۔ 
مگر یہ میری خام خیالی ہی تھی ۔۔۔ 
میں بھی ٹوٹ جاتا ہوں ۔۔
میں بھی چٹخ جاتا ہوں۔
میں بھی درک جاتا ہوں۔۔۔ 



میں اس شعر کی طرح ہوں:


باہر سے جا ملا مرے اندر کا انتشار !!

اپنے خلاف میں نے بھی پتھر اٹھا لی
(شاعر کا نام ذہن سے محو ہے)

مورخہ: 13 دسمبر 2011 سہ پہر

Tuesday, October 25, 2011

”خواب اور تجربے“ ۔۔ از شاہد حمید

معاملہ ہے جو درپیش‘ہے وہ پیشِ نظر
کوئی مثال نہیں دوسری مگر ہے بھی


یہ وہ زمانہ ہے کہ اپنے احوالِ ناگفتہ بہ پر شکوہ سنج زمانہ بھر ہے۔ زمانہ معاشرے یا معاشروں کے اجتماعی وجودوں سے متشکل ہوتا ہے۔ آسانی سے یہ بات اِس طرح بھی قابلِ فہم کہی جا سکتی ہے کہ گویا ہر معاشرے کا ہر فرد شکوہ سنجی کی تصویرِ فردِ عمل بنا ہُوا ہے۔ یہ زمانہ کس کا ہے، یہ ہمارا زمانہ ہے یعنی گذشتہ زمانوں کا جدید تر زمانہ موجودہ زمانہ۔ موجودہ زمانہ منافقانہ روش کا زمانہ ہے، بے حسی کا زمانہ ہے، ابن الوقتی کا زمانہ ہے، جدید تر سائنسی ایجادات و اختراعات کی بے کراں اور بے کنار فرادانی کے باوجود اور تسخیرِ کائنات کی زمینی و آسمانی صداقتوں کی کُھلی نشانیوں کے باوجود بد حالی، غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی بد اعمالیوں کی یلغار کا زمانہ ہے، بے چہرگی کا زمانہ ہے۔ زمانہ ہم سے ہے اور ہم زمانے سے ہیں تو پھر اپنے حال پر صرف اور صرف شکوہ سنجی اور نوحہ گری کا جواز کیا معنی رکھتا ہے۔ بہ ہر صورت شکوہ سنجی اور نوحہ گری اگر کوئی ہمارے لئے زینتِ خاص کا درجہ رکھتی ہے تو اِس زینتِ خاص کی زیبائی کے لئے گردن و دوش کسی جہانِ دگر کی مخلوقِ نامانوس و ناشنا سا کے نام کرنا عقلی، منطقی اور حقیقی فعل کے مترادف کہلایا جا سکتا ہے، ہر گز نہیں۔ قریباً سارے غیر تخلیقی وجود (عامتہ الناس) اپنی اپنی سطح پر ناآسودہ حالی، بے یقینی اور بے اعتباری کا نوحہ پڑھ رہے ہیں اور قریباً تمام تخلیقی و غیر معمولی وجود خلاقانہ جوہرِ بے اختیار و اختیار کی رو میں اپنے اپنے علم، خیال، مشاہدہ اور تجربے سے گزرتے ہو۔ خانماں برباد احوالِ زندگی کی اپنی اپنی اظہاری مثالیہ میں زندہ ہیں۔ زندہ ہیں بھی کہ نہیں، یہ قضیہ الگ ہے۔ ہمارا زمانہ تیز رفتار و بے لحاظ چال کا زمانہ ہے، ٹھہر کر سوچنے اور غور کرنے کی فرصت کسے میسر ہے یا کون تفکر و ارتکاز کی عرق ریز اور جان لیوا تنہائی کو پیہم اپنے وجود پر اُتارنے کے گناہِ بے لذّت مثال تجربے سے گزر رہا ہے۔ انسانی تاریخ کے سر سری مطالعے سے یہ نکتہ پوری صراحت سے نہ سہی، فکری تاثر سے بھی قابلِ فہم ہے کہ بامعنی زندگی نظم و ترتیب کے حُسن کار اساسی نظری رویّوں سے ظہور کرتی ہے اور اس کے لئے عام فرد کا کردار عمومی ہونے کے باوجود بہ لحاظ معاشرتی فرد اہم کڑی متصور کیا جاتا ہے، کجا کہ تخلیقی و غیر معمولی افراد کی اہمیت و افادیت، غیر اہمیت و غیر افادیت سے مس ہو جائے تو خلاءکی ہیبت ناکیوں کے حشر ساماں احساس سے بڑا المیہ روئے زمین پر اور کیا برپا ہو گا۔ سو ہم ابھی مکمل طور پر پاؤں اکھڑنے والی حالت کو نہیں پہنچے، ہماری تباہی آدھے راستے پر ہے، زمین پر ابھی ہمارا دم پوری طرح نہیں ٹوٹا۔ چاروں طرف گرد ہی گرد ہے مگر یہ گرد ہماری ہی عجیب ہمہ ہمی کی ہے، خوشی کی نہیں باطنی غم و غصّہ لہر کی ہے، اِس لہر کے دوش پر بہنے کی ہے، خارجی منظروں کو مصنوعی خوب صورتیاں دینے کی ہے، عالمِ روح کو برباد کرنے کی ہے، فطری مناظر سے گریز پائی کی ہے، فطری جذبوں، محسوسات اور جذبات کے تہذیبی اظہار سے خوف زدگی کی ہے۔ سطحی اور اُتھلی خواہشات کی تکمیل کے لئے ایک دوسرے کو پاو ¿ں تلے کچل کے گزر جانے کی ہے، فردیت کے بے سمت جنون کی ہے، انفرادیت کی بے مہار بالا دستی کی ہے، حاکمیت کے خوابِ بے جا کی ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں کا یہی حال ہے۔ تصورِ خیرِ اعلیٰ کے بغیر زندگی کرنا یا زندگی بسر کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے اندھیرے میں روشنی سے جُدا ہو کر سفر طے کیا جائے۔ پابرہنہ خیال و خوابِ اصل کی مسافت اور قیام کے عذاب اِس سے ماسوا ہیں۔

اِس عہدِ نا پُرسان و کم اعتبار کے ایک جدید فکری، نظری و تخلیقی میلانات و رجحانات کے نمائندہ شاعرِ معتبر اور مثالیہ تخلیقی تنقید نگار جاذب قریشی صاحب کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”خواب اور تجربے“ میرے پیشِ نظر ہے۔ جاذب صاحب کی دو برسوں میں مسلسل یہ تیسری کتاب ہے۔ مجموعی طور پر اِن کی تنقیدی کتابوں کی کل تعداد آٹھ بنتی ہے۔

آدمی جتنی بڑی سطح کی شخصی آزادی اور تشخصِ ذات کا حق چاہتا ہے اُتنی ہی بڑی سطح کی سماجی و معاشرتی، قومی و عالمی آداب و اخلاق و فرائض کی پابندیاں اختیار کرنے کے بعد ہی شخصی آزادی و تشخصِ ذات کی بڑی اور نمایاں سطح کے خواب کی تعبیر و حقیقت قابلِ تقلید و رشک آمیز حیثیت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ انسانی زندگی اپنی تاریخ میں ایسی روشن مثالوں سے خالی نہیں۔

جاذب صاحب کے نام اور کام سے آگاہی کا زمانہ میرے لئے ۷۳ برسوں پر محیط ہے۔ اِدھر گیارہ برس ہمارے درمیان شعر و ادب اور سلسلہ ¿ مطبوعات کی بنیاد پر مختلف النوع تجربات سے آراستہ گزرے ہیں۔ دیرینہ وابستگانِ ادب جاذب صاحب کو ۱۹۵۳ءسے شاعرانہ احوال میں دیکھتے آ رہے ہیں اور ۱۹۸۰ءکی دھائی کے اوّلین برسوں میں جاذب صاحب تخلیقی تنقید نگار کی حیثیت سے متعارف ہونے والے جاذب صاحب کی کی جدید تنقید و شاعری کی مطبوعہ کتب کا سلسلہ پھر ایک سیلِ نور کی طرح اپنے اعتبار، نفاذ و حصار کے دوش پر قومی و عالمی سرحدوں کو چُھوتا ہُوا اِس لمحے تک آگیا ہے۔

حقیقی اور سچّی گواہی، حقیقی اور سچّی آگاہی سے پیدا ہوتی ہے۔ غالب جیسے نابغہ روز گار و عظیم المرتبت جدید شاعر کی فکری و نظری بے کنار معنوی وسعتوں کے گہرے اثرات اور دیگر اردو زبان کے اہم نمائندہ شعراءو ادبا کے قدر بار تخلیقی کاموں کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہد کے خواص و عوام پر اپنی موجودی کا احساس اُجاگر کرنے میں جاذب صاحب کی زندگی بے رائیگاں جہد و عمل سے عبارت نظر آتی ہے۔ جاذب صاحب کی زندگی ایسی طویل ریاضتی داستان ہے کہ جس کا کوئی گوشہ صاحبانِ چشم و بصیرت سے کبھی مخفی نہیں رہا۔ جاذب صاحب پر گذشتہ و حال کے نہایت قابلِ ذکر نا قدین و مشاہیرِ ادب کی گراں مایہ زبانی و تحریری آراءصفحاتِ مطبوعات پر اور تقریباتی فضاو ¿ں میں یاد گار ہو گئی ہیں اور ابھی سیلِ نور کی طرح یہ سلسلہ تھما نہیں کہ زندہ تخلیقی وجود کا ہر لمحہ نقشِ امکانِ تازہ سے پیوستہ گزرتا ہے، جس کی مثال ”خواب اور تجربے“ کی یہ نئی کتابی شکل ہے۔

”خواب اور تجربے“ جاذب صاحب کی تخلیقی شخصیت کے مختلف الجہات معنوی تاثیر انگیز تفہیمی استعارے ہی نہیں بلکہ اُن کی عملی زندگی کے وہ حقیقی کلیے ہیں کہ جو جاذب صاحب کو بہ ذاتِ خود بے انت راہ و سفرِ تخلیق پر تازہ دم رکھتے ہیں۔

”خواب اور تجربے“ کے تین ابواب ہیں۔ ”سیّارے“، ”عکس“ اور ”شعاعیں“۔ تادیر اِن عنوانات میں پنہاں اختصاصی اور شناخت کے بے عیب دائروں کے رنگوں، منظروں اور احوال کو تجزیاتی لَو کی روشنی میں محسوس کرتا رہا کہ سچائی‘ تہذیب سے آمیز ہو کر فرد کی خلّاقانہ اظہاری انفرادیت کو کس نزاکت، کس احتیاط اور کس سلیقے سے پیش کرتی ہے۔

”خواب اور تجربے“ کے ابتدائی باب ”سیّارے“ کے اوّلین تین مضامین کے نقشِ تحریر بننے کے دوران جاذب صاحب سے کئی بار نشستیں ہوئیں‘ سماعتی دھیان کی یک سوئی بھی اہم تھی کہ اب کے تجرباتی تنقید نگاری کے حوالے سے جو مرحلہ جاذب صاحب کو درپیش رہا‘ وہ خالصتاً ادبی دیانت اور تقاضا ہائے استحقاق کی رُوحِ اعتبار کی اعلیٰ تر مثالوں میں رکھنے والا قابلِ ذکر وقوع پزیر مرحلہ تھا۔ میرے خیال میں جاذب صاحب کے بیشتر تنقیدی مضامین کسی نہ کسی ناگزیر صورتِ حال سے نتھی ہو کر یا مَس ہو کر معرضِ وجود میں آئے ہیں۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ اہم اور صاحبانِ استحقاق و توجہ طلب شعراءو ادباءپر اپنی حقیقی رائے اور تاثّری وفور کو بِلا اشاعتی مجبوری‘ بِلا تقریباتی کشش اور بِلا غرض و شہرت طلبی تحریری پیراہن عطا کیا جائے۔ اِس کتاب میں شامل کچھ مضامینِ ناقدانہ شاذ و نادر وقوع پزیر قابلِ تقلید اصل تخلیقی رویے کے ہی آئینہ دار ہیں۔

جاذب صاحب کا ابتدائی زمانہ ¿ تنقید نگاری نمایاں اور اہم تخلیق پیش قدم حلقہء قدر شناس کی ہمرہی سے منور تھا کہ جب جاذب صاحب نے اپنے اندرون کے تحرّکِ بے اختیار و بے ساختہ کی رَو میں خیال و تحریر اپنے نئے اظہاری ڈھب پر سمت آشنا کیا۔ معروضی و سماجی اعتبار سے پھر اُس کے بعد ایک اور نوع کا خلاءاِن کا رہ گزار بنا‘ اِس خلائے بے اعتبار میں مسلسل اور متواتر اَنتھک تنقیدی نگاری کی مسافرانہ ہوائے خیالِ نو کی رواں خوش قدم رفتار‘ حیات و کائنات کی ہر وادی ہر گھاٹی کے ظاہر و پوشیدہ منظروں کو جاذب صاحب کے علم و مشاہدہ و تجربہ و تخلیق کا حصّہ بناتی چلی گئی۔ جاذب صاحب کا خلّاقانہ جوہر تنقید کے ساتھ شاعری میں بھی ماضی و حال و مستقبل کے نقشِ تابندہ بناتا رہا ہے۔ سو مقدار و معیار کا یہ پیکرِ خوش نظر تخلیقی وجود پچاس سال سے زائد ادبی قد و قامت کی بلندی و برتری کو تقدیر کرتا ہوا ہمارے درمیان اب بھی نئے نئے طرز راستوں کی خواب و صورت گری کے مثالیہ کی طرح موجود ہے۔

مَیں اِس لمحے دانستہ اپنے معیارات و میلانات سے گندھے نظریات و افکار کے اظہار سے گریز برت رہا ہوں‘ ایسا نہیں ہے بلکہ جاذب صاحب کی شخصیت اور اِن کی اِس نئی کتابِ تنقید ”خواب اور تجربے“ کے حصار سے باہر قدم رکھنا ابن الوقت رویّہ تو ہو سکتا ہے‘ ادبی دیانت پر منتج نہیں کیا جا سکتا۔ سو اِس عمل کو حدِّ ادب و اختیارِ اصل کی نسبت سے دیکھنا اور محسوس کرنا نہ صرف میری ذمّہ داری ہے بلکہ فریضہ بھی کہ ”خواب اور تجربے“ کو مَیں اِس عہد کے حقیقی تخلیق کار کا نمائندہ تخلیقی تنقیدی کام سمجھتا ہوں۔

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
مُنہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
(میر)

بہ قول ساقی فاروقی ”جاذب! تم نے شاعری اور تنقید دونوں میں زبان و بیان کے کلیشے ہی کو نہیں توڑا بلکہ خیال و تجربے کے کلیشے کو بھی توڑا ہے۔“ اب اِس مرحلے پر میرے خیال میں ایک اضافت کے ساتھ یہ کہنا زیادہ موزوں رہے گا کہ ”خواب“ کے روایتی اظہاری کلیشے پر بھی جاذب صاحب نے کاری ضرب لگا کر اپنے سفرِ تخلیق میں خواب کی ایک اور نئی سمت کے تفہیمی امکانات کا دریچہ ہم پروا کر دیا ہے۔ مَیں اکثر جاذب صاحب  کے ساتھ مکالماتی فضا میں رہتا ہوں‘ مکالماتی دورانیہء وقت کبھی کبھی طوالت پر آیا ہے‘ قدم بہ قدم مسافتِ ہم رہی جاری رہنے اور میسّر خالص احوال سے دل کو تسلی رہتی ہے کہ جو بات آج مکمل نہیں ہوئی‘ اُس کے لئے اگلا امکانی لمحہ نتیجہ خیزی ضرور عطا کرے گا۔ ایک بات جو مَیں اِن سے بارہا کہہ چکا ہوں‘ اُسے یہاں تحریر کرنے کا حقیقی جواز بھی ”خواب اور تجربے“ کی کلیدِ تفہیم کی رَو سے اب زیادہ با معنی ہو گیا ہے یعنی جاذب قریشی کی تخلیقی تنقید نگاری اور ان کی جدید و منفرد شاعری کی لفظیاتِ خاص اور اظہاری پرتوں سے گرہ کشائی کا وہ کون سا وقت ہو گا اور وہ کون لوگ ہوں گے جو”پہان“، ”عکسِ شکستہ“، ”اُجلی آوازیں“، شیشے کا درخت“، ”نیند کا ریشم“، ”آشوبِ جاں“، ”شناسائی“، ”جھرنے“، ”آنکھ اور چراغ“، ”دوسرے کنارے تک“، ”میں نے یہ جانا“، ”شاعری اور تہذیب“، ”تخلیقی آواز“، اور اب ”خواب اور تجربے“ کے تخلیقی اظہاری رویّوں کو بے عیب اور بے داغ خیال کی روشنی میں دیکھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ یوں تو ایک گہری اور بڑی سطح سے آمیز بنیادی مرحلہ ءاعتراف و سپاس و خراج و تحسین کی کتابی صورت ”گواہی میرے عہد کی“ میں طے ہو چکا ہے۔ اصل اور مسلسل اعتراف کے حقیقی مرحلے کئی دائرے بناتے ہوئے ابھی اور گزریں گے۔ جاذب قریشی صاحب کی تخلیقی سچّائی سے معمور ”خواب اور تجربے“ میں اظہارِ ذات کی راہ ہم سب پر کُھلی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ کتاب رہ روانِ سخنِ عصر کا ہاتھ تھام کر منزل آشنا راہِ مسافتِ خیال کے معجز نُما موسمِ تازہ کی نیرنگیوں تک لے جانے کی بھر پور قوت و صلاحیت رکھتی ہے۔